دین کی طرف رحجان ہوا تو چاہتی تھی کہ آن لائن ڈرامے اور ویڈیوز ڈیلیٹ ہو جائیں، سارہ چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
دین اسلام کی خاطر شوبز سے کنارہ کشی اختیار کرنے والی سابق اداکارہ سارہ چوہدری نے بتایا ہے کہ جب ان کا رحجان دین کی طرف ہوا تو وہ چاہتی تھیں کہ آن لائن موجود ان کے ڈرامے اور ویڈیوز کسی طرح ڈیلیٹ ہو جائیں، تاہم بعد میں انہوں نے اس معاملے کو اللہ پر چھوڑ دیا۔
سارہ چوہدری نے حال ہی میں اسامہ طیب کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنے شوبز کیریئر اور مذہبی سفر کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔
انہوں نے بتایا کہ شوبز انڈسٹری میں قدم رکھنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے والدین کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا چاہتی تھیں، جیسے گھر اور گاڑی وغیرہ۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں شہرت پی ٹی وی کے ڈرامے ’بہلاوا‘ سے ملی، اگرچہ انہوں نے زیادہ پروجیکٹس نہیں کیے، لیکن جتنے بھی کیے وہ سب مشہور ہوئے، ان میں سے چند ڈرامے اب بھی یوٹیوب پر دستیاب ہے، جن کی وجہ سے لوگ انہیں پہچان بھی جاتے ہیں۔
سارہ چوہدری نے بتایا کہ جب ان کا رحجان دین کی طرف ہوا تو وہ چاہتی تھیں کہ آن لائن موجود ان کے ڈرامے اور ویڈیوز کسی طرح ڈیلیٹ ہو جائیں، تاہم بعد میں انہوں نے اس معاملے کو اللہ پر چھوڑ دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے دین میں فرمایا ہے کہ جب کوئی انسان سچے دل سے توبہ کرتا ہے تو اللہ اس کے پچھلے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وہ کسی سے زبردستی ویڈیوز ڈیلیٹ نہیں کروا سکتیں، لیکن انہوں نے شوبز چھوڑنے کے بعد خود اپنے اکاؤنٹس سے اپنی تمام پہلے کی پوسٹ کی گئی ویڈیوز اور تصاویر ڈیلیٹ کر دی تھیں۔
سارہ چوہدری نے اے آر وائی ڈیجیٹل کی تعریف بھی کی، جنہوں نے ان کے دو ڈراموں، جن کی میگا کاسٹ تھی، انہیں یوٹیوب سے ہٹا دیا۔
خیال رہے کہ سارہ چوہدری نے 2001 میں شوبز کیریئر کا آغاز کیا اور 2010 کے اوائل میں شوبز کو خیر باد کہہ دیا تھا، وہ اب شادی شدہ ہیں، پانچ بچوں کی والدہ ہیں اور زیادہ تر وقت مذہبی سرگرمیوں اور دین کے کاموں کے لیے وقف کرتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سارہ چوہدری نے انہوں نے
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔