پاک فوج کا آپریشن دنیا کی ملٹری اکیڈمیز میں پڑھایا جائے گا، عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پاک فوج کا وانا کیڈٹ کالج میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن عالمی سطح پر اس طرح کی کارروائیوں کے لیے ایک نمونہ بن جائے گا۔
انہوں نے اس آپریشن کی جرات اور حکمت عملی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپریشن دنیا کی ملٹری اکیڈمیز میں پڑھایا جائے گا۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پاک فوج نے وانا کیڈٹ کالج کے طلباء کو بے پناہ بہادری سے بچایا اور اس آپریشن میں نہ صرف طالب علموں کی جانیں بچائیں بلکہ کسی بڑے نقصان کو بھی ہونے سے بچایا۔
ان کا کہنا تھا کہ خدانخواستہ اگر یہ آپریشن کامیاب نہ ہوتا تو 500 سے 700 طلباء کا ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا تھا۔
عطا تارڑ نے مزید کہا کہ دہشت گرد آسان اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں اور حکومت دہشت گردوں کا خاتمہ کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھے گی۔
اس آپریشن کے ذریعے دہشت گردوں کی کارروائیوں کا قلع قمع کرنے کے عزم کو ظاہر کیا گیا ہے، اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم اپنی سرزمین کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے موقف کو عالمی فورمز اور دوست ممالک کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔
پاکستان نے بھارت اور افغانستان کے خلاف جنگوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں، اور ہمارا ایک ہی مطالبہ رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔
انہوں نے پاک فوج کے افسران اور جوانوں کی جرات کی بھرپور تعریف کی اور کہا کہ اس آپریشن نے نہ صرف پاکستان کی فوج کی صلاحیتوں کو ثابت کیا بلکہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے حکومت کا عزم بھی واضح کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عطا تارڑ جائے گا کے خلاف پاک فوج کے لیے
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔