data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(کامرس رپورٹر)پاکستان اس وقت غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں شدید کمی کے بحران سے دوچار ہے، جس کی بنیادی وجوہات معاشی بدحالی اور پالیسی کی غیر یقینی صورتحال ہیں۔ متعدد بین الاقوامی کمپنیاں یا تو اپنے حصص فروخت کر رہی ہیں یا مکمل طور پر پاکستانی مارکیٹ سے نکلنے کا فیصلہ کر چکی ہیں۔ قطر کے الثانی گروپ نے بھی اپنی 49 فیصد حصص فروخت کرنے کا عندیہ دیا ہے، جو 1,320 میگاواٹ پورٹ قاسم کول پاور پلانٹ میں اس کے ملکیتی شیئر ہیں۔ وفاقی حکومت کے ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ باضابطہ طور پر حکومت کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔پورٹ قاسم پاور پراجیکٹ میں دو 660 میگاواٹ کے سپر کرٹیکل کول یونٹس شامل ہیں جو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت تعمیر کیے گئے تھے۔ 2.

09 ارب ڈالر مالیت کا یہ منصوبہ 330.7 ایکڑ پر محیط ہے اور کراچی سے تقریباً 37 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔ یہ منصوبہ قطر کی کمپنی المرقب کیپیٹل اور چین کی پاور کنسٹرکشن کارپوریشن (جو سینوہائیڈرو ریسورسز لمیٹڈ کی ذیلی کمپنی ہے) کے اشتراک سے مکمل ہوا۔ الثانی گروپ نے اس منصوبے میں ایک ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی تھی۔دیگر نجی بجلی گھروں (آئی پی پیز) کی طرح پورٹ قاسم پاور پلانٹ کی انتظامیہ بھی سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹیڈ (سی پی پی اے-جی) کی جانب سے واجبات کی ادائیگی میں مسلسل تاخیر پر شدید تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہے۔ سی پیک کے چینی منصوبہ ساز ادارے اپنے واجبات کی ادائیگی کے لیے دباؤ بڑھا رہے ہیں، جن کی مجموعی رقم تقریباً 400 ارب روپے بتائی جا رہی ہے۔حال ہی میں پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی (پی کیو ای پی سی) کی انتظامیہ نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر سی پی پی اے-جی نے معاہدے کے تحت واجبات ادا نہ کیے تو پلانٹ کی کارکردگی معطل ہو سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق پورٹ قاسم پاور پلانٹ سے سرمایہ نکالنے کے ارادے کا نوٹس باضابطہ طور پر متعلقہ حکام کو پہنچا دیا گیا ہے۔ جب کمپنی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ کسی بھی ملاقات یا رابطے کا انتظام اسی سرکاری چینل کے ذریعے کیا جائے گا جس کے ذریعے اصل خط موصول ہوا تھا۔دوسری جانب پاکستان میں گزشتہ چار برسوں میں نو بین الاقوامی کمپنیاں ملک سے جا چکی ہیں۔ ان میں چار پیداواری کمپنیاں تھیں تین دواساز ادارے (فائزر، سینوفی ایونٹس اور ایلی للی) اور ایک کنزیومر گڈز کمپنی (پروکٹر اینڈ گیمبل)۔ باقی پانچ کمپنیاں سروسز سیکٹر سے تعلق رکھتی تھیں، جن میں شیل، ٹوٹل، ٹیلی نار، اور اوبر/کریم شامل ہیں۔

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پورٹ قاسم

پڑھیں:

انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران

ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔

ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش