افغان سرزمین سے دہشتگردی نہیں ہونے دیں گے(فیلڈ مارشل)
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
افغان سرزمین سے دہشت گردی ناقابل برداشت،دہشتگردوں اور سہولت کاروں کاخاتمہ کرینگے، پشاور آمد پر کور کمانڈر نے آرمی چیف کا استقبال کیا، قبائلی عمائدین کے جرگے سے ملاقات اور تبادلہ خیال کیا
پاکستان، بالخصوص خیبرپختونخوا، کو دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں سے مکمل طور پر پاک کر دیا جائے گا،آرمی چیف کی قبائلی عمائدین کو یقین دہانی،ہیڈکوارٹرز 11 کور میںبریفنگ دی، آئی ایس پی آر
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام کی قربانیوں کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشت گردی نہیں ہونے دیں گے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پشاور کا دورہ کیا جہاں قبائلی عمائدین کے جرگے کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ آرمی چیف کو ہیڈ کوارٹرز 11 کور میں سیکیورٹی صورت حال، آپریشنل تیاریوں، پاک-افغان سرحد پر امن و استحکام اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں پر جامع بریفنگ دی گئی۔بیان میں کہا گیا کہ فیلڈ مارشل نے پاک-افغان کشیدگی کے دوران قبائلی عوام کی جانب سے سیکیورٹی فورسزکی غیر مشروط حمایت کو سراہا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام کی قربانیوں کوخراج تحسین پیش کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق قبائلی عمائدین نے دہشت گردی اور افغان طالبان کے خلاف مسلح افواج کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جرگے سے خطاب میں کہا کہ پاکستان افغانستان سمیت تمام ہمسایوں کے ساتھ امن کا خواہاں ہے، افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشت گردی نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کے تسلسل کے باوجود پاکستان نے گزشتہ چند ساl میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور افغانستان کے ساتھ متعدد مواقع پر سفارتی اور اقتصادی تعاون بڑھایا ہے۔فیلڈ مارشل نے کہا کہ اس تعاون کا مقصد پاک-افغان دوطرفہ تعلقات کو بہتربنانا ہے، تاہم بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد پراکسیز فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے کے بجائے، افغان طالبان حکومت ان گروپس کو ہرممکن مدد فراہم کر رہی ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے قبائلی عمائدین کو یقین دلایا کہ پاکستان خصوصاً خیبر پختونخواہ کو دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں سے پاک کر دیا جائے گا۔اس موقع پر قبائلی عمائدین نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکی جانب سے بے لاگ گفتگو کو سراہا اور پاکستان میں امن کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ فتنہ الخوارج کے نظریے کو خیبرپختونخواہ کے قبائل میں کوئی قبولیت نہیں ہے۔قبل ازیں پشاور آمد پر کور کمانڈر پشاور نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل عاصم منیر نے افغان سرزمین سے قبائلی عمائدین ا ئی ایس پی ا ر ا رمی چیف کے خلاف
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز