’’وہ خدا ہو گئے دیکھتے دیکھتے‘‘
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ملک بھر میں آج کل آئین میں ستائیسویں ترمیم کے بڑے چرچے ہیں خصوصاً ارباب حل و عقد اس ضمن میں اپنی اپنی سوچ اور فہم کے مطابق اپنا نقطہ ٔ نظر پیش کر رہے ہیں سادہ لوح عوام کو اس میں قطعاً اس لیے کوئی دلچسپی نہیں کے انہیں علم ہے کے ملکی آئین میں ان کے تحفظ سے متعلق کسی ترمیم کا کوئی امکان نا پہلے کبھی تھا اور نہ آئندہ ہے وہ بے چارے اس بات پر پہلے ہی راضی ہیں کہ ان کے سر پر جوتے مارنے والے اب بھی بہت کم ہیں ان کا مطالبہ ہے کہ ان جوتے مارنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے تاکہ قطار میں کھڑے ان کا قیمتی وقت بچ جائے اور وہ اس وقت کو اپنے کسب معاش میں لگا سکیں جو کہ عزت کی ساتھ انہیں دو وقت کی روٹی مہیا کر سکے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ آئین کا اصل معنی اور اس کی روح کیا ہے؟
لغت میں آئین کے معنی قانون، اصول اور ضابطہ ہے اس کا دوسرا مطلب رسم و رواج اور دستور العمل بھی لیا جاتا ہے، عام اور بالکل سادہ زبان میں اس کا معنی طور طریقہ مذہب اور شریعت کا طریقہ بھی ہوتا ہے۔ لیکن کسی ملک کے آئین کا مطلب وہ بنیادی قوانین اور ضابطے ہیں جو ریاست اور عوام کے درمیان ان کے حقوق و فرائض کی تقسیم کرتے ہیں جیسے حق و انصاف، مساوات، جان مال کا تحفظ، صحت و روزی روزگار کا بندو بست سازگار ماحول ٹیکس کے بدلے انفرا اسٹرکچر، ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولتیں وغیرہ کو اوپر سے نیچے تک بناء تفریق و تعصب، رنگ نسل، جائے پیدائش، مذہب، معاشرت، ذات پات، جنس اور لسان سے ہٹ کر ملک میں بسنے والے ہر شہری تک پہنچانا ہے اور پھر انہی حقوق و فرائض کی تقسیم کی بنیاد پر ہر دو طرف حکومت و عوام اور ہر خاص و عام کی شخصیت اور زندگی کی ترقی کو یقینی بنایا جاتا ہے کسی ملک کا متوازن آئین اس ملک کی ترقی اور خوشحالی کا باعث بنتا ہے ہر شخص کو اپنے حقوق و فرائض کی بجا آوری کا طریقہ اور سلیقہ سکھاتا ہے۔ روز روز کے احتجاج اور دھرنوں کو روکتا ہے۔ انتشار اور بغاوتوں کو فرو کرنے کا سبب بنتا ہے۔ بد امنی کی بیخ کنی اور ظلم و جبر کے نظام کا خاتمہ کرتا ہے۔
آئین ایک ایسی دستاویز کا نام ہے جو حکومتوں کے اختیارات کو محدود اور شہریوں کے استحقاق کو وسیع کرتا ہے اس لیے کے جمہوریت میں حکومتیں انہی شہریوں کے رائے سے قائم ہوتی ہیں لہٰذا ان کی رائے کا احترام حکومتوں کی ذمے داری ہوتی ہے نہ کہ مطلق العنانی۔ آئین کی سب سے اہم شق ہر خاص و عام کو قانون اور ضابطے کے مطابق آزادی اور مساوات فراہم کرنا ہے جس کا واضح مطلب ہر شخص چیف ایگزیکٹیو سے لیکر عام مزدور ہو کہ دہقان سب کو بقول شاعر ’’ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز؍ نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز‘‘۔ اور جب کسی ملک کا نام ہی اسلامی جمہوریہ ہو تو پھر وہاں قرآن و سنت کے سوا کسی آئین کی کوئی گنجائش سرے سے باقی ہی نہیں رہتی اس لیے کے قرآن و سنت میں ہر کس و ناکس مرد و خواتین والدین، اولاد، اعزاء و اقربا، مسافر و مسکین، یتامیٰ اور بیوگان، زوجین، آزاد شہری، قیدی، غلام، خادم اور خلیفہ سب ہی کے حقوق و فرائض متعین کر دیے گئے ہیں اور اس سے سر مو انحراف بھی انسان کو ایمان سے کفر کی طرف منتقل کر دیتا ہے اسی لیے تو کوئی خلیفہ وقت (سیدنا عمرؓ) کسی تنکے کو پکڑے یہ نہ کہتے کہ اے کاش! میں بھی ایک تنکا ہوتا تاکہ مجھ سے عوام الناس کے حقوق کی بابت سوال نہ کیا جاتا اور کوئی خلیفہ (سیدنا ابو بکرؓ) اپنا وظیفہ کسی مزدور کے بقدر مقرر نہ کراتا اور نہ ہی وقت وفات اپنے لواحقین کو یہ کہتا کے مجھے پرانے کپڑوں میں ہی کفنا دینا نئے کپڑے تو زندوں کا حق ہے۔ کوئی عثمانؓ کبھی غنی نہ ہوتا اور نہ ہی کوئی علیؓ بیت المال میں آئی رقم مستحقین میں تقسیم کر دینے کے بعد زمین پر ہاتھ مارتے ہوئے یہ کہتے سنائی دیتے کہ اے زمین! تو گواہ رہنا خلیفہ نے اپنے لیے کچھ نہیں رکھا سب کا سب حقداروں تک پہنچا دیا یا کوئی اور عمرؒ ثانی اپنے بچے کو سیب کھاتا دیکھ کر اپنی اہلیہ کو یہ نہ کہتا کے ہمارے پاس اتنی بچت ہے کہ ہمارا بچہ اس رقم سے سیب کھا سکے میں آج ہی اس بچت کو اپنے وظیفہ سے کم کرا دوں گا۔
آئین ہر خاص و عام کے قانونی تحفظ کا ایک نام ہے جو ہر شہری کو قانونی چارہ جوئی کا حق فراہم کرتا ہے چاہے وہ چھوٹی ہو یا بڑی شخصی ہو یا قومی۔ مجوزہ ستائیسویں ترمیم کے اہم نکات میں سر فہرست ایک آئینی عدالت کا قیام ہے جبکہ دیگر میں آئین کی آرٹیکل 184(3) میں عدالت عظمیٰ کے از خود نوٹس کے اختیار کو ختم کرنا ہے اور جوائنٹ چیف آف اسٹاف کا عہدہ ختم کر کے آرمی چیف کو ’’چیف آف ڈیفنس فورسز‘‘ بنانا ہے اور اس میں صدر مملکت کو فوجداری مقدمات سے تا حیات استثنیٰ کی سفارش شامل ہے اور اس طرح کی تجویز گورنرز کے بارے میں بھی اس کی مدت تک کے لیے ہیں گویا بلی سو چوہے کھا کر بھی حج کر لے تو اس کا حج معتبر ٹھیرایا جائے گا بس اسی ایک نکتہ پر پورا نفس مضمون ہے۔
ٹھیک فرمایا امیر جماعت حافظ نعیم الرحمن صاحب نے ’’صدر پاکستان کے لیے تاحیات استثنیٰ آئینی، جمہوری، سماجی و سیاسی ہر اعتبار سے غلط اور شرمناک ہے۔ یہ نظام انصاف پر شب خون مارنے کے مترادف ہے، پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کی جمہوریت کیا کیا گْل کِھلائے گی وصیت، وراثت اور وڈیرہ شاہی پر پارٹی چلانے سے لے کر ارکان پارلیمنٹ کی خریدو فروخت، میئر شپ پر قبضے اور فارم 47 کے ذریعے سیاست کو آگے بڑھانے والے عوام کے بعد اب یہ عدالتوں کو بھی جوابدہ نہیں رہنا دینا چاہتے‘‘۔
فرمایا مفتی تقی عثمانی صاحب نے ’’اسلام میں کوئی بھی شخص چاہے وہ کتنے بڑے عہدے پر ہو کسی بھی وقت عدالتی کارروائی سے بالاتر نہیں ہو سکتا خلفاء راشدین کی مثالیں سب کو معلوم ہیں (اور جن کا ذکر سطور بالا میں ہے) ہمارے دستور میں پہلے بھی صدر کو صدارت کے دوران تحفظ دیا گیا تھا جو اسلام کے خلاف تھا پارلیمنٹ کے ارکان سے دردمندانہ درخواست ہے کہ وہ یہ گناہ اپنے سر نہ لیں‘‘۔
اور جن صدر صاحب کے دور صدارت میں اس ترمیم کو پاس کرایا جا رہا ہے ان کی پارٹی کا موٹو ’’طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں‘‘ اس پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو بھی مساوات کے دعویدار تھے تو کیا ہوا کہ ان کی اگلی پشت نے ہی ان کے نظریہ کی دھجیاں بکھیر دیں۔ رہی فوج کے اندر کچھ عہدوں کی تبدیلی کی بات تو یہ کان کو آگے یا اپنی پشت کی طرف سے گھما کر پکڑنے کے مترادف ہے پہلے بھی ہمارے ملک کا آرمی چیف ہی سب کچھ تھا اور اب بھی وہی ہوگا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہاں مگر اس پر صاحب قرآن سپہ سالار کی خاموشی ایک سوالیہ نشان؟ ضرور ہے ایکسٹینشن کا معنی چاہے دینی ہو یا دنیاوی کسی کے حق کا خون ناحق ہے۔ طوالت سے بچتے ہوئے ان اشعار پر اپنی تحریر کو بس کرتا ہوں:
میں نے پتھر سے جن کو بنایا صنم
وہ خدا ہو گئے دیکھتے دیکھتے
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔