دہلی و اسلام آباد کے زخم: پس ِ پردہ کون ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پچھلے دو روزہ واقعات نے جنوبی ایشیا کو ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا کر دیا ہے جہاں ہر واقعہ محض ایک بم یا شعلہ نہیں بلکہ وسیع الجہت سیاسی، عسکری اور سفارتی گردشوں کا نتیجہ بنتا محسوس ہوتا ہے۔ 10 نومبر بروز پیر نئی دہلی کے لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب کار دھماکے میں کئی شہری ہلاک ہو گئے، اور اس کے اگلے ہی دن 11 نومبر کو اسلام آباد کے ضلعِ کچہری کے قریب ہونے والے دھماکے میں متعدد افراد شہید و زخمی ہوئے یہ واقعات وقت، مقام اور نوعیت کے اعتبار سے بیک وقت وقوع پذیر ہو کر نہ صرف دونوں دارالحکومتوں کے عوام میں خوف و اضطراب پیدا کر رہے ہیں بلکہ خطے کی خراب ہوتی ہوئی سلامتی کی تصویر کو بھی واضح کر رہے ہیں۔ پہلا سوال جو ہر ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ کس کا ہاتھ ہے؟ ابتدائی انٹیلی جنس اور میڈیا رپورٹس میں اسلام آباد دھماکے سے قبل افغانستان سے مشابہ نوعیت کی سوشل میڈیا پوسٹس کا حوالہ دیا گیا بعض اکاؤنٹس پر ’Coming soon Islamabad‘ جیسے پیغامات منظر عام پر آئے، اور مختلف طالبان منسلک آن لائن پروفائلز نے دھمکی آمیز بیانات شایع کیے۔ اسی طرز کی اطلاعات اور تشویش نے پاکستان کی سرکاری قیادت کو اس نتیجے پر پہنچایا کہ واقعہ بیرونی عناصر یا بین الاقوامی روابط رکھنے والی پراکسی نیٹ ورکنگ کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔ تاہم فیکٹ اور الزام عائد کرنا دو الگ عمل ہیں فوجداری تحقیقات، سی سی ٹی وی، فورینزک تجزیہ اور بین الاقوامی انٹیلی جنس تعاون کے بغیر حتمی نتیجہ اخذ کرنا ممکن نہیں۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو پاک بھارت تعلقات میں تشدد و پراکسی مداخلت کا سانچہ نیا نہیں۔ کشمیر، سرحدی جھڑپیں، اور متنازع عسکری حمایت کے الزامات نے کئی بار دونوں ملکوں کو عالمی سطح پر تنائو کے قریب پہنچایا ہے۔ مگر اس بار واقعات کی بیک وقت اور دارالحکومتوں کو ہدف بنائے جانا ایک مختلف اور خطرناک پیغام لیے ہوئے ہے کہ یہ محض علاقائی دہشت گردی کا عمل نہیں بلکہ معلوماتی اور نفسیاتی جنگ کی ایک کڑی بھی ہو سکتی ہے جس کا مقصد عوامی حوصلہ پست کرنا، داخلی سیاسی اجزاء کو کمزور کرنا اور دو ایٹمی قوتوں کے مابین سرد جنگ کو گرم تقابل میں تبدیل کرنا ہے۔ داخلی سیکورٹی کے تناظر میں پاکستان کو فوری طور پر تین سطحی حکمت ِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے کہ؛ ۱۔ شہری سطح پر فوری حفاظتی اقدامات اور عدالتی مراکز، تعلیمی اداروں و عوامی جگہوں کی سخت حفاظت؛ ۲، انٹیلی جنس شیئرنگ کے تقاضے پورے کر کے افغانستان اور دیگر ملکوں کے ساتھ بین الاقوامی تعاون؛ اور ۳۔ دہشت گردی کے بنیادی سبب یعنی عسکریت پسندی کی جڑوں کو ختم کرنے کے لیے طویل المدت سماجی و معاشی اصلاحات۔ صرف عسکری ردعمل ہی محدود کامیابی دلا سکتا ہے؛ اس کے بغیر پائیدار امن ناممکن رہے گا۔
بھارت کے لیے بھی تنبیہ واضح ہے کہ اگرچہ ہر ملک کو اپنے اندرونی سیکورٹی چیلنج درپیش ہوتے ہیں، مگر سرحد پار پراکسیز کے ذریعے اثراندازی یا کسی بھی شکل کی کارروائی خطے کی سلامتی کے لیے تیل پر آگ ڈالنے کے مترادف ہے۔ عالمی برادری نے ماضی میں متعدد مواقع پر اس خطے میں شواہد کی بنیاد پر ثالثی اور تحقیقات کی حمایت کی؛ موجودہ حالات میں شواہد کی شفاف پیشکاری، مشترکہ تحقیقات اور بین الاقوامی تفتیشی میکانزم کی شمولیت ہی تنازعے کو مزید بڑھنے سے روک سکتی ہے۔ معاشی و سماجی اثرات بھی شدت کے ساتھ سامنے آئیں گے۔ خوف و عدم استحکام سرمایہ کاری کو روکے گا، تجارت متاثر ہوگی، اور طویل المدت ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹیں پیدا ہوں گی۔ شہری عوام کا معمولی نقل و حرکت متاثر ہونا، تعلیمی اداروں کا عارضی بند ہونا، اور روزمرہ کی زندگی میں اضافہ شدہ حفاظتی لاگت ایک معاشی بوجھ کے طور پر ظاہر ہو گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر عوامی عزم کمزور پڑا اور خوف غالب آیا تو اس کا ثمر وہی ہوتا ہے جو دہشت گرد چاہتے ہیں کہ سماجی شقاق اور ریاستی کارکردگی میں کمی۔ بین الاقوامی سطح پر صورتحال کا تسلسل خاص طور پر خطرناک ہے کیونکہ دونوں اطراف کے ردعمل میں غلط فہمی یا تندی کسی بھی لمحے عملیاتی محاذ پر بدل سکتی ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کا وجود کسی بھی محاذ آرائی کو محدود نہیں کرتا بلکہ اس کے خطرات کو ناقابل ِ تصور حد تک بڑھا دیتا ہے۔ اس لیے سفارتی چینلوں کو کھلا رکھنا، اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے ذریعے جلد از جلد ثالثی کے راستے تلاش کرنا ضروری ہے تاکہ شورش کو قابو میں لایا جا سکے اور مستقبل میں باہمی اعتماد کے لیے ساختی اقدامات کیے جائیں۔
آخرکار، شواہد اور ذمے داری کی تصدیق کے لیے پیش کیے گئے تمام بیانات اور الزامات کو ایک آزاد، شفاف اور بین الاقوامی شراکت داروں کی موجودگی میں جانچا جانا چاہیے۔ حقائق سامنے آئیں گے تو مناسب قانونی اور سفارتی ردعمل ممکن ہوگا؛ مگر اس سے پہلے جو کام ہر شہری اور ہر ریاستی ادارے کر سکتا ہے وہ ہے ضبط ِ نفس، فوری طبی و امدادی کارروائی، اور وہ اجتماعی کوششیں جن سے دہشت گردی کے جڑواں مسائل عدم روزگار، سرحدی بے قاعدگیاں، اور انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ بصورتِ دیگر، ایک چھوٹی سی چنگاری بڑے پیمانے پر بھڑک سکتی ہے اور دونوں ملکوں کے عوام، خطے کی معیشت اور بین الاقوامی امن بھاری قیمت چکا سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اور بین الاقوامی سکتی ہے کے لیے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔