جنگ بندی برقرار: پاکستان، افغانستان نگرانی اور تصدیق کے میکنزم پر بھی متفق، اگلا دور 6 نومبر کو: ترک وزارت خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
استنبول؍ اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز ایجنسیاں+ عزیز علوی) پاکستان اور افغانستان استنبول مذاکرات میں جنگ بندی پر متفق ہو گئے۔ ترک وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان اور افغان طالبان نے جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق کر لیا۔ اعلامیہ کے مطابق مذاکرات کا اگلا دور 6 نومبر کو استنبول میں ہوگا۔ دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر برقرار رہے گا۔ تمام فریقین اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ نگرانی اور تصدیقی نظام قائم کیا جائے گا۔ افغانستان، پاکستان، ترکیہ اور قطر نے 25 تا 30 اکتوبر کے دوران استنبول میں اجلاس منعقد کئے۔ جنگ بندی کے نفاذ کے ضوابط اگلے مذاکرات میں طے ہوں گے۔ مذاکرات کا مقصد دوحہ قطر میں طے پانے والی جنگ بندی جاری رکھنا تھا۔ جنگ بندی کی نگرانی اور تصدیق کا میکنزم بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق بطور ثالث ترکیہ اور قطر دونوں فریقین کے تعاون کو سراہتے ہیں۔ امن کیلئے وضع شدہ طریقہ کار کی خلاف ورزی کرنے والے فریق کو سزا وار ٹھہرایا جائے گا۔ استنبول مذاکرات عبوری رضامندی اور خطے میں امن کی جانب پیش قدمی ہیں۔ پاکستان اس تمام معاملے کو internationalise کرنے میں کامیاب ہوا جو پاکستان کی ایک اہم سفارتی کامیابی ہے۔ گزشتہ چھ روز سے استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے وفود کے درمیان انتہائی اہم مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا۔ مذاکرات کا مقصد پاکستان کی طرف سے ایک ہی بنیادی مطالبے پر پیش رفت حاصل کرنا تھا افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے مؤثر طور پر روکنا، اور بھارت کی پشت پناہی یافتہ دہشت گرد گروہوں، خصوصاً فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) اور فتنہ الہندوستان (بی ایل اے) کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرنا۔ یہ مذاکرات کئی موقعوں پر تعطل کا شکار ہوتے دکھائی دیئے۔ خاص طور پر گزشتہ روز تک صورتحال یہ تھی کہ بات چیت کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ پائی تھی اور پاکستانی وفد واپسی کی تیاری کر چکا تھا۔ تاہم، میزبان ممالک ترکیہ اور قطر کی درخواست اور افغان طالبان وفد کی طرف سے پہنچائی گئی التماس کے بعد پاکستان نے ایک بار پھر امن کو ایک موقع دینے کے لیے مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے پر رضامندی ظاہر کی۔ گزشتہ روز ہونے والے مذاکرات کے دوران ایک عبوری باہمی رضامندی پر اتفاق کیا گیا، جس کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔ تمام فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دوحہ میں طے شدہ فائربندی کو پائیدار بنانے کیلئے اسے جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا (تاہم یہ رضامندی افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی نہ ہونے سے مشروط ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ افغان طالبان فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان جیسے دہشت گرد گروہوں کے خلاف واضح، قابل تصدیق اور مؤثر کارروائی کریں گے)۔ تفصیلات طے کرنے اور ان پر عملدرآمد کے لیے اگلی ملاقات 6 نومبر کو استنبول میں ہوگی۔ ایک مشترکہ مانیٹرنگ اور verification میکانزم تشکیل دیا جائے گا جو امن کو یقینی بنانے کے ساتھ خلاف ورزی کرنے والی پارٹی کے خلاف فیصلہ کرنے کا بھی اختیار رکھے گا۔ ترکیہ اور قطر نے بطور ثالث اور میزبان دونوں فریقوں کی فعال شمولیت کو سراہا ہے اور اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ مستقل امن اور استحکام کے لیے دونوں فریقین کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔ مذاکرات کے دوران پاکستان کا وفد دلائل، شواہد اور اصولی مؤقف کے ساتھ ثابت قدم رہا۔ پاکستانی وفد نے جس استقامت، بصیرت اور منطقی بنیادوں پر اپنے مطالبات پیش کیے، وہ پیشہ ورانہ مہارت کی ایک اعلیٰ مثال تھی۔ آخر کار عوام کے مفاد کی جیت ہوئی اور افغان وفد ایک عبوری مفاہمت پر آمادہ ہونے پر مجبور ہوا۔ اس تمام پس منظر میں جو عبوری پیش رفت حاصل ہوئی ہے، اسے نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے عوام بلکہ خطے میں امن، استحکام اور عالمی سکیورٹی کے لیے ایک مثبت سنگ میل قرار دیا جانا چاہیے۔ یہ ایک ایسی کامیابی ہے جو مخالف قوتوں کی جانب سے پیدا کردہ رکاوٹوں، الزامات اور تخریبی ذہنیت کے باوجود دلیل، تدبر اور قومی مفاد پر ڈٹے رہنے کا نتیجہ ہے۔ پاکستان نے جس سنجیدگی، فہم و فراست اور قومی وقار کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کی، وہ قابل تحسین ہے۔ ساتھ ہی ترکیہ اور قطر جیسے برادر ممالک کی میزبانی اور ثالثی نے اس عبوری کامیابی کو ممکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان کی ریاست، قیادت اور عوام کی طرف سے امن کی کوششیں جاری رہیں گی، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی واضح ہے کہ ملکی خودمختاری، قومی مفاد اور عوام کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اس مؤقف پر یکساں، پرعزم اور مکمل طور پر متحد ہے، اور اپنی قوم کو یقین دلاتی ہے کہ وہ ہر داخلی و خارجی خطرے کا مقابلہ بھرپور تیاری، وسائل اور عزم سے کرے گی۔ وزیر دفاع نے نجی ٹی وی کو انٹرویو میں بتایا دوست ممالک نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا۔ ہم نے اپنی پوزیشن کلیئر کر دی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہونی چاہئے۔ قانونی طور پر افغان رجیم کا کوئی ’’سٹیٹس‘‘ نہیں ہے۔ افغان طالبان رجیم کے پاس اخلاقی، قانونی اور آئینی جواز نہیں ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ میزبانوں ترکیہ اور قطر کی درخواست نے پاکستانی ٹیم کو ائر پورٹ سے بلوایا۔ نجی ٹی وی کو انٹرویو میں انہوں نے کہا پاکستان اور افغانستان کے درمیان شٹل ڈپلومیسی ہوئی۔ بدھ کے روز مذاکرات کے حوالے سے ہماری امید ٹوٹ گئی تھی۔ ہمیں افغان طالبان رجیم سے کوئی امید نہیں۔ ثالثوں کے ذریعے مختلف مسودے شیئر کئے۔ بدھ کے مقابلے میں گزشتہ روز کچھ تھوڑ سی امید پیدا ہوئی۔ کابل کے لوگ کہہ رہے تھے ٹی ٹی پی کو کنٹرول کریں گے، لکھ کر نہیں دیں گے۔ غزہ میں فوج کیوں نہیں بھیجی جا رہی ہے؟ معاہدہ فلسطین اور حماس نے خود کیا ہے۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے حماس کو غیر مسلح کیا جائے گا۔ غیر مسلح ہونے کا معاہدہ حماس نے خود کیا۔ ابھی کسی نے غزہ میں فوج بھیجنے کا نہیں کہا۔ غزہ میں فوج بھیجنے کے لئے وفاقی کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔ پارلیمان میں چیزوں پر بحث ہو سکتی ہے۔ ابھی 27 ویں ترمیم کے حوالے سے کوئی تجویز آن پیپر نہیں۔ بلوچستان، خیبر پی کے میں کچھ علاقوں میں بغیر عدالت تمام معاملات ہوجاتے ہیں۔ سکیورٹی اداروں کا مطالبہ ہے لوگوں کی گرفتاری اور پروسیڈ کرنے کا اختیار دیا جائے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا نے نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بفر زون قائم کیا جائے۔ اگر افغانستان تیار ہوتا ہے تو مل کر بفر زون قائم کی جائے گی۔ اگر افغانستان تیار نہ ہوا تو ہم خود بفرزون قائم کریں گے۔ اب ممکن نہیں رہا کہ ہم یکطرفہ طور پر دہشتگردی کا شکار ہوتے رہیں۔ یفر زون کیلئے قطر، ترکیہ، سعودی عرب غیر جانبدار ثالث کے طور پر ذمہ داری ادا کریں گے۔ افغانستان میں جہاں دہشتگردوں کی تربیت ہو رہی ہے ان تمام علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ہم نے افغانستان سے دہشتگردی کے ثبوت دیئے ہیں۔ افغان طالبان تسلیم کرتے ہیں لیکن لکھ کر دینے کو تیار نہیں۔ پاکستان چاہتا ہے افغان طالبان لکھ کر دیں۔ خواجہ آصف نے پاکستان کے دفاع کے حوالے سے جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا۔ افغان نمائندہ وفد کئی بار راضی ہوا۔ کابل سے رابطہ کیا تو نئی بات کی گئی۔ کابل میں موجود لوگوں کو بھارت کی حمایت حاصل اور مداخلت کا سامنا ہے۔ بھارت بھی حالات خراب کرانے میں سرگرم ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا ہے کہ افغان وفد کا کہنا ہے ٹی ٹی پی کے دہشتگرد افغان سرزمین پر پاکستانی پناہ گزین ہیں۔ ٹی ٹی پی کے دہشتگرد اپنے گھروں میں پاکستان واپس جا رہے ہیں، کیسے پناہ گزین ہیں جو اپنے گھر انتہائی تباہ کن اسلحہ سے مسلح ہوکر جا رہے ہیں۔ جو اپنے گھر، بسوں، ٹرکوں اور گاڑیوں پر سوار ہو کر نہیں جا رہے، کیسے پناہ گزین ہیں جو چوروں کی طرح دشوار راستوں سے پاکستان داخل ہو رہے ہیں، یہ تاویل ہی افغانستان کی نیت کے فتور اور خلوص سے عاری ہونے کا ثبوت ہے۔ دریں اثناء وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ افغان طالبان کو یہ بات ماننا پڑی کہ دہشتگرد کا رروائیاں بند ہوں گی۔ امید ہے اب دہشتگرد کا رروائیاں نہیں ہوں گی۔ دوست ممالک پاکستان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ترکیہ اور قطر پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے۔ جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے فریق کے خلاف سزا کا تعین کیا جائے گا۔ پاکستان کے خلاف دہشتگردوں کو سپورٹ کیا جا رہا تھا۔ پشت پناہی دی جا رہی تھی۔ یہ پاکستان کے مؤقف کی تائید اور بیانیے کی جیت ہے۔ پوری دنیا کو پتا ہے پاکستان پر حملے ہو رہے تھے۔ قطر اور ترکیہ کی مدد سے دوبارہ مذاکرات شروع ہوئے تھے۔ جنگ بندی میں افغان طالبان کی جانب سے فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں بھی شامل ہیں۔ پاکستان کو اب نیا فورم میسر ہو گا جہاں دہشتگردی کے ثبوت پیش کرے گا۔ افغان طالبان کو یقینی بنانا ہوگا کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔ عطاء تارڑ نے کہا پاک افغان سرحدیں کھولنے کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ دریں اثناء وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ پاکستان کے اصولی مؤقف کی جیت ہوئی ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کسی کی بھی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔ افغانستان کا امن پاکستان کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ افغانستان بھارت کی پراکسی بنا رہا تو کبھی آگے نہیں بڑھ پائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پاکستان اور افغانستان کے پاکستان اور افغان پاکستان کے خلاف ترکیہ اور قطر افغان طالبان استنبول میں کیا جائے گا پاکستان کی مذاکرات کا کے درمیان کہا ہے کہ کہ افغان ٹی ٹی پی کے ساتھ کریں گے کے لیے کیا جا نے کہا
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔