Express News:
2026-07-24@04:17:22 GMT

پاکستانی پاسپورٹ کا بے دریغ غیر قانونی اجرا

اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT

کسی بھی آزاد ،خود مختار ملک کا شہری ہونا ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔قونصلیٹ جنرل آف پاکستان، جدہ سعودی عرب میں پوسٹنگ کے دوران رجب کے مہینے کے آخری دنوں میں سعودی وزارتِ خارجہ کی وساطت سے طائف جیل کا ایک خط موصول ہوا۔یہ ایک فہرست تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ اس میں شامل ناموں کے حامل پاکستانی افراد کو منشیات برآمدگی کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔

اس فہرست کے ساتھ علیحدہ سے ایک دو سالہ بچے کا نام بھی درج تھا،کہا گیا تھا کہ اس پاکستانی بچے کو پاکستانی قونصلیٹ جنرل جدہ جیل سے لے لے۔اطلاع کے مطابق اس بچے کی والدہ کو بھی موت کی سزا ہوئی تھی لیکن اسے فوراً سزا دینے کے بجائے دو سال انتظار کیا گیا کہ بچہ دو سال کا ہو جائے۔بچے کا دودھ پینے کا دورانیہ مکمل ہو جائے تو پھر اس کو اس کی والدہ سے الگ کر کے والدہ کی موت کی سزا پر عمل درآمد کر دیا جائے۔

ہم نے فوری طور پر پاکستان میں وزارتِ داخلہ،نادرا کے دفتر سے رابطہ کیا اور فہرست میں شامل افراد کی پاکستانی شہریت کی فوری تصدیق چاہی۔یہ 149افراد کی فہرست تھی۔

چھان بین کے نتیجے میں پتہ چلا ان میں سے صرف دو افراد اصلی پاکستانی تھے اور باقی 147افراد پاکستانی پاسپورٹ کے حامل لیکن غیر پاکستانی تھے جنھوں نے پاکستانی پاسپورٹ حاصل کر کے اس پر سفر کیا اور غیر قانونی طور پرمنشیات کا دھندا کر کے پاکستان کے حصے میں بدنامی لکھوائی۔سعودیہ میں روایت یہ ہے کہ جن افراد کے جسموں یا ذاتی سامان سے منشیات برآمد ہوں ان کے لیے کوئی معافی نہیں اور انھیں عام طور پر موت کی سزا ملتی ہے۔سعودی انتظامیہ 15شعبان سے عید الفطر تک موت کی سزا پر عمل در آمد روک دیتی ہے اسی لیے ہمیں رجب کے مہینے میں فہرست بھجوائی گئی تاکہ سفارت خانے کے علم میں ہو کہ ان افراد کی سزاؤں پر 15شعبان سے پہلے عمل در آمد ہو جائے گا۔

افغان طالبان کی پہلی حکومت جب بنی تو اسے پاکستان کی بھرپور حمایت حاصل تھی البتہ دنیا کے دو اور ممالک کو چھوڑ کر کسی بھی ملک کی حکومت نے پہلی طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔طالبان حکومت کو صرف پاکستان،متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے سفارتی پذیرائی بخشی۔ایسے میں افغانستان میں بسنے والوں کے لیے اپنے ملک کے پاسپورٹ پر غیرملکی سفر بالکل ہی ناممکن تھا کیونکہ نہ تو ان کے ملک کی حکومت جائز حکومت متصور تھی اور نہ ہی ان کا پاسپورٹ دنیا کے لیے قابلِ قبول تھا۔

اس صورتِ حال میں تمام افغانوں نے پاکستان کا رخ کیا۔پاکستان کی انتظامیہ نے ناعاقبت اندیش بنتے ہوئے آنکھیں موند لیں اور افغانوں کو دھڑا دھڑ پاکستانی شناختی کارڈ کا غیر قانونی اجرا شروع ہو گیا۔ جب ایک دفعہ شناختی کارڈ جاری ہو گیا تو اس کی بنیاد پر پاکستانی پاسپورٹ بسہولت ایشو ہونے لگا۔افغان نوکریوں اور کاروبار کے لیے پاکستان کے طول و عرض میں پھیل گئے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان کو کیمپوں سے باہر نکلنے کی اجازت نہ ہوتی لیکن پاکستان کی انتظامیہ فیاض تھی اور پاکستان کے محکموں میں پیسہ لگانے سے ہر کام کروایا جا سکتا تھا۔افغان پاکستان کا پاسپورٹ حاصل کر کے بڑی تعداد میں پاکستانیوں کے لیے مخصوص ملازمتوں کے کوٹے پر خلیجی ممالک خاص طور پر امارات اور سعودی عرب چلے گئے۔

افغان غیر قانونی طور پر حاصل کردہ پاکستانی پاسپورٹ کی تجدید کرواتے رہے اس لیے افغانوں کے پاس ابھی بھی پاکستانی شناختی کارڈ اور پاکستانی پاسپورٹ ہیں۔وہ پیسے لگا کر اپنے کارڈوں اور پاسپورٹ کی تجدید کرواتے رہتے ہیں۔ان کی وجہ سے پاکستانی سفارت خانوں پر کام کا بوجھ بے تحاشہ ہے۔پاکستانی افسر اور اسٹاف ان کو سروسز دیتے ہیں جس کے بدلے میں پاکستان کو افغانوں سے مفت کی نفرت ملتی ہے کیونکہ ان کا پاکستان اور پاکستانیوں کی جانب رویہ بہت معاندانہ ہے۔طائف کی جیل سے اس دوسالہ بچے کو لیا گیا اور اسے بہت مشکلات جھیل کر پاکستان روانہ کیا گیا۔ایک پاکستانی فیملی کو درخواست کی گئی کہ وہ اپنے گھر میں اس بچے کو اس وقت تک رکھے جب تک اسے پاکستان نہیں بھیج دیا جاتا۔قونصلیٹ جنرل کے افسروں نے اپنے پاس سے رقم اکٹھی کر کے اس کے ٹکٹ کے لیے انتظام کیا۔قونصلیٹ کے ہی ایک ملازم کو فلائٹ میں ساتھ بھیجا گیا تاکہ وہ سفر میں اس بچے کا خیال رکھے اور پاکستانی انتظامیہ کے طفیل کسی این جی او کے حوالے کرے۔اور یہ سب یہ جانتے ہوئے کرنا پڑا کہ اس بچے کے والدین نے غیر قانونی طور پر پاکستان کی شہریت حاصل کر رکھی تھی۔

پاکستان نے صرف افغانوں کو ہی شناختی کارڈ نہیں دئے بلکہ برما کے تمام روہنگیا مسلمانوں کو یہ سہولت دی ہوئی تھی۔ اسی طرح یوگنڈا کے بہت سے باسیوں کے پاس بھی پاکستانی پاسپورٹ ہیں۔یوں ایسے لاکھوں غیر ملکی ہیں جنھوں نے کبھی پاکستان میں رہائش اختیار نہیں کی،بس زندگی میںصرف ایک بار کراچی کا چند دنوں کے لیے چکر لگایا اور شناختی کارڈ و پاسپورٹ بنوا کر یہ جا وہ جا۔ان کے پاسپورٹوں اور شناختی کارڈ پر پتہ بھی بہت عجیب لکھا ہوتا ہے۔

مثلاً یہ لکھا ہوگا نزد فلاں مسجد ناظم آباد کراچی۔آپ ڈھونڈتے رہیں تو وہ مسجد آپ کو نہیں ملے گی۔مکان نمبر اوراسٹریٹ نمبر بھی نہیں ہوگا۔یہ لوگ جہاں بھی کماتے ہیں،وہاں سے اپنا سرمایہ اپنے دیس یا کہیں اور منتقل کرتے ہیں اور سروسز ساری کی ساری پاکستانی مشنوں سے لیتے ہیں۔ یہ کوئی جرم کرتے ہیں تو وہ جرم پاکستان کے کھاتے میں جاتا ہے۔پاکستان کا شناختی کارڈ، شہریت اور پاسپورٹ صرف اور صرف خالص پاکستانیوں کا حق ہے یہ حق کسی دوسرے کو نہیں ملنا چاہیے۔حکومت پاکستان سے درخواست ہے کہ ایسے تمام شناختی کارڈ اور پاسپورٹس منسوخ کرے تاکہ پاکستانی پاسپورٹ کی عزت اور رینکنگ بہتر ہو سکے۔

قارئینِ کرام نیویارک امریکا کا بہت اہم شہر ہے۔ اسی شہر میں اقوامِ متحدہ کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ نیویارک کے میئر کے لیے یوں تو انتخابات ہوتے ہی رہتے ہیں لیکن پہلی بار ایک مسلمان امیدوار میدان میں تھا۔یہ انتخاب جناب ظہران ممدانی نے جیت لیا ہے۔وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایتی امیدوار جناب اینڈریو کومو اور ری پبلکن امیدوار کرٹس سلوا کو شکست دے کر جیتے ہیں۔انھوں نے اپنی وکٹری تقریر میں کہا کہ نیویارک میں اب اسلاموفوبیا نہیں چلے گا اور اس اہم شہر کو ایکس پیٹری یاٹس چلائیں گے۔ جناب ظہران ممدانی ایک بوہرہ مسلمان ہیں۔ان کی فیملی کاٹھیاواڑ انڈیا سے مشرقی افریقہ منتقل ہوئی اور وہاں سے امریکا چلی گئی۔خدا کرے کہ وہ اپنے حمایتیوں کے ساتھ مل کر نیویارک جیسے انتہائی اہم شہر کے رہنے والوں کی زندگیوں میں خوبصورت تبدیلی لا کر اپنی جیت کو امر کر دیں۔آمین۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستانی پاسپورٹ شناختی کارڈ اور پاکستان پاکستان کی پاکستان کے موت کی سزا تھا کہ اس بچے کے لیے

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار