شکست خوردہ بھارت آرام سے نہیں بیٹھا، پراکسی وار شروع کر رکھی: حنیف عباسی
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
لاہور (سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ ریلوے کو برق رفتاری کے ساتھ جدید سہولیات سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان ریلوے کو جلد دنیا کی بہترین ریلوے بنائیں گے۔ ریلوے میں آٹھ ماہ کے عرصہ میں ریکارڈ کام ہوا ہے۔ ریل کے مسافروں اور شہریوں کو لاہور، راولپنڈی چار سٹیشنز پر وائی فائی کی سہولت دے رہے ہیں، جبکہ اس کا دائرہ جلد مزید وسیع بھی کیا جائے گا، وہ بدھ کے روز ریلوے سٹیشن فیصل آباد کی اپ گریڈیشن کی تقریب کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے۔ فیصل آباد سٹیشن کی تزئین و آرائش گوروں کے بنائے ہوئے سٹیشن کے مطابق ہوئی جس کیلئے سی ای او ریلوے ڈی ایس کی محنت کو سراہتا ہوں، انہوں نے کہا کہ صنعتکار میاں محمد ادریس نے سٹیشن کی تزئین و آرائش میں تعاون کیا، اللہ انہیں اس کا اجر دے گا۔ ہم چھ ماہ دس مقامات پر ڈرائیورز و عملہ کیلئے بہترین ماحول دینگے، کارگو وین لگیج وین آؤٹ سورس کے حوالے سے اسی سال دس بلین کا فنانشل امپیکٹ آئے گا، بھارت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ شکست کے زخم چاٹنے والا دشمن آرام سے نہیں بیٹھا، پاکستان کی خارجہ پالیسی اور فیلڈ مارشل کی دھاک بیٹھی ہے۔ چائنا، امریکہ، روس بھی ساتھ کھڑا ہے۔ سنٹرل ایشیاء کی آپ نمائندگی کر رہے ہیں، دشمن نے بلوچستان اور کے پی کے میں پراکسی وار شروع کر رکھی ہے جو پاکستان کو نہیں مانتا میں اسکو نہیں مانتا، پاکستانی قوم نے ملکر دشمن کو شکست دی ہے، آگے بھی دینگے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔