data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251106-08-15
اسلام آباد(صباح نیوز)سپریم کورٹ آف پاکستان کے آئینی بینچ کے سینئر رکن جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے ہیں کہ سوال پوچھنا پڑتا ہے چاہے احمقانہ ہویانہ ہو۔ کیا ہائی کورٹ کادائرہ اختیارواپس لیا جاسکتا ہے۔ جبکہ جسٹس عقیل احمد عباسی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 199کے تحت قانون، ذیلی قانون سازی اور رولز کے نفاذ کے حوالہ سے ہائی کورٹ کوخصوصی دائرہ اختیارحاصل ہے۔ سروسز ٹربیونل کاکام بیٹھ کرقانون کے قانونی یاغیرقانونی ہونے کودیکھنا نہیں، آئین کے آرٹیکل 199کے تحت ہائی کورٹ کووسیع دائرہ اختیارحاصل ہے، آئینی عدالت کااختیار قانون کودیکھنا ہے ، ٹربیونل کایہ اختیارنہیں۔ سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس جمال خان مندوخیل،جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس شکیل احمد اور جسٹس عامرفاروق پر مشتمل 5رکنی آئینی بینچ نے بدھ کے روز سروس اورپی ایس ایس اور ایکس پی سی ایس افسران کی کیڈر کی تبدیلی کے معاملہ سندھ حکومت کی جانب سے 2018میں نافذ کئے جانے والے قانون کوسند ھ ہائی کورٹ کی جانب سے کالعدم قراردینے کے خلاف سندھ حکومت، رضا محمد شر، غلام مرتضیٰ، شفیق احمد، بابر صالح، عبدالرائوف، غلام علی المعروف طارق احمد اوردیگر کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف دائر 11متفرق درخواستوں پر سماعت کی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے سلمان اکرم راجہ فیصل صدیقی ایڈووکیٹ، افنان کریم کنڈی، سرمد ہانی بطور وکیل پیش ہوئے جبکہ مدعاعلیہان کی جانب سے سعد ممتاز ہاشمی، سینیٹر حامد خان ایڈووکیٹ، ذووالفقار خالد ملوکا، اجمل غفار طور اوردیگر بطور وکیل پیش ہوئے۔ سندھ حکومت کے وکیل سرمد ہانی کاکہنا تھا کہ دائرہ اختیارکامعاملہ تھا، آئین کے آرٹیکل 199کے تحت ہائی کورٹ معاملہ دیکھ سکتی ہے کہ نہیں، قانون کے مطابق سروسز ٹربیونل معاملہ دیکھ سکتا تھا،مقدمہ کی سماعت کے پہلے اوردوسرے رائونڈ میں ہائی کورٹ نے معاملہ کو غلط انداز میں سمجھا ۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کی جانب سے ہائی کورٹ

پڑھیں:

قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی  نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار  نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی  نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار  نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی، 
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔

عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔

آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی

متعلقہ مضامین

  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی