حکومت کا استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدی اسکیموں میں ترامیم کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251031-08-27
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت نے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدی اسکیموں میں ترامیم کا فیصلہ کرلیا، ترامیم کا مقصد اصل اوورسیز پاکستانیوں کو سہولت اور غلط استعمال روکنا ہے، بیگیج، گفٹ اورٹرانسفر آف ریذیڈنس اسکیموں میں یکسانیت کی تجاویز بھی زیر غور ہیں، ترامیم کی منظوری کے لیے سمری کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی میں پیش کی جائے گی۔ وزارت تجارت کے اعلامیہ کے مطابق وفاقی وزیر تجارت جام کمال اورمعاون خصوصی صنعت و پیداوار ہارون اختر کی زیر صدارت آٹو انڈسٹری سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس ایسسریز مینوفیکچررز اور پاکستان آٹوموٹیو منیوفیکچررز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے بھی شرکت کی- اجلاس میں آٹوپالیسی، استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد اورانڈسٹریل فسیلیٹیشن پر مشاورت کی گئی، وزیر تجارت کا کہنا ہے کہ ستعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد میں بدعنوانی روکی جائے گی، کمرشل درآمد میں بدعنوانی پری شپمنٹ اور پوسٹ شپمنٹ انسپیکشن سے روکی جائے گی، معیاری کنٹرول، واضح درآمدی قواعد سے شفافیت،انڈسٹری کی ترقی کو فروغ دیا جائے گا- انہوں نے کہاکہ حکومت کا مقصد درآمدات کے غلط استعمال پر قابو پانا اور اس کے ساتھ ساتھ مقامی پیداوار، عالمی مسابقت کو فروغ دینا ہے- اعلامیے کے مطابق استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدی اسکیموں میں ترامیم کے لیے تجاویز تیار کی جا رہی ہیں تاکہ اصل اوورسیز پاکستانیوں کو سہولت اور غلط استعمال روکا جا سکے، کمرشل استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عاید ہے،گاڑیوں کی درآمد پرڈیوٹی کوہر سال بتدریج کم کیاجائے گا۔ اعلامیہ کے مطابق بیگیج، گفٹ اورٹرانسفر آف ریذیڈنس اسکیموں میں یکسانیت کی تجویز پرغورکیا گیا، اس موقع پر معاون خصوصی ہارون اختر خان نے کہاکہ وزارتِ تجارت اور وزارتِ صنعت کے درمیان قریبی رابطہ ضروری ہیتاکہ پائیدار آٹو سیکٹر تشکیل دیا جا سکے۔ اعلامیہ کے مطابق پی اے اے پی اے ایم اور پی اے ایم اے نے لوکلائزیشن، وینڈر ڈیولپمنٹ، ٹیرف اسٹرکچر اور ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سے متعلق تجاویز پیش کیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: استعمال شدہ گاڑیوں کی درا مد اسکیموں میں کے مطابق
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔