27ویں ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 6 کے کلاز 2 میں تبدیلی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
—فائل فوٹو
27ویں ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 6 کے کلاز 2 میں تبدیلی کا فیصلہ کر لیا گیا۔
کلاز 2 کے تحت سنگین غداری کا عمل کسی بھی عدالت کے ذریعے جائز قرار نہیں دیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق آرٹیکل 6 کے کلاز 2 میں ہائی کورٹ، سپریم کورٹ کے ساتھ آئینی عدالت کے لفظ کا اضافہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے محمود خان اچکزئی نے 27ویں ترمیم کے بل کی کاپی پھاڑ دی 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کیلئے قومی اسمبلی کا اجلاس جاری27ویں آئینی ترمیم میں جوڈیشری سے متعلق مزید ترمیم کا امکان ہے، آرٹیکل 6 میں آئین معطل کرنے اور اس سے کھلواڑ کو سنگین غداری قرار دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم میں کوئی تیکنیکی غلطی نہیں، قومی اسمبلی کے ایوان نے دو تین اچھی تجاویز دی ہیں اس پر بات ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر قومی اسمبلی میں کسی قسم کی ترمیم منظور ہوئی تو اس کی سینیٹ سے منظوری لی جائے گی، آج قومی اسمبلی میں 27 ویں ترمیم پر ووٹنگ ہو جائے گی۔
دوسری جانب وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی آج طلب کر لیا گیا ہے۔ جس میں 27ویں آئینی ترمیم میں جوڈیشری سے متعلق مزید ترمیم کا امکان ہے جبکہ اجلاس میں امن و امان کی صورتِ حال اور دیگر امور پر غور ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: 27ویں آئینی ترمیم قومی اسمبلی آرٹیکل 6
پڑھیں:
اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات کار میں توسیع کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، یہ فیصلہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونے والے کفایت شعاری سے متعلق اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں طے پایا کہ اسلام آباد میں دکانیں اور شاپنگ مالز اب رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ شادی ہالز کو رات 10 بجے تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔
اسی طرح ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں بھی نرمی کرتے ہوئے انہیں رات 11 بجے تک کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز کو مقررہ اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ فارمیسیوں، اسپتالوں اور پیٹرول پمپس کو ان پابندیوں سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا اور وہ معمول کے مطابق اپنی خدمات جاری رکھ سکیں گے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق نئے اوقات کار کا مقصد توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے، جبکہ اس فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق مزید ہدایات جلد جاری کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں۔ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟