اسلام آباد:

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی سینیٹر اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کی چیئرپرسن شیری رحمان نے کہا ہے کہ دنیا تیزی سے غیر معمولی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے، ایسے وقت میں پائیدار ترقی کے لیے امن اور مؤثر قانون سازی ناگزیر ہو چکی ہے۔

پائیدار ترقی پالیسی ادارہ (ایس ڈی پی آئی) کی 28ویں سالانہ پائیدار ترقی کانفرنس کے دوسرے روز ماحولیاتی تبدیلی، عالمی امن، گرین فنانسنگ اور پائیدار ترقی کے موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ سماجی و سیاسی خلا کی موجودگی میں حقیقی ترقی ممکن نہیں۔

عالمی منظرنامے پر بڑھتی عسکری ترجیحات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیٹو ممالک نے دفاع کے لیے جی ڈی پی کا 5 فیصد مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے واضح ہے کہ دنیا دوبارہ جنگوں کی طرف بڑھ رہی ہے اور اس کا براہِ راست اثر ترقیاتی اور موسمیاتی فنڈنگ پر پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موسمیاتی چیلنجز شدید ہوتے جا رہے ہیں خاص طور پر بلوچستان اور سندھ میں درجہ حرارت 53 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی کی تازہ رپورٹ (این ڈی سی ) میں بتایا گیا ہے کہ ملک کو انرجی ٹرانزیشن کے لیے 565 ارب ڈالر درکار ہیں۔

شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان میں موسمیاتی ترقی کے لیے آنے والی امداد زیادہ تر قرض کی صورت میں ہے جبکہ گرین فنانسنگ کے حصول کے لیے پاکستان کو بڑے ممالک کے ساتھ سخت مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ہمیں یہ سوال اٹھانا ہوگا کہ وعدوں کے باوجود کلائمیٹ فنانس کہاں جا رہا ہے اور گرین فنڈز کس کو مل رہے ہیں۔

سینیٹر شیری رحمان نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ملک میں سولر جنریشن کے ذریعے ری نیوایبل انرجی کے شعبے میں نمایاں سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پائیدار ترقی نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن