data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کینبرا: آسٹریلیا کے سائنسدانوں نے ایک ایسا حیران کن رنگ تیار کیا ہے جو نہ صرف عمارتوں کو ٹھنڈا رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ فضا سے روزانہ تازہ پانی بھی جمع کر لیتا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یونیورسٹی آف سڈنی اور اسٹارٹ اپ کمپنی “ڈیو پوائنٹ انوویشن” کی مشترکہ کاوش سے تیار ہونے والا یہ انقلابی رنگ ماحولیاتی ٹیکنالوجی میں ایک بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ رنگ سطح کا درجہ حرارت چھ ڈگری سیلسیئس تک کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے توانائی کے استعمال میں کمی اور ایئرکنڈیشننگ پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔

مزید حیران کن بات یہ ہے کہ یہ رنگ ماحول میں موجود نمی کو کشید کر کے پانی میں تبدیل کرتا ہے۔ چھ ماہ کی جانچ کے دوران دیکھا گیا کہ یہ کوٹنگ روزانہ فی مربع میٹر تقریباً 390 ملی لیٹر پانی جمع کرنے میں کامیاب رہی، جس کا مطلب ہے کہ صرف 12 مربع میٹر کی سطح ایک شخص کی روزمرہ پانی کی ضرورت پوری کر سکتی ہے۔

یونیورسٹی کے نینو انسٹیٹیوٹ کی پروفیسر شیارا نیٹو کے مطابق یہ ایجاد چھتوں اور عمارتوں کے روایتی رنگوں کے تصور کو بدل سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی خشک علاقوں میں پانی کی قلت کے مسئلے کے حل کے لیے امید کی نئی کرن ہے اور کم لاگت والے پائیدار پانی کے ذرائع پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رنگ تجارتی پیمانے پر دستیاب ہو گیا تو یہ موسمیاتی تبدیلی، توانائی کی بچت اور پانی کے بحران تینوں مسائل کا ایک ساتھ حل فراہم کر سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا