بس سٹاپس پر ٹک شاپس اور سہولیات پراجیکٹ "ایمپاور ہر" میں 10 ٹک شاپس مستحق خواتین کے حوالے
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
سٹی42:بس سٹاپس پر ٹک شاپس اور سہولیات کے پراجیکٹ "ایمپاور ہر" میں اہم پیشرفت، اب تک 10 ٹک شاپس مستحق خواتین کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
منصوبے کے تحت ٹھوکر نیاز بیگ، لبرٹی، ڈونگی گراؤنڈ، حسین چوک، برکت مارکیٹ، کریم مارکیٹ، شوکت خانم، ٹاؤن شپ، وفاقی کالونی اور جناح ہسپتال بس سٹاپس پر ٹک شاپس کا آغاز ہو چکا ہے۔
ٹک شاپس سرخ رنگ سے آراستہ ہیں اور یہاں چائے، جوس، پانی اور سنیکس دستیاب ہوں گے۔ بس سٹاپس پر الیکٹرک واٹر کولر، پنکھے، وائی فائی، لائٹنگ، چارجنگ پوائنٹس اور واش روم جیسی سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔ مردوں اور خواتین کے لیے الگ الگ سیکشنز بنائے گئے ہیں تاکہ مسافروں کو مکمل سہولت فراہم کی جا سکے۔
کیمیکل انجینئرنگ کے ریٹائرڈ پروفیسر ڈاکٹر محمد علی انتقال کرگئے
"ایمپاور ہر" منصوبہ دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا پراجیکٹ ہے اور اس کے تحت کل 25 بس سٹاپس پر ٹک شاپس قائم کی جائیں گی۔ دیگر ٹک شاپس پر کام جاری ہے اور دسمبر تک مکمل تیار ہو جائیں گی۔ٹک شاپس خواتین کے ذریعے چلائی جائیں گی تاکہ خواتین کو معاشی طور پر مضبوط اور بااختیار بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔