Express News:
2026-07-24@10:00:03 GMT

پاکستان کی خارجہ پالیسی اورافغانستان

اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT

آخر گِل اپنی صرف در میکدہ ہوئی

پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا

مجھے یہ شعر افغانستان کے وزیر خارجہ امیر متقی کو بھارتی وزیر خارجہ جے شنکرکے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے کھڑا دیکھ کر یاد آیا ہے۔کچھ دل جلے اسے بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے کا عنوان بھی دیں گے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ آسمان نے کوئی رنگ نہیں بدلا اور نہ ہی وہ رنگ بدلتا ہے، طالبان پہلے بھی ایسے ہی تھے بلکہ ان سے پہلے جو حکمران تھے ‘پاکستان کے بارے میں ان کے جذبات اور خیالات بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔

اس لیے افغانستان پر ظاہر شاہ کی حاکمیت ہو یا اس کیکزن سردار داؤدکی حکمرانی ہو‘ پاکستان کے لیے نفرت اور عناد ان کی پالیسی کا بنیادی اصول رہا ہے۔ ترکئی ‘حفیظ اللہ امین ‘ببرک کارمل اور نجیب اللہ سے لے کر برہان الدین ربانی اور صبغت اللہ مجددی تک کی حکومتیں ہوں ‘اپنے اپنے اختلافات رکھنے کے باوجود پاکستان کے حوالے سے ان سب کے خیالات ایک جیسے ہی رہے ہیں۔بعد میں طالبان آئے ‘حامد کرزئی آیا ‘اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ آئے اور اب پھر طالبان افغانستان پر قابض ہیں لیکن معاملہ ’’تم بدلے ہو نہ ہم نے خوبدلی ہے کے مصداق ہی چلا آ رہا ہے۔

افغانستان کی طالبان سرکار جو کارہائے نمایاں انجام دے رہی ہے ، اب تو پورا پاکستان جان چکا ہے سوائے ’’مرشد اور ان کے مریدین‘‘ کے۔ حتیٰ کے ’’ چینے مینے ‘‘سوری عوامی جمہوریہ چین بھی پاکستان کے مؤقف کا حامی ہے۔ افغانستان کی طالبان حکومت نے دوحہ معاہدے میں بہت سے عہد وپیماں کیے ہیں لیکن طالبان حکومت تاحال یہ ثابت نہیں کر سکی کہ وہ دوحہ معاہدہ میں کیے گئے تمام معاہدوں پر عملدرآمد کرنے میں سنجیدہ ہے۔

اب وہ خیر سے استنبول میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں ‘قطر اور ترکی ثالث بن چکے ہیں لیکن تاحال مذاکرات کا اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھ رہا۔مذاکرات کیا ہوتے ہیں؟ سفارتکاری کے آداب اور تقاضے کیا ہوتے ہیں ؟ امور مملکت اور رموز مملکت کی نزاکتیں اور کثافتیں کیسے رنگ دکھاتی ہیں ؟طالبان ان سے ناآشنا ہیں۔ان کی ڈپلومیٹک ٹریننگ ہے ہی نہیں ‘اسی لیے وہ ریاستوں کے امور کو بھی دو جنگجو گروپوں کے درمیان بات چیت کی طرح ہی سمجھتے ہیں۔یہی ان کی سب سے بڑی کمزوری اور کم فہمی ہے۔

جس کی وجہ سے وہ دوحہ معاہدے کو بھی اہمیت نہیں دے رہے اور استنبول میں بیٹھ کر کبھی ایک بات اور کبھی دوسری بات کہہ کر اٹھ جانا معیوب نہیں سمجھتے۔کسی ریاست کے مذاکرات کے وفد کی یہ سب سے بڑی خامی ہوتی ہے کہ اسے اپنے مینڈیٹ کا پتہ نہیں ہوتا‘وہ چھوٹے چھوٹے معاملات پر بھی اپنے ہینڈلرز اور ماسٹرز مائنڈ کے ساتھ رابطہ کرتا ہے اور ان سے پوچھے بغیر کچھ کرنے کی ہمت نہیں رکھتا جب کہ جدید اور منظم ریاستوں کے مذاکراتی وفود اپنے اپنے آئینی دائرہ کار میں خود مختار اور حتمی ہوتے ہیں۔وہ جن معاملات پر بات چیت کرنے بیٹھتے ہیں ‘اسے حل کرکے اٹھنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ انھیں سفارتکاری کی تربیت ہی اس کام کے لیے دی جاتی ہے جب کہ طالبان اس وصف سے خالی ہیں۔

ٹی ٹی پی پاکستان میں مسلسل دہشت گردی کی وارداتیں کر رہی ہے۔ اس کالعدم تنظیم کی قیادت کھلے بندوں افغانستان میں مقیم ہے اور وہاں آزادانہ طور پر نقل وحرکت کر رہی ہے۔ اسی طرح ٹی ٹی پی کے لوگ اور ان کے دہشت گرد بھی افغانستان میں مقیم ہیں اور ان کے تربیتی کیمپ بھی وہاں فعال ہیں۔ یہی نہیں بلکہ بی ایل اے اور بلوچستان میں سرگرم عمل دیگر دہشت گرد تنظیموں کے لوگ بھی افغانستان میں آتے اور جاتے ہیں۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ان حقائق کا کابل حکومت کو علم نہ ہو۔ یہی نہیں بلکہ اب تو یہ بھی اطلاعات مل رہی ہیں کہ ٹی ٹی پی کے لوگوں کو افغانستان کے دیگر علاقوں میں آباد کرنے کے لیے جو فنڈز طالبان حکومت کو کسی دوست ملک کی طرف سے ملے تھے، وہ بھی اس مقصد کے لیے استعمال نہیں ہوئے۔

بہرحال اصل مسئلہ یہ ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت اپنی عالمی ذمے داریاں پوری کرنے میں ناکام چلی آ رہی ہے۔ پاکستان کے ساتھ ملحقہ افغانستان کے علاقوں میں ایسے عناصر موجود ہیں جو پاک افغان سرحد پار کر کے پاکستان میں دہشت گردی کرتے ہیں۔ یہ صورت حال کسی بھی ملک کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ افغانستان کی حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک ذمے دار حکومت کا ثبوت دے۔ دوسروں پر الزام تراشی کر کے اپنی ناکامیوں یا کوتاہیوں کو چھپانا ممکن نہیں رہا ہے۔

افغانستان کی موجودہ عبوری حکومت افغانستان کے عام عوام کے مینڈیٹ سے برسراقتدار نہیں آئی اور نہ ہی اسے افغانستان میں بسنے والے تمام نسلی، لسانی اور علاقائی قبائل اور گروہوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ افغانستان کی موجودہ حکومت افغانستان کے وسائل کو جس انداز میں استعمال کر رہی ہے، یا غیرملکی کمپنیوں اور سرمایہ داروں کو فروخت کر رہی ہے، اس کے حسابات کا آڈٹ بھی نہیں ہوتا۔ اب بھارتی کمپنیاں بھی افغانستان کی معدنیات میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

کسی کو معلوم نہیں ہے کہ یہ معاملات کون طے کرتا ہے اور حتمی منظوری کون دیتا ہے اور اگر کسی نے جانچ پڑتال کرنی ہو تو اس کا کیا طریقہ کار ہے۔کس نے کتنا کمیشن لیا ہے اور افغانستان کے قومی خزانے میں کس شرح سے کتنی رقم جمع کرائی گئی ہے؟اس کے بارے میںسب خاموش ہیں۔ حالات اور قرائن سے یہی لگتا ہے کہ ایک مخصوص گروہ افغانستان کے وسائل کو اپنی مرضی سے اونے پونے داموں غیرملکی کمپنیوں اور سرمایہ داروں کو فروخت کر رہا ہے۔ افغانستان کے عام عوا م کو اس کاروبار سے ہونے والے منافع کا کوئی فائدہ نہیں مل رہا۔

پاکستان کو کالعدم ٹی ٹی پی کے حوالے سے سخت مؤقف برقرار رکھنا چاہیے۔اصولاً ٹی ٹی پی والوں کا پاکستان سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔ وہ پاکستان کے شہری ہیں، اس کے حوالے سے بھی کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ہیں۔ ممکن ہے کہ ان کے پاس جو ثبوت بھی ہوں یا جو کاغذات ہوں وہ جعل سازی سے بنائے گئے ہوں۔ اس لیے ٹی ٹی پی کی قیادت اوراس کے دہشت گردوں کو پاکستانی کہنا بالکل غلط ہے بلکہ پاکستان کے پرامن شہریوں کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔وہ افغانستان کے لوگ ہیں جو پاکستانیت کا لبادہ اوڑھ کر پاکستان میں دہشت گردی کر رہے ہیں۔

 ٹی ٹی پی والے اگر واقعی پاکستانی ہیں تو افغانستان کے طالبان کو انھیں پاکستان کے حوالے کرنا چاہیے۔ افغانستان کی دوعملی اور دورخی پالیسی کا پردہ فاش ہو چکا ہے۔ پاکستان زیادہ دیر تک اپنے شمال مغربی علاقے میں بدامنی برداشت نہیں کر سکتا۔ اس حوالے سے پاکستان کو دوٹوک مؤقف اختیار کرنا ہو گا۔پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں افغانستان کی پوزیشن کو ری وزٹ کرنا چاہیے اور تاجکستان، ازبکستان اور آذربائیجان پر زیادہ توجہ مرکوز کرنی چاہیے کیونکہ افغانستان کے اندر بھی تاجک اور ازبک ایک طاقتور گروپ کی شکل میں موجود ہیں۔ افغانستان میں ہزارہ منگول، گجر قبائل اور پامیری وغیرہ بھی بڑے قبائل ہیں۔ان کی اکثریت صوبہ نورستان اور بدخشاں میں ہے۔ ان کے ساتھ بھی پاکستان کی حکومت کو تعلقات استوار کرنے چاہئیں۔

افغانستان میں نورستان اور واخاں کے علاقے پاکستان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور ان کا افغانستان کے ساتھ نسلی اور ثقافتی یا لسانی تعلق نہیں ہے۔ پاکستان اگر اپنی اسٹرٹیجی تبدیل کرے تو اس کے لیے شمال مغرب میں بہت سے فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔واخان کی پٹی اور نورستان تاریخی اور جغرافیائی طور پرجنوبی ایشیا یعنی برصغیر پاک و ہند کا حصہ ہے۔

یہ علاقے 19ویں صدی میں افغانستان کا حصہ بنے‘یہاں کے باشندے بھی خود کو افغان نہیں کہلاتے۔ افغانستان میں برسراقتدار گروہ مسلسل پاکستان کے مفادات کے خلاف کام کرتا چلا آ رہا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے۔ پاکستان کی اکانومی کو تباہ کرنے کے لیے سمگلنگ کی پشت پناہی کرتا ہے توایسے میں پاکستان کوبھی حق حاصل ہے کہ وہ افغانستان کے حوالے سے اپنی اسٹرٹیجک پالیسی میں شفٹ لائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: افغانستان میں افغانستان کی افغانستان کے طالبان حکومت پاکستان میں کے حوالے سے پاکستان کے پاکستان کو ان کے ساتھ کر رہی ہے حکومت کو طالبان ا ٹی ٹی پی نہیں ہو کے لیے رہا ہے اور ان ہے اور

پڑھیں:

پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہانِ مملکت اجلاس کی میزبانی کرے گا، رکن ممالک کو دعوت

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا کہ پاکستان رواں برس ستمبر میں شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی چیئرمین شپ سنبھالنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

انہوں نے تمام رکن ممالک کو 2027 میں پاکستان میں منعقد ہونے والے ایس سی او سربراہانِ مملکت اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے ریجنل اینٹی ٹیررسٹ اسٹرکچر کی چیئرمین شپ سنبھال لی

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کرغزستان کے خوبصورت شہر چولپون آتا میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کی۔

جہاں انہوں نے تنظیم کی 25ویں سالگرہ پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے علاقائی امن، سلامتی، خوشحالی اور پائیدار ترقی کے فروغ میں ایس سی او کے کردار کو سراہا۔

Deputy Prime Minister and Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar represents Pakistan at the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Council of Foreign Ministers Meeting held in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan.#SCO #IshaqDar #PakistanDiplomacy #Pakistan #PakistanTV pic.twitter.com/KTFIYTe5TK

— Pakistan TV (@PakTVGlobal) July 24, 2026

اسحاق ڈار نے کرغز قیادت اور وزیر خارجہ ژین بیک کولوبایف کا اجلاس کی شاندار میزبانی اور بہترین انتظامات پر شکریہ ادا کیا۔

اپنے خطاب میں نائب وزیراعظم نے ’شنگھائی اسپرٹ‘ سے پاکستان کی غیرمتزلزل وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان تعاون، علاقائی روابط اور مشترکہ ترقی کے فروغ کے لیے بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔

مزید پڑھیں: مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، اسحاق ڈار کا آسیان فورم سے خطاب

انہوں نے علاقائی امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے اسلام آباد مذاکرات اور بعد ازاں ہونے والے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا حوالہ دیا، جسے انہوں نے پاکستان کے مذاکرات اور سفارتکاری پر مبنی پالیسی کا عملی اظہار قرار دیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ انہیں اپنے ہم منصب وزرائے خارجہ کی جانب سے پاکستان کی مخلصانہ امن کوششوں کو سراہنے پر خوشی ہوئی، جو خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار کا اعتراف ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسحاق ڈار امن و استحکام سفارتکاری شنگھائی اسپرٹ شنگھائی تعاون تنظیم علاقائی روابط کرغزستان کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ مذاکرات وزرائے خارجہ کونسل وزیر خارجہ

متعلقہ مضامین

  • پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہانِ مملکت اجلاس کی میزبانی کرے گا، رکن ممالک کو دعوت
  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان