پاک افغان خارجہ پالیسی میں وفاق صوبے سے مشاورت کرے، پولیس اور سی ٹی ڈی داخلی سلامتی کی قیادت کریں گی: کے پی امن جرگہ کا اعلامیہ WhatsAppFacebookTwitter 0 12 November, 2025 سب نیوز

پشاور(آئی پی ایس )خیبرپختونخوا اسمبلی میں ہونے والے امن جرگے کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔خیبرپختونخوا اسمبلی میں امن جرگہ ہوا جس میں پاکستان تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی سمیت مختلف جماعتوں کے وفود نے شرکت کی۔ امن جرگے کے شرکا کیلئے ریڈ کارپٹ بچھایا گیا، شرکا کا استقبال اسپیکربابرسلیم سواتی اور اپوزیشن لیڈر ڈاکٹرعباد اللہ نے کیا۔ جرگہ کے شرکاگورنرفیصل کریم کنڈی، سابق گورنرغلام علی کوپولیس نیسلامی پیش کی جبکہ سابق وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان کو پولیس کے دستے نے سلامی پیش کی۔

میاں افتخار، سراج الحق، آفتاب شیرپا اور سینیٹرمولاناعطا الرحمان کو بھی گارڈ آف آنرپیش کیاگیا۔جرگے سے وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سمیت سیاسی قائدین نے خطاب کیا۔ اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے امن جرگہ کا اعلامیہ پڑھا اور کہاکہ امن سے متعلق آج تمام پارٹیاں یک آواز ہیں، تجاویز پررات کو بھی بیٹھیتھیاور آج بھی لائحہ عمل تیار کیا، آپ سب نے ہمارے دست و بازو مضبوط کیے۔خیبرپختونخوا اسمبلی امن جرگے کا اعلامیہ 15نکات کا فائنل ڈرافٹ جیونیوزکو موصول ہوگیا اور اس پر اسپیکر سمیت 21 جرگہ ممبران کے دستخط موجود ہیں۔

اعلامیے کے مطابق امن جرگہ متفقہ طورپرضم اضلاع سمیت صوبے میں جاری دہشت گردی کی مذمت کرتاہے اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے صوبائی اسمبلی کواعتماد میں لیکر ہر قانونی راستہ اپنایا جائے گا۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امن وامان سے متعلق صوبائی اسمبلی کی متفقہ قراردادوں پر فوری عمل درآمد کیاجائے۔اعلامیے کے مطابق صوبے میں پولیس اور سی ٹی ڈی داخلی سلامتی کی قیادت کریں گی، پولیس ضرورت کے مطابق آئینی طور پرباقی اداروں سے معاونت طلب کرسکتی ہے، حکومت صوبے میں امن وامان کی مخدوش صورتحال میں پولیس اور سی ٹی ڈی کوخصوصی مالی معاونت فراہم کرے گی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بھتہ خوری اور غیر قانونی محصولات کے خاتمے کیلئے ایک مربوط پالیسی بنائی جائے، صوبائی سطح پرامن کے فورم قائم کییجائیں جن میں اکثریت غیرسرکاری اراکین کی ہو۔جرگے کے اعلامیے کے مطابق مقامی حکومتوں کے استحکام اور مالی تحفظ کیلئے آئینی ترمیم کی جائے، صوبائی فنانس کمیشن کو قومی فنانس کمیشن کیساتھ منسلک کیا جائے، امن جرگہ یہ تجویز کرتا ہیکہ وفاق اور صوبائی حکومت کیدرمیان تنا کو کم کیا جائے اور مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس آئینی مدت کے مطابق بلایا جائے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جرگہ یہ تجویزکرتا ہے صوبائی حکومت اوراسمبلی صوبائی ایکشن پلان مرتب کرے اور پاک افغان بارڈر کو تجارت کے لیے فی الفور کھولا جائے، پاک افغان خارجہ پالیسی میں وفاق صوبائی حکومت سیمشاورت کرے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسری لنکن ٹیم دورہ پاکستان ادھورا چھوڑ کر واپس جا رہی ہے : ترجمان سری لنکا کرکٹ ٹیم سری لنکن ٹیم دورہ پاکستان ادھورا چھوڑ کر واپس جا رہی ہے : ترجمان سری لنکا کرکٹ ٹیم حکومت کا جینا حرام کردیں گے، اپوزیشن کا احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان وزیر داخلہ محسن نقوی کی سری لنکن ہائی کمشنر،ٹیم منیجرسے ملاقات،مہمان ٹیم دورہ مکمل کرے گی آئینی عدالت کا قیام میثاق جمہوریت کی عروج ہے، آج بے نظیر کی روح کو بہت تسکین ملے گی، وزیراعظم ڈپٹی کمشنر سی ڈی اے سردار آصف نے C/16 کا ایوارڈ سنا دیا ، 1078 پلاٹس کے حقدار، 47 حویلیوں کا رقبہ کم قرار.

.. خیبرپختونخوا اور ضم اضلاع میں دہشت گردی کی مذمت ، امن جرگے کا اعلامیہ جاری TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: خیبرپختونخوا اسمبلی پولیس اور سی ٹی ڈی کا اعلامیہ پاک افغان امن جرگہ امن جرگے کے مطابق

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال