لاہور (خصوصی نامہ نگار ) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ  اب تک ستائیسویں ترمیم کا شور ہے اس کی شقیں سامنے نہیں آ رہیں جماعتِ اسلامی اس کی مخالفت کرے گی یہ ترمیم نظام پر قبضے کی منصوبہ بندی ہے، جب چھبیسویں آئینی ترمیم آئی تھی تو سب جماعتوں کو کہا تھا اس میں شامل نہ ہوں، اس امر کا اظہار امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کا مینار پاکستان اجتماع عام کا دورہ کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم پرعزم ہیں کہ جماعتِ اسلامی کا اجتماعِ عام دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ثابت ہوگا وکلاء ، طلبہ، خواتین اور نوجوانوں کی بڑی تعداد شریک ہوگی دنیا میں خواتین کا بھی سب سے بڑا اجتماع ثابت ہوگا۔ان کاکہنا تھا اجتماع عام میں قراردادِ معیشت پیش کی جائے گی جو دین و آئین کے مطابق ہوگی ہمارا نعرہ ‘‘بدل دو نظام’’ محض نعرہ نہیں، عملی جدوجہد کا اعلان ہے۔ان کاکہنا تھاپاکستان میں عدالتی نظام گل سڑ چکا ہے، اس کی پیوندکاری نہیں بلکہ مکمل تبدیلی ضروری ہے نیا نظام لانا ہوگا جس میں کوئی طبقہ مالک نہ بنے، تعلیمی نظام دولت کی بنیاد پر قائم ہے جب تعلیم خریدی جائے تو قوم نہیں بنتی، بہتر نصاب ضروری ہے۔سابق و موجودہ آرمی چیفس نے سود کے خاتمے کی بات کی مگر جب تک سودی نظام رہے گا، معیشت نہیں پنپ سکتی استحصالی نظام ختم کرنا ہوگا، مزدور طبقہ حقوق سے محروم ہے۔ بیس لاکھ بچوں کو جماعتِ اسلامی کے پروگرام میں شامل کیا جائے گا، ان کاکہنا تھاکہ آئی پی پیز مافیا کے خلاف تحریک چلائی، احتجاج اوردھرنے کے نتیجے میں حکومت کو مجبور کیا گیا چھتیس سو ارب روپے قومی خزانے کو بچائے اور سات روپے فی یونٹ بجلی سستی ہوئی،نائب امیر جماعتِ اسلامی لیاقت بلوچ کاکہنا تھاکہ مینارِ پاکستان پر کیمپس کی تنصیب مکمل ہو چکی ہے، تمام شعبہ جات نے تیاریاں مکمل کر لی ہیں نظامِ تحریک کا ایجنڈا پورے ملک میں پہنچ چکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن