پائیدار ترقی کیلئے امن اور مؤثر قانون سازی ناگزیر ہے، شیری رحمن
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی سینیٹر اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کی چیئرپرسن شیری رحمان نے کہا ہے کہ دنیا تیزی سے غیر معمولی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے، ایسے وقت میں پائیدار ترقی کے لیے امن اور مؤثر قانون سازی ناگزیر ہو چکی ہے۔
پائیدار ترقی پالیسی ادارہ (ایس ڈی پی آئی) کی 28ویں سالانہ پائیدار ترقی کانفرنس کے دوسرے روز ماحولیاتی تبدیلی، عالمی امن، گرین فنانسنگ اور پائیدار ترقی کے موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ سماجی و سیاسی خلا کی موجودگی میں حقیقی ترقی ممکن نہیں۔
عالمی منظرنامے پر بڑھتی عسکری ترجیحات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیٹو ممالک نے دفاع کے لیے جی ڈی پی کا 5 فیصد مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے واضح ہے کہ دنیا دوبارہ جنگوں کی طرف بڑھ رہی ہے اور اس کا براہِ راست اثر ترقیاتی اور موسمیاتی فنڈنگ پر پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موسمیاتی چیلنجز شدید ہوتے جا رہے ہیں خاص طور پر بلوچستان اور سندھ میں درجہ حرارت 53 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی کی تازہ رپورٹ (این ڈی سی ) میں بتایا گیا ہے کہ ملک کو انرجی ٹرانزیشن کے لیے 565 ارب ڈالر درکار ہیں۔
شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان میں موسمیاتی ترقی کے لیے آنے والی امداد زیادہ تر قرض کی صورت میں ہے جبکہ گرین فنانسنگ کے حصول کے لیے پاکستان کو بڑے ممالک کے ساتھ سخت مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ہمیں یہ سوال اٹھانا ہوگا کہ وعدوں کے باوجود کلائمیٹ فنانس کہاں جا رہا ہے اور گرین فنڈز کس کو مل رہے ہیں۔
سینیٹر شیری رحمان نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ملک میں سولر جنریشن کے ذریعے ری نیوایبل انرجی کے شعبے میں نمایاں سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پائیدار ترقی نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔