وزیر اعظم شہباز شریف: ترقی اور خوشحالی کے لیے یکجہتی اور بھائی چارہ ضروری ہے
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پورا پاکستان ایک گھرانہ ہے، اور کہیں بھی آگ لگے تو ہمیں اسے مل کر بجھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ محبت، ایثار اور قربانی کے جذبے سے کام لے کر ہی ملک میں امن، ترقی اور خوشحالی کو مشعلِ راہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ خیالات انہوں نے ہفتے کے روز نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ظاہر کیے۔ اس موقع پر وفاقی وزرا، ارکان اسمبلی، اہل دانش اور سرکاری افسران کی بڑی تعداد موجود تھی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان ملک کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے اور یہاں کے بلوچ رہنماؤں نے رضا کارانہ طور پر پاکستان کے ساتھ الحاق کا تاریخی فیصلہ کیا۔ صوبے کی تاریخ، ثقافت اور روایات اسے منفرد بناتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے بلوچستان کو بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے، لیکن افسوس کے ساتھ یہ دولت ابھی تک زمین کے اندر دفن ہے اور اسے نکالا نہیں جا سکا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان میں مختلف برادریاں اور قبائل پُرانے زمانے سے ہم آہنگی کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ بلوچ عوام کشادہ دل اور مہمان نواز ہیں، اور یہاں پنجاب اور دیگر مہاجرین کے ساتھ دیرپا تعاون کی روایت رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی جغرافیائی ساخت اور پھیلا ہوا رقبہ ترقی کے لیے چیلنج ہیں، اور سڑکوں، بجلی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے بغیر تعلیم، صحت، روزگار اور صنعت کی ترقی ممکن نہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 2010 میں بطور وزیر اعلیٰ پنجاب وہ این ایف سی اجلاس میں شریک تھے، جس میں پنجاب نے تاریخی قربانی دی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب پہلے پاکستانی ہیں، اور بعد میں بلوچ، سندھی، پنجابی یا پشتون۔ صوبوں کے درمیان اتفاق رائے پاکستان کی مضبوطی کی بنیاد ہے، اور وفاق کی روح باہمی قربانی اور بھائی چارے میں پوشیدہ ہے۔
وزیر اعظم نے بتایا کہ کراچی تا چمن روڈ کو پہلے خونی روڈ کہا جاتا تھا، اور اب ساڑھے تین سو ارب روپے کے تخمینے سے اس شاہراہ کو دو رویہ بنایا جا رہا ہے تاکہ اسے امن کی سڑک میں تبدیل کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ امن، اتحاد اور بھائی چارہ ہی ترقی کی ضمانت ہیں، اور پاکستان کے تمام صوبے ایک خاندان ہیں۔
شہباز شریف نے اختتاماً کہا کہ مسائل ہمیشہ رہیں گے، لیکن ہمیں یکجہتی، ایثار اور قربانی کے جذبے سے کام لے کر پاکستان کو عظیم ملک بنانا ہوگا۔ بلوچستان سے پشاور تک ترقی اسی اتحاد اور محبت سے ممکن ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے کے ساتھ
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔