Jasarat News:
2026-07-24@05:47:25 GMT

’’وہ خدا ہو گئے دیکھتے دیکھتے‘‘

اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ملک بھر میں آج کل آئین میں ستائیسویں ترمیم کے بڑے چرچے ہیں خصوصاً ارباب حل و عقد اس ضمن میں اپنی اپنی سوچ اور فہم کے مطابق اپنا نقطہ ٔ نظر پیش کر رہے ہیں سادہ لوح عوام کو اس میں قطعاً اس لیے کوئی دلچسپی نہیں کے انہیں علم ہے کے ملکی آئین میں ان کے تحفظ سے متعلق کسی ترمیم کا کوئی امکان نا پہلے کبھی تھا اور نہ آئندہ ہے وہ بے چارے اس بات پر پہلے ہی راضی ہیں کہ ان کے سر پر جوتے مارنے والے اب بھی بہت کم ہیں ان کا مطالبہ ہے کہ ان جوتے مارنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے تاکہ قطار میں کھڑے ان کا قیمتی وقت بچ جائے اور وہ اس وقت کو اپنے کسب معاش میں لگا سکیں جو کہ عزت کی ساتھ انہیں دو وقت کی روٹی مہیا کر سکے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ آئین کا اصل معنی اور اس کی روح کیا ہے؟

لغت میں آئین کے معنی قانون، اصول اور ضابطہ ہے اس کا دوسرا مطلب رسم و رواج اور دستور العمل بھی لیا جاتا ہے، عام اور بالکل سادہ زبان میں اس کا معنی طور طریقہ مذہب اور شریعت کا طریقہ بھی ہوتا ہے۔ لیکن کسی ملک کے آئین کا مطلب وہ بنیادی قوانین اور ضابطے ہیں جو ریاست اور عوام کے درمیان ان کے حقوق و فرائض کی تقسیم کرتے ہیں جیسے حق و انصاف، مساوات، جان مال کا تحفظ، صحت و روزی روزگار کا بندو بست سازگار ماحول ٹیکس کے بدلے انفرا اسٹرکچر، ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولتیں وغیرہ کو اوپر سے نیچے تک بناء تفریق و تعصب، رنگ نسل، جائے پیدائش، مذہب، معاشرت، ذات پات، جنس اور لسان سے ہٹ کر ملک میں بسنے والے ہر شہری تک پہنچانا ہے اور پھر انہی حقوق و فرائض کی تقسیم کی بنیاد پر ہر دو طرف حکومت و عوام اور ہر خاص و عام کی شخصیت اور زندگی کی ترقی کو یقینی بنایا جاتا ہے کسی ملک کا متوازن آئین اس ملک کی ترقی اور خوشحالی کا باعث بنتا ہے ہر شخص کو اپنے حقوق و فرائض کی بجا آوری کا طریقہ اور سلیقہ سکھاتا ہے۔ روز روز کے احتجاج اور دھرنوں کو روکتا ہے۔ انتشار اور بغاوتوں کو فرو کرنے کا سبب بنتا ہے۔ بد امنی کی بیخ کنی اور ظلم و جبر کے نظام کا خاتمہ کرتا ہے۔

آئین ایک ایسی دستاویز کا نام ہے جو حکومتوں کے اختیارات کو محدود اور شہریوں کے استحقاق کو وسیع کرتا ہے اس لیے کے جمہوریت میں حکومتیں انہی شہریوں کے رائے سے قائم ہوتی ہیں لہٰذا ان کی رائے کا احترام حکومتوں کی ذمے داری ہوتی ہے نہ کہ مطلق العنانی۔ آئین کی سب سے اہم شق ہر خاص و عام کو قانون اور ضابطے کے مطابق آزادی اور مساوات فراہم کرنا ہے جس کا واضح مطلب ہر شخص چیف ایگزیکٹیو سے لیکر عام مزدور ہو کہ دہقان سب کو بقول شاعر ’’ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز؍ نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز‘‘۔ اور جب کسی ملک کا نام ہی اسلامی جمہوریہ ہو تو پھر وہاں قرآن و سنت کے سوا کسی آئین کی کوئی گنجائش سرے سے باقی ہی نہیں رہتی اس لیے کے قرآن و سنت میں ہر کس و ناکس مرد و خواتین والدین، اولاد، اعزاء و اقربا، مسافر و مسکین، یتامیٰ اور بیوگان، زوجین، آزاد شہری، قیدی، غلام، خادم اور خلیفہ سب ہی کے حقوق و فرائض متعین کر دیے گئے ہیں اور اس سے سر مو انحراف بھی انسان کو ایمان سے کفر کی طرف منتقل کر دیتا ہے اسی لیے تو کوئی خلیفہ وقت (سیدنا عمرؓ) کسی تنکے کو پکڑے یہ نہ کہتے کہ اے کاش! میں بھی ایک تنکا ہوتا تاکہ مجھ سے عوام الناس کے حقوق کی بابت سوال نہ کیا جاتا اور کوئی خلیفہ (سیدنا ابو بکرؓ) اپنا وظیفہ کسی مزدور کے بقدر مقرر نہ کراتا اور نہ ہی وقت وفات اپنے لواحقین کو یہ کہتا کے مجھے پرانے کپڑوں میں ہی کفنا دینا نئے کپڑے تو زندوں کا حق ہے۔ کوئی عثمانؓ کبھی غنی نہ ہوتا اور نہ ہی کوئی علیؓ بیت المال میں آئی رقم مستحقین میں تقسیم کر دینے کے بعد زمین پر ہاتھ مارتے ہوئے یہ کہتے سنائی دیتے کہ اے زمین! تو گواہ رہنا خلیفہ نے اپنے لیے کچھ نہیں رکھا سب کا سب حقداروں تک پہنچا دیا یا کوئی اور عمرؒ ثانی اپنے بچے کو سیب کھاتا دیکھ کر اپنی اہلیہ کو یہ نہ کہتا کے ہمارے پاس اتنی بچت ہے کہ ہمارا بچہ اس رقم سے سیب کھا سکے میں آج ہی اس بچت کو اپنے وظیفہ سے کم کرا دوں گا۔

آئین ہر خاص و عام کے قانونی تحفظ کا ایک نام ہے جو ہر شہری کو قانونی چارہ جوئی کا حق فراہم کرتا ہے چاہے وہ چھوٹی ہو یا بڑی شخصی ہو یا قومی۔ مجوزہ ستائیسویں ترمیم کے اہم نکات میں سر فہرست ایک آئینی عدالت کا قیام ہے جبکہ دیگر میں آئین کی آرٹیکل 184(3) میں عدالت عظمیٰ کے از خود نوٹس کے اختیار کو ختم کرنا ہے اور جوائنٹ چیف آف اسٹاف کا عہدہ ختم کر کے آرمی چیف کو ’’چیف آف ڈیفنس فورسز‘‘ بنانا ہے اور اس میں صدر مملکت کو فوجداری مقدمات سے تا حیات استثنیٰ کی سفارش شامل ہے اور اس طرح کی تجویز گورنرز کے بارے میں بھی اس کی مدت تک کے لیے ہیں گویا بلی سو چوہے کھا کر بھی حج کر لے تو اس کا حج معتبر ٹھیرایا جائے گا بس اسی ایک نکتہ پر پورا نفس مضمون ہے۔

ٹھیک فرمایا امیر جماعت حافظ نعیم الرحمن صاحب نے ’’صدر پاکستان کے لیے تاحیات استثنیٰ آئینی، جمہوری، سماجی و سیاسی ہر اعتبار سے غلط اور شرمناک ہے۔ یہ نظام انصاف پر شب خون مارنے کے مترادف ہے، پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کی جمہوریت کیا کیا گْل کِھلائے گی وصیت، وراثت اور وڈیرہ شاہی پر پارٹی چلانے سے لے کر ارکان پارلیمنٹ کی خریدو فروخت، میئر شپ پر قبضے اور فارم 47 کے ذریعے سیاست کو آگے بڑھانے والے عوام کے بعد اب یہ عدالتوں کو بھی جوابدہ نہیں رہنا دینا چاہتے‘‘۔

فرمایا مفتی تقی عثمانی صاحب نے ’’اسلام میں کوئی بھی شخص چاہے وہ کتنے بڑے عہدے پر ہو کسی بھی وقت عدالتی کارروائی سے بالاتر نہیں ہو سکتا خلفاء راشدین کی مثالیں سب کو معلوم ہیں (اور جن کا ذکر سطور بالا میں ہے) ہمارے دستور میں پہلے بھی صدر کو صدارت کے دوران تحفظ دیا گیا تھا جو اسلام کے خلاف تھا پارلیمنٹ کے ارکان سے دردمندانہ درخواست ہے کہ وہ یہ گناہ اپنے سر نہ لیں‘‘۔

اور جن صدر صاحب کے دور صدارت میں اس ترمیم کو پاس کرایا جا رہا ہے ان کی پارٹی کا موٹو ’’طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں‘‘ اس پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو بھی مساوات کے دعویدار تھے تو کیا ہوا کہ ان کی اگلی پشت نے ہی ان کے نظریہ کی دھجیاں بکھیر دیں۔ رہی فوج کے اندر کچھ عہدوں کی تبدیلی کی بات تو یہ کان کو آگے یا اپنی پشت کی طرف سے گھما کر پکڑنے کے مترادف ہے پہلے بھی ہمارے ملک کا آرمی چیف ہی سب کچھ تھا اور اب بھی وہی ہوگا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہاں مگر اس پر صاحب قرآن سپہ سالار کی خاموشی ایک سوالیہ نشان؟ ضرور ہے ایکسٹینشن کا معنی چاہے دینی ہو یا دنیاوی کسی کے حق کا خون ناحق ہے۔ طوالت سے بچتے ہوئے ان اشعار پر اپنی تحریر کو بس کرتا ہوں:

میں نے پتھر سے جن کو بنایا صنم

وہ خدا ہو گئے دیکھتے دیکھتے

راشد منان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہے اور اور اس

پڑھیں:

’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل

بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے طلبہ احتجاج کے تناظر میں ایک اہم پیغام جاری کرتے ہوئے طلبہ اور سونم وانگچک سے اپیل کی ہے۔

سلمان خان نے نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک ہونے کے معاملے پر جاری طلبہ احتجاج کے تناظر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’طلبہ کی تعلیم اور سیکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے، اس لیے انہیں خود بھی فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی اپنے والدین کو مزید پریشان کرنا چاہیے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’معزز وزیرِ اعظم اس معاملے پر ٹوئٹ کر چکے ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ وہ پرچہ لیک کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔ لہٰذا تمام طلبہ سے گزارش ہے کہ وہ اپنے والدین اور گھروں کو واپس چلے جائیں۔‘‘

        View this post on Instagram                      

اداکار نے اپنے پیغام میں گزشتہ 25 روز سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تعلیمی کارکن سونم وانگچک کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’سونم، اب بہت ہو گیا، بھائی۔ براہِ کرم اپنی بھوک ہڑتال مزید طویل نہ کریں۔ اگر مستقبل میں ضرورت پڑی تو احتجاج کا جذبہ برقرار رکھیے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اب اس کی ضرورت ہے۔ کچھ کھا لیجیے، اگر چاہیں تو میں اپنے گھر سے آپ کے لیے کھانا بھی بھجوا دوں گا۔‘‘

یہ بیان سلمان خان کی جانب سے 24 گھنٹوں کے دوران اس معاملے پر دوسری عوامی اپیل ہے۔ اس سے قبل بھی انہوں نے نیٹ امتحان کے تنازع پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طلبہ کے مفادات کے تحفظ پر زور دیا تھا۔

        View this post on Instagram                      

واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک