ریپ سے متاثرہ لڑکی کا کردار ادا کرتے ہوئے مجھے صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا: صبا قمر
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
اداکارہ صبر قمر نے انکشاف کیا ہے کہ جیو ٹی وی مقبول ڈرامے ’کیس نمبر 9 ‘ کی شوٹنگ کے دوران ریپ سے متاثرہ لڑکی کے جذباتی مناظر شوٹ کروانے کی وجہ سے انہیں صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
نجی ٹی وی کے ڈرامہ ریویو شو میں ڈرامہ سیریل ’کیس نمبر 9‘ کی کہانی اور اس کی مرکزی اداکارہ صبا قمر کو ان کی اداکاری پر خوب پذیرائی ملی۔
مذکورہ شو کا مختصر ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا، وائرل کلپ نے صبا قمر کی توجہ بھی حاصل کی تو انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر اسے ری شیئر کیا۔
ریپ سے متاثرہ لڑکی کا کردار ادا کرتے ہوئے مجھے صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا: صبا قمر
انسٹااسٹوری میں ری شیئر کئے گئے ویڈیو کلپ پر تبصرہ کرتے ہوئے اداکارہ نے ساتھی فنکاروں و مبصرین کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ ریپ سے متاثرہ لڑکی کا کردار ادا کرنا میرے لیے آسان نہیں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کردار کے لیے مسلسل جذباتی مناظر شوٹ کروانے سے میری ذہنی و جسمانی صحت بھی متاثر ہوئی کیونکہ جذباتی مناظر ذہن اور جسم پر بہت بڑا دباؤ ڈالتے ہیں لیکن میں اپنی بہتر دیکھ بھال کر رہی ہوں۔
اداکارہ نے یہ بھی لکھا کہ میں جذباتی سینز شوٹ کروانے کی وجہ سے پیش آنے والے صحت کے مسائل سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہوں اور خود کو ہمیشہ یاد دلاتی ہوں کہ مجھے مضبوط رہنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: صحت کے مسائل
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔