جمہوریت کی دعویدار نام نہاد سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کا ہی بستر گول کر ڈالا، عدنان ڈوگر
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے اپنے مذمتی بیان میں ممبر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی خود کو جمہوری و پارلیمانی نظام کا داعی کہلواتی تھی، آج آمریت کی گود میں جا بیٹھی ہے تاکہ اس کی کرپشن و لاقانونیت کو تحفظ میسر ہو، صدر آصف زرداری نے تاحیات استثنا حاصل کرکے جو سودے بازی کی وہ شرم کا مقام ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ممبر پنجاب اسمبلی اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ملک محمد عدنان ڈوگر 27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے اپنے مذمتی بیان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آئینی نہیں بلکہ "آہنی ترمیم" ہے۔ جمہوریت کی دعویدار نام نہاد سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کا ہی بستر گول کر ڈالا۔ پیپلزپارٹی کو خود کو جمہوری و پارلیمانی نظام کا داعی کہلواتی تھی، آج آمریت کی گود میں جا بیٹھی ہے تاکہ اس کی کرپشن و لاقانونیت کو تحفظ میسر ہو۔ صدر آصف زرداری نے تاحیات استثنا حاصل کرکے جو سودے بازی کی وہ شرم کا مقام ہے۔ لیکن خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ ایک فرد واحد اور اس کی عوامی حمایت سے ڈرتے ہوئے اس مافیا نے آئین کا جو حلیہ بگاڑا ہے عوامی عدالت میں انہیں جوابدہ ہونا پڑے گا۔ جس دن عمران خان جیل سے نکلا اس دن انہیں انہی کا بنایا ہوا کوئی قانون تحفظ فراہم نہیں کرے گا اور یہ منہ چھپاتے نظر آئین گے۔ ملک محمد عدنان ڈوگر نے کہا کہ 27 ویں آہنی ترمیم سے عدلیہ مزید کمزور ہوچکی اور سویلین بالادستی ماضی کا حصہ بن گئی ہے۔ فرد واحد بادشاہ بن کر جمہوری اداروں و نظام کو مفلوج کرچکا ہے۔ جبکہ دوسری جانب عوامی فلاح و بہبود کے لئے حکومت کی کارکردگی منفی اثرات مرتب کررہی ہے۔ عوام مہنگائی، بیروزگاری کا شکار ہیں جبکہ فارم 47 کی غیرقانونی حکومت اپنے تحفظ کے اقدامات کرنے اور عیاشیوں میں مصروف ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد:عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔