سرکاری سکولز میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کورسز متعارف کرائے جائیں : سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے چھٹی جماعت سے سرکاری سکولوں میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی)کورسز متعارف کرانے کی ہدایت کر دی ہے۔ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کو اس سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھانے اور مطلوبہ وسائل ہنگامی بنیادوں پر فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ مستقبل کی معیشت، تعلیم، صحت اور انتظامی نظام میں مصنوعی ذہانت کا کردار مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے، اس لئے سرکاری سکولوں میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کورسز کرائے جائیں۔ نوجوانوں کو اے آئی کی تعلیم دینا دراصل انہیں مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانا ہے، مصنوعی ذہانت کی تعلیم سے نوجوانوں میں تخلیقی سوچ اور عالمی معیار کی مہارتیں پیدا ہوں گی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے ضم اضلاع کے سکولوں میں اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لیے نئی آسامیاں تخلیق کرنے کی ہدایت بھی کر دی۔ سہیل آفریدی نے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ پاس کرنے والے یتیم طلبہ کے لیے مفت اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انصاف فی میل ایجوکیشن کارڈ سے 55 ہزار طالبات مفت تعلیم سے مستفید ہوں گی۔ پروگرام کے تحت صوبے بھر کے 120 کالجز کی طالبات کو سہولت فراہم کی جائے گی۔ منصوبے کے لئے 4.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟