ایسا پینٹ تیار جو فضا سے پانی اخذ کرکے درجہ حرارت کم کرسکتا ہے
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
آسٹریلیا میں محققین نے ایک نئی قسم کا آؤٹ ڈور پینٹ تیار کیا ہے جو فضا سے تازہ پانی اخذ کرکے درجہ حرارت کو 6 سینٹی گریڈ تک کم کر سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف سڈنی کی ایک ٹیم اور کمپنی ڈیو پوائنٹ انوویشنز کی طرف سے وضع کردہ یہ ایجاد شدید موسم میں عمارتوں کو ٹھنڈا کرنے کے ساتھ ساتھ بنجر علاقوں میں پانی کی کمی سے نمٹنے میں مدد دے سکتی ہے۔
مواد کی چھ ماہ کی آزمائش سے یہ بات سامنے آئی کہ کوٹنگ ہر روز 390 ملی لیٹر پانی فی مربع میٹر حاصل کر سکتی ہے، یعنی ایک شخص کی روزانہ پینے کی ضروریات کو 12 مربع میٹر سطح پر پینٹ سے پورا کیا جا سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف سڈنی کے نینو انسٹی ٹیوٹ سے پروفیسر چیارا نیٹو نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف ٹھنڈی چھتوں کی کوٹنگز کی سائنس کو آگے بڑھاتی ہے بلکہ تازہ پانی کے پائیدار اور کم لاگت ذرائع کے دروازے بھی کھولتی ہے - جو موسمیاتی تبدیلی اور پانی کی بڑھتی ہوئی کمی کے پیش نظر ایک اہم ضرورت ہے۔
اس کیلئے مرطوب حالات مثالی ہوتے ہیں، پینٹ کے ذریعے پانی بنجر اور نیم خشک علاقوں میں بھی بن سکتا ہے جہاں رات کے وقت نمی بڑھ جاتی ہے۔ اس کا مقصد جب دوسرے ذرائع محدود ہو جائیں تو پانی مہیا کرنا ہے۔
یہ پینٹ 97 فیصد تک سورج کی روشنی کو منعکس کرکے اور ارد گرد کی ہوا میں حرارت پھیلا کر کام کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔