data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے ستائیسویں آئینی ترمیم پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ترمیم کے مضمرات ہولناک ہیں اور اسے اپوزیشن کو کلیتاً مسترد کرنا چاہیے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ یہ ترمیم دینی، آئینی، جمہوری، سماجی اور سیاسی لحاظ سے غلط اور شرمناک ہے ، یہ نظام انصاف پر شب خون مارنے کے مترادف ہے اور ملک میں عوامی حقوق کی پامالی کا سبب بن سکتی ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جمہوری کارکردگی عوام کے لیے قابلِ سوال ہے اور یہ ترمیم ان کے غیر جمہوری رویوں کو قانونی تحفظ فراہم کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ وصیت، وراثت اور وڈیرہ شاہی کے سہارے پارٹی چلانے والے اور ممبران پارلیمنٹ کی خریدوفروخت کرنے والے اب عوام کے سامنے جوابدہ نہیں رہنا چاہتے۔ ساتھ ہی حافظ نعیم الرحمان نے انتباہ کیا کہ میئر شپ پر قبضے اور فارم 47 کے ذریعے سیاست کو آگے بڑھانے والے اب عدالتوں کے سامنے بھی جوابدہ نہیں رہنا چاہتے، جو آئینی اور قانونی عمل کے لیے خطرہ ہے۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ یہ ترمیم ملک میں عدلیہ کی آزادی اور انصاف کے نظام کو کمزور کرنے کی ایک کوشش ہے اور اس کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حافظ نعیم

پڑھیں:

جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے

کوئٹہ(نیوز ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے مرکزی رہنما حافظ حمداللہ سے کئی گھنٹوں تک رابطہ نہ ہونے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں اور پارٹی کارکنوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

تفصیلات کے مطابق حافظ حمداللہ کے صاحبزادے حافظ خلیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد کا موبائل فون بند آ رہا ہے اور ان کے ساتھ موجود ساتھیوں سے بھی رابطہ نہیں ہو پا رہا۔

انہوں نے کہا کہ حافظ حمداللہ آج بلوچستان کے علاقے سنجاوی میں ایک پروگرام میں شرکت کیلئے گئے تھے، تاہم چند گھنٹوں سے ان سے کوئی رابطہ قائم نہیں ہو سکا جس کے باعث اہل خانہ اور پارٹی رہنماؤں میں تشویش پیدا ہوئی۔

دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر زیارت سے رابطہ کیا۔

پارٹی ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر زیارت نے مولانا عبدالغفور حیدری کو آگاہ کیا کہ حافظ حمداللہ محفوظ مقام پر موجود ہیں اور ان کی خیریت سے متعلق کوئی تشویش کی بات نہیں۔

واقعے کی اطلاع سامنے آنے کے بعد جے یو آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کی جانب سے حافظ حمداللہ کی جلد از جلد عوامی سطح پر موجودگی اور رابطے کی بحالی کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔

پارٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے مختلف قیاس آرائیاں جنم لے رہی تھیں، تاہم انتظامیہ کے بیان کے بعد صورتحال کسی حد تک واضح ہو گئی ہے۔

مزید تفصیلات اور سرکاری وضاحت سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں۔بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا

متعلقہ مضامین

  • جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار