صوبائی وزیر صنعت و تجارت کا لا ہور چیمبر کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (کامرس ڈیسک ) صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے ایوان صنعت و تجارت لاہور کا دورہ کیا جہاں صنعتکاروں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انڈسٹری اور صنعتکاروں کو درپیش مسائل پر بات چیت ہوئی۔ صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے انڈسٹری اور صنعتکاروں کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے صنعتی مراکز میں برسوں سے جاری پراپرٹی کاروبار بند کروادیا اب یہاں صرف انڈسٹری لگ رہی ہے جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پالیسی کے مطابق انڈسٹریل اسٹیٹس میں صنعتی یونٹس نہ لگانے والوں کے 90 فیصد پلاٹ کینسل کر دئیے گئے ہیں جبکہ پالیسی کے مطابق صنعتی یونٹس نہ لگانے والے باقی لوگوں کے پلاٹ بھی کینسل ہوں گے۔کسی کو بھی پنجاب انڈسٹریل اسٹیٹس کے غلط استعمال کی اجازت نہیں دیں گے۔ صوبائی وزیر نے لاہور چیمبر میں بزنس فسیلیٹیشن سینٹر کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے سیکرٹری انڈسٹری کو لاہور چیمبر میں بی ایف سی کے قیام کے لئے ورکنگ شروع کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلی بار وی وو موبائل فون کی مینوفیکچرنگ شروع ہونے جا رہی ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ انڈسٹریل اسٹیٹس میں صنعتی یونٹس لگانے کیلئے پلاٹوں کی قیمتوں میں کمی کی جارہی ہے اب پلاٹس 30 سال کی لیز پر بھی حاصل کئے جاسکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔