پاکستانی پاسپورٹ دنیا کے 100 بہترین پاسپورٹس میں شامل ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
سٹی42: پاکستانی پاسپورٹ عالمی درجہ بندی میں نمایاں بہتری کے بعد دنیا کے 100 بہترین پاسپورٹس میں شامل ہو گیا۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے قومی اسمبلی میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں نمایاں بہتری آئی ہے اور وہ اب دنیا کے 100 بہترین پاسپورٹس میں شامل ہو گیا ہے۔
واٹس ایپ صارفین کیلئے خوشخبری ,اب بغیر فون نکالے ایپ استعمال کرنا ممکن
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور نے بتایا کہ یہ کامیابی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات اور تکنیکی بہتریوں کا نتیجہ ہے۔
ڈاکٹر طارق فضل کا کہنا تھا کہ 5 اگست 2025 تک پاکستان نے 50 ممالک کے ساتھ سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا استثنیٰ کے معاہدے کیے ہیں، جبکہ مزید ممالک سے بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل نے جدید ای پاسپورٹ پرسنلائزیشن سسٹم متعارف کرایا ہے اور مشین ریڈ ایبل پاسپورٹس (MRPs) کے سیکیورٹی فیچرز کو بہتر بنایا گیا ہے تاکہ جعلسازی کو روکا جا سکے۔
یوٹیوبرڈکی بھائی کےمقدمہ میں مبینہ رشوت لینےوالےافسران نےاستعفے دیدیئے
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان بتدریج ای پاسپورٹس کی طرف منتقل ہو رہا ہے جو بین الاقوامی سول ایوی ایشن (ICAO) کے معیار کے مطابق ہیں، اور شہری اب ای گیٹ سہولت سے ملکی و غیر ملکی ہوائی اڈوں پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔
ای پاسپورٹ میں بایومیٹرک مائیکروچِپ، پولی کاربونیٹ ڈیٹا پیج، لیزر کندہ شدہ معلومات، اور پاکستانی ثقافت کی عکاسی کرتے ویزا پیجز شامل کیے گئے ہیں۔ اس میں بچوں کے پاسپورٹ میں والدہ کا نام بھی درج کیا گیا ہے۔
اپٹما نے وزارت فوڈ سکیورٹی کے خلاف نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو خط لکھ دیا
وفاقی وزیر نے کہا کہ ان اصلاحات سے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ مضبوط ہوئی ہے اور ملک کے پاسپورٹ کی درجہ بندی میں بہتری آئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلامی ممالک اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ تعلقات میں بھی بہتری آئی ہے اور پاکستان کے اقدامات کو بھرپور سراہا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر طارق فضل نے اطمینان ظاہر کیا کہ یہ ٹیکنالوجیکل اپ گریڈز اور سفارتی کوششیں پاکستان کے پاسپورٹ کی عالمی پذیرائی اور وقار میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔
پنجاب حکومت کے نئے پنشن رولز سے متعلق کیس کی سماعت,جواب طلب
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 وفاقی وزیر کے پاسپورٹ ہے اور
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔