پاک افغان مذاکرات ناکام، دراندازی ہوئی تو فوجی آپشن آخری حل ہوگا، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاہے کہ پاکستان افغان طالبان مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے، دراندازی ہوتی رہی تو فوجی آپشن آخری حل ہوگا، تاہم مذاکرات میں پیش رفت کا امکان کسی صورت رد نہیں کیا جا سکتا۔
برطانوی میڈیا کو انٹرویو میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ اگرسرحد پار سے دراندازی جاری رہی تو پاکستان اپنی سلامتی یقینی بنائے گا۔
خواجہ آصف نے کہاکہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین سے دراندازی بند ہو۔ افغان طالبان حملے بند ہونے کی تحریری طور پر ضمانت نہیں دینا چاہتے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت کا کابل پر اثرورسوخ ہے، وہ نہیں چاہے گا مذاکرات کامیاب ہوں۔ بھارت کی خواہش ہے وہ پاکستان کو دہشت گردی میں الجھائے رکھے۔
علاوہ ازیں وزارت اطلاعات و نشریات نے پاک افغان سرحد پر فائربندی کی خلاف ورزی کے حوالے سے افغانستان کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فائرنگ افغانستان کی طرف سے شروع ہوئی، جس کاسکیورٹی فورسز نے فوری اور ذمہ دارانہ انداز میں جواب دیا۔ صورتحال قابو میں اورجنگ بندی بدستور برقرار ہے۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے کہاکہ چمن باڈر پر افغانستان سے کچھ عناصر نے پاکستانی پوسٹوں پربلا اشتعال فائرنگ کی۔ پاکستان افغانستان کی جانب سے اس واقعے سے متعلق دعوے کو مسترد کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خواجہ آصف
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔