27 ویں ترمیم نظام پر قبضے کی منصوبہ بندی، جماعت اسلامی مخالفت کریگی: حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
لاہور (خصوصی نامہ نگار ) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ اب تک ستائیسویں ترمیم کا شور ہے اس کی شقیں سامنے نہیں آ رہیں جماعتِ اسلامی اس کی مخالفت کرے گی یہ ترمیم نظام پر قبضے کی منصوبہ بندی ہے، جب چھبیسویں آئینی ترمیم آئی تھی تو سب جماعتوں کو کہا تھا اس میں شامل نہ ہوں، اس امر کا اظہار امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کا مینار پاکستان اجتماع عام کا دورہ کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم پرعزم ہیں کہ جماعتِ اسلامی کا اجتماعِ عام دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ثابت ہوگا وکلاء ، طلبہ، خواتین اور نوجوانوں کی بڑی تعداد شریک ہوگی دنیا میں خواتین کا بھی سب سے بڑا اجتماع ثابت ہوگا۔ان کاکہنا تھا اجتماع عام میں قراردادِ معیشت پیش کی جائے گی جو دین و آئین کے مطابق ہوگی ہمارا نعرہ ‘‘بدل دو نظام’’ محض نعرہ نہیں، عملی جدوجہد کا اعلان ہے۔ان کاکہنا تھاپاکستان میں عدالتی نظام گل سڑ چکا ہے، اس کی پیوندکاری نہیں بلکہ مکمل تبدیلی ضروری ہے نیا نظام لانا ہوگا جس میں کوئی طبقہ مالک نہ بنے، تعلیمی نظام دولت کی بنیاد پر قائم ہے جب تعلیم خریدی جائے تو قوم نہیں بنتی، بہتر نصاب ضروری ہے۔سابق و موجودہ آرمی چیفس نے سود کے خاتمے کی بات کی مگر جب تک سودی نظام رہے گا، معیشت نہیں پنپ سکتی استحصالی نظام ختم کرنا ہوگا، مزدور طبقہ حقوق سے محروم ہے۔ بیس لاکھ بچوں کو جماعتِ اسلامی کے پروگرام میں شامل کیا جائے گا، ان کاکہنا تھاکہ آئی پی پیز مافیا کے خلاف تحریک چلائی، احتجاج اوردھرنے کے نتیجے میں حکومت کو مجبور کیا گیا چھتیس سو ارب روپے قومی خزانے کو بچائے اور سات روپے فی یونٹ بجلی سستی ہوئی،نائب امیر جماعتِ اسلامی لیاقت بلوچ کاکہنا تھاکہ مینارِ پاکستان پر کیمپس کی تنصیب مکمل ہو چکی ہے، تمام شعبہ جات نے تیاریاں مکمل کر لی ہیں نظامِ تحریک کا ایجنڈا پورے ملک میں پہنچ چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔