پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ یہاں بم پھٹتا ہے تو وہ یہ نہیں دیکھتا کہ کون کس پارٹی سے ہے‘ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں سب نے قربانیاں دی ہیں‘ اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ پالیسی اپنائی جائے‘ ہماری کوشش امن کیلئے ہے‘ بند کمروں سے نکل کر سیاستدانوں کیساتھ ملکر فیصلے ہوں گے تو دہشتگردی کا خاتمہ ہوگا۔ خیبر پی کے اسمبلی میں منعقدہ امن جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی نے کہا کہ دہشتگردی کا ناسور پچھلے 20 سال سے صوبے کو کھا رہا ہے۔ ہم امن کی بات کرتے ہیں تو کچھ لوگوں کو برا لگتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جب بند کمروں میں فیصلے ہوتے ہیں تو امن نہیں آتا، اس پالیسی میں اب تبدیلی آنی چاہیے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمیں دوسروں کو عقلمند سمجھ کر فیصلے کرنے ہوں گے، شارٹ ٹرم نہیں بلکہ ’’وَنس فار آل پالیسی‘‘ بنانی ہوگی، خیبر پی کے کے عوام نے امن کے لئے 80 ہزار سے زائد قربانیاں دی ہیں اور ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ صوبے کو اس کا جائز حق دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پی کے کا 6.

14 بلین شیئر بنتا ہے اور نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع کو شامل کرنے کے بعد یہ حصہ 19 فیصد بنتا ہے، مگر ہمیں وہ حصہ نہیں دیا جا رہا۔ وفاقی حکومت ہماری قرض دار ہے، نیٹ ہائیڈل منافع کی مد میں 200 ارب روپے واجب الادا ہیں، ہمیں ہمارا حق دیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے وفاق سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپی کے کیساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک نہ کیا جائے اور تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ صوبے کے حقوق کے لیے متحد ہو جائیں۔ افغانستان سے متعلق گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ افغانستان کیساتھ ہمارے بہت سے مشترکہ اقدار ہیں، ہم پاکستانی ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان تعلقات کو بگاڑا نہ جائے، جنگ ہمیشہ آخری آپشن ہونی چاہیے۔ پاک افغان مذاکرات کو ہم نے خوش آئند قرار دیا ہے، ہم بار بار امن کی بات کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے کچھ لوگوں کو برا لگتا ہے، امن جرگے میں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، مذہبی شخصیات، عمائدین اور پارلیمنٹرینز نے شرکت کی۔ گورنر خیبر پی کے فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ امن و ترقی کے لیے اتحاد ضروری ہے، ہم مل کر نہیں بیٹھیں گے تو مسئلہ کا حل نہیں نکلے گا۔ اگر تمام فریقین ایک ساتھ نہیں بیٹھیں گے تو صوبے اور ملک کے مسائل کا حل ممکن نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ امن، ترقی اور عوامی خوشحالی کے لیے اجتماعی مکالمہ اور باہمی اعتماد ناگزیر ہے۔ سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے مختلف سیاسی جماعتوں اور طبقات کو ایک ہی چھت تلے جمع کیا۔ جب تک صوبائی ‘ وفاقی حکومت اور سکیورٹی ادارے ایک میز پر نہیں بیٹھیں گے‘ دیرپا امن اور پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ نوجوانوں کو انتہا پسندی سے دور رکھنا اور ان کی توانائیوں کو مثبت سمت میں استعمال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے سپیکر خیبرپی کے اسمبلی کو تجویز دی کہ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں ہر سیاسی جماعت کا ایک نمائندہ شامل ہو تاکہ صوبے کے حقوق کے لیے ایک مشترکہ موقف اپنایا جا سکے۔ عوامی نیشنل پارٹی خیبر پی کے کے صدر میاں افتخار حسین کی قیادت میں وفد نے صوبائی اسمبلی میں منعقدہ ’’خیبر پی کے امن جرگہ‘‘ میں شرکت کی۔ وفد میں صوبائی جنرل سیکرٹری حسین شاہ یوسف زئی اور جائنٹ سیکرٹری حامد طوفان شامل تھے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے اراکین صوبائی اسمبلی ارباب محمد عثمان خان، نثار باز، شاہدہ وحید ہوتی اور خدیجہ بی بی بھی موجود تھے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے پارٹی کی نمائندگی پر جرگہ میں تجاویز پیش کیں۔ شدت پسندی اور عسکریت پسندی کو کسی مذہب، زبان یا خطے سے جوڑنا بند کیا جائے کیونکہ یہ تقسیم ہی دراصل بدامنی کی بنیادی وجہ ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عملدرآمد کیا جائے۔ خیبر پی کے اسمبلی میں ہونے والے امن جرگہ میں سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ معاشی اور سیاسی دہشتگردی سے نقصان صوبے کے عوام کا ہو رہا ہے، جو کہ قطعی درست نہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ پاکستان کے ایک اہم مسئلے پر ایک قومی جرگہ بلایا گیا ہے، تمام قائدین کا ایک ساتھ مل بیٹھ کر مسئلے کا حل نکالنا بہترین اقدام ہے۔ دہشتگردی کے خاتمے اور صو بے میں امن کیلئے ملکر کام کر نا ہوگا۔ خیبرپی کے اسمبلی میں ہونے والے امن جرگے کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔ جس میں کہا گیا کہ امن سے متعلق آج تمام پارٹیاں یک آواز ہیں۔ تجاویز پر رات کو بھی بیٹھے تھے اور آج بھی لائحہ عمل تیار کیا۔ آپ سب نے ہمارے دست و بازو مضبوط کیے۔ امن جرگہ متفقہ طورپر ضم اضلاع سمیت صوبے میں جاری دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے صوبائی اسمبلی کو اعتماد میں لیکر ہر قانونی راستہ اپنایا جائے گا۔ امن وامان سے متعلق صوبائی اسمبلی کی متفقہ قراردادوں پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔ صوبے میں پولیس اور سی ٹی ڈی داخلی سلامتی کی قیادت کریں گی، پولیس ضرورت کے مطابق آئینی طور پرباقی اداروں سے معاونت طلب کرسکتی ہے، حکومت صوبے میں امن وامان کی مخدوش صورتحال میں پولیس اور سی ٹی ڈی کو خصوصی مالی معاونت فراہم کرے گی۔ بھتہ خوری اور غیر قانونی محصولات کے خاتمے کیلئے ایک مربوط پالیسی بنائی جائے، صوبائی سطح پر امن کے فورم قائم کیے جائیں جن میں اکثریت غیرسرکاری اراکین کی ہو۔ مقامی حکومتوں کے استحکام اور مالی تحفظ کیلئے آئینی ترمیم کی جائے، صوبائی فنانس کمیشن کو قومی فنانس کمیشن کیساتھ منسلک کیا جائے، امن جرگہ یہ تجویز کرتا ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان تناؤ کو کم کیا جائے اور مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس آئینی مدت کے مطابق بلایا جائے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: صوبائی اسمبلی ا فریدی نے کہا پی کے اسمبلی اسمبلی میں خیبر پی کے نے کہا کہ امن جرگہ کیا جائے امن کی کے لیے

پڑھیں:

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی بھرپور حمایت سے بلوچستان میں دیرپا امن کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں اپنے منطقی انجام تک جاری رہیں گی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا، جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے قومی اتحاد، استحکام اور ثابت قدمی کی اہمیت پر زور دیا۔

فیلڈ مارشل نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے اور یہ صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان کے محب وطن، باصلاحیت، باہمت اور ثابت قدم عوام ہی اس صوبے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا مقصد صوبے کی سماجی اور معاشی ترقی کو یقینی بنانا، عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے تعاون سے بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کی یہی مشترکہ کاوشیں صوبے میں پائیدار امن کی بنیاد بنیں گی۔

انہوں نے اس موقع پر کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشنز پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گے اور یہ کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک بلا تعطل جاری رہیں گی۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کے اتحاد، عزم اور ثابت قدمی کی بدولت ہر قسم کے مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی اور ملکی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی رہیں گی۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن