کراچی کے مستقبل کیلئے ایم کیو ایم رکن اسمبلی کی اہم تجویز
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے رکن قومی اسمبلی ارشد وہرا نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران کراچی شہر کو وفاق کے زیر انتظام لانے کا مطالبہ کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ شہر کے بنیادی مسائل حل نہیں ہو رہے، جیسے انڈر پاس اور دیگر ترقیاتی کاموں میں کراچی کو غیر ضروری تاخیر کا سامنا ہے۔ ارشد وہرا نے زور دیا کہ اگر کراچی وفاق کے ماتحت آ جائے تو شہر کے انفراسٹرکچر اور عوامی سہولیات بہتر انداز میں فراہم کی جا سکیں گی، کیونکہ اسلام آباد میں تین ماہ میں بن جانے والے منصوبے کراچی میں کئی سال لیتے ہیں۔
اسی اجلاس میں ایم کیو ایم پاکستان کے فاروق ستار نے کہا کہ بڑی سیاسی جماعتوں کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا ہے، اور قانون سازی کا مقصد کبھی بھی عوام کی خدمت نہیں رہا، جو ماضی کا تلخ حقیقت ہے۔
یہ بیان کراچی میں شہری سہولیات، انتظامی کارکردگی اور وفاقی حکومت کے کردار کے حوالے سے جاری بحث کو مزید اجاگر کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
جنوبی کوریا(southkorea) میں ایک معروف ریسٹورنٹ کے مالک کے خلاف میٹھے پکوانوں کی سجاوٹ کے لیے چیونٹیاں استعمال کرنے پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کورین استغاثہ نے عدالت سے ریسٹورنٹ کے مالک کو ایک سال قید اور تقریباً 13 ہزار 510 امریکی ڈالر جرمانے کی سزا دینے کی استدعا کی ہے۔
ریسٹورنٹ مالک نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے سوئٹ ڈشز کی ٹاپنگ کے لیے محدود پیمانے پر چیونٹیاں استعمال کیں، اس حوالے سے گاہکوں کو پہلے ہی آگاہ کر دیا جاتا تھا۔
مزیدپڑھیں:ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
تفتیشی حکام کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران امریکا اور تھائی لینڈ سے درآمد کی گئی تقریباً 49 ہزار چیونٹیاں مختلف پکوانوں، خصوصاً میٹھے ڈشز، میں استعمال کی گئیں۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کے موجودہ قوانین کے تحت چیونٹیاں ان 10 کیڑوں میں شامل نہیں ہیں جنہیں انسانی خوراک کے طور پر استعمال کی اجازت حاصل ہے، اسی بنیاد پر ریسٹورنٹ مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
عدالت اس مقدمے کا فیصلہ 2 ستمبر کو سنائے گی، جس کے بعد یہ واضح ہوگا کہ ریسٹورنٹ مالک کو سزا دی جاتی ہے یا نہیں۔