طالبان حکومت اپنے عالمی وعدوں کی ذمہ دار ٹھہرائی جائے، پاکستان کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان طالبان حکومت کو ان وعدوں کا جوابدہ بنایا جائے جو اس نے دوحا معاہدے اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر کیے تھے مگر پورے نہیں کیے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق طالبان نے دوحا معاہدہ (2020) اور متحدہ عرب امارات و پاکستان کے ساتھ سہ فریقی معاہدے میں تحریری و زبانی یقین دہانیاں کرائی تھیں، جن کے عوض انھیں مالی امداد اور سفارتی قبولیت ملی، مگر انھوں نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔
ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے بین الافغان مذاکرات کے وعدے کی بھی خلاف ورزی کی۔ دوحہ معاہدے کے تحت 5 ہزار طالبان قیدی رہا کیے گئے تھے، جن میں سے متعدد دوبارہ عسکریت پسندی میں ملوث ہو گئے۔ طالبان نے سیاسی مذاکرات کے بجائے کابل پر قبضہ کر لیا اور خواتین کی تعلیم و روزگار پر پابندیاں عائد کر دیں۔
رپورٹ کے مطابق موجودہ طالبان حکومت میں نسلی و مذہبی امتیاز نمایاں ہے — اقتدار پر مکمل طور پر پشتون گروہ کا غلبہ ہے، تاجک، ازبک اور ہزارہ اقلیتوں کو نمائندگی نہیں دی گئی۔ کندهار شوریٰ مکمل طور پر پشتون قیادت پر مشتمل ہے جبکہ 49 رکنی کابینہ میں زیادہ تر سابق جنگجو شامل ہیں۔
عالمی اداروں اور انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق طالبان نے دوحہ معاہدے کے سیکنڈ پارٹ کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔ 2022 میں القاعدہ رہنما ایمن الظواہری کابل میں ہلاک ہوئے جبکہ اقوامِ متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق سیف العدل اور حمزہ بن لادن بھی کابل میں طالبان کی پناہ میں موجود ہیں۔
اسی طرح طالبان کے خفیہ ادارے جی ڈی آئی پر تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کے رہنماؤں کو رہائش، پاسز اور تحفظ دینے کے الزامات ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کو امریکہ اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے ماہانہ 8 کروڑ ڈالر کی امداد ملتی ہے، جس میں سے کچھ رقم ٹی ٹی پی کے نیٹ ورکس کو منتقل کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال کے دوران 267 افغان شہری پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں مارے گئے، جن میں اپریل 2025 میں شمالی وزیرستان اور اگست 2025 میں ژوب کے بڑے آپریشنز شامل ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق افغان طالبان نے بعد میں ان ہلاک افراد کی لاشوں کی واپسی کی درخواست بھی کی، جو ان کی براہِ راست شمولیت کا ثبوت ہے۔
مزید بتایا گیا کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے 58 تربیتی مراکز کی نشاندہی کی جا چکی ہے، جہاں نیٹو کے 7 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار استعمال ہو رہے ہیں۔
پاکستان کے مطابق 2021 سے اب تک افغانستان سے متعلق 225 فلیگ میٹنگز، 836 احتجاجی نوٹسز، 13 باضابطہ ڈیمارشز اور اعلیٰ سطح پر متعدد سفارتی رابطے کیے جا چکے ہیں، مگر پیش رفت محدود ہے۔
ترجمان کے مطابق عالمی برادری کو اب طالبان حکومت کو اس کے وعدوں کا ذمہ دار ٹھہرانا ہوگا، تاکہ خطے میں پائیدار امن، انسدادِ دہشت گردی اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: طالبان حکومت طالبان نے کے مطابق
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔