27ویں ترمیم بھی 26ویں کی طرح عوام سے پوشیدہ رکھی جا رہی ہے: حافظ نعیم الرحمٰن
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ ملک میں آئینی ترامیم کو خفیہ رکھا جا رہا ہے، عوام کو نہ 26ویں ترمیم کا علم تھا اور نہ ہی اب 27ویں ترمیم کے مندرجات سامنے آ رہے ہیں۔
مردان میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے انکشاف کیا کہ 26ویں ترمیم کے دو مختلف مسودے موجود تھے، ایک مولانا فضل الرحمٰن کے پاس اور دوسرا حکومت کے پاس۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے مزید کہا کہ اس طرزِ عمل سے شفاف قانون سازی کے بجائے ابہام پیدا ہو رہا ہے، حکومت میں شامل زیادہ تر افراد وہ ہیں جو فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں لائے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالتی نظام میں پیوندکاری سے کام نہیں چلے گا، اسے ازسرِنو تشکیل دینے کی ضرورت ہے تاکہ انصاف عام شہری تک پہنچ سکے۔
امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ ان کی جماعت اب سیاسی پارٹیوں کے بجائے عوام کے ساتھ اتحاد قائم کرے گی تاکہ حقیقی جمہوری تبدیلی لائی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحم ن
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔