برطانیہ اور کینیڈا نے امریکی جہازوں پر حملوں کیلیے انٹیلی جنس فراہم کرنا بند کر دی
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن اور اوٹاوا نے امریکی فوج کو کیریبین میں مشتبہ منشیات بردار جہازوں کے بارے میں انٹیلی جنس فراہم کرنا روک دیا ہے کیونکہ وہ امریکی ہلاکت خیز حملوں میں شامل ہونا نہیں چاہتے اور ان حملوں کو غیر قانونی سمجھتے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے امریکی کو کئی سالوں تک مشتبہ جہازوں کی معلومات فراہم کی تاکہ امریکا کوسٹ گارڈ انہیں روک سکے، عملے کو حراست میں لے سکے اور منشیات ضبط کر سکے ، ستمبر سے امریکی فوج نے جہازوں پر ہلاکت خیز حملے شروع کیے، جس کے بعد برطانیہ کو خدشہ ہوا کہ ان کی فراہم کردہ معلومات حملوں کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔ اب تک 76 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے بھی کہا کہ یہ حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور “بلا مقدمہ قتل” کے مترادف ہیں۔ برطانیہ اس تشخیص سے متفق ہے۔
کینیڈا نے بھی امریکی فوجی حملوں سے فاصلے اختیار کر لیا ہے، حالانکہ وہ امریکی کوسٹ گارڈ کے ساتھ منشیات کی روک تھام کے آپریشنز میں تعاون جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن اس نے واضح کر دیا ہے کہ اس کی انٹیلی جنس امریکی ہلاکت خیز حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔
یہ فیصلے امریکی اور اس کے قریبی اتحادیوں کے تعلقات میں اہم فرق کو ظاہر کرتے ہیں اور لاطینی امریکہ میں امریکی فوجی مہم کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔