بالی ووڈ کی اداکارہ اور سری دیوی کی بیٹی جھانوی کپور نے اپنے بارے میں وائرل ہونے والی کاسمیٹک سرجری کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے “بفیلو پلاسٹی” نامی کوئی سرجری نہیں کروائی۔
ایک ٹاک شو میں بات کرتے ہوئے جھانوی نے وضاحت کی کہ سوشل میڈیا پر کچھ ’’خود کو ڈاکٹرز کہنے والے یوٹیوبرز‘‘ نے ان کے چہرے کا تجزیہ کیا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے یہ سرجری کرائی ہے، جو حقیقت میں محض ایک جھوٹی کہانی ہے۔
بفیلو پلاسٹی” یا “بل ہارن لپ لفٹ” ایک کاسمیٹک سرجری ہے جس میں ناک اور اوپری ہونٹ کے درمیان کی جگہ کو کم کیا جاتا ہے تاکہ ہونٹ قدرتی طور پر زیادہ بھرے ہوئے دکھائی دیں۔
جھانوی کپور نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ایسی افواہیں نوجوان لڑکیوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا، “اگر کوئی کم عمر لڑکی ان باتوں پر یقین کر کے غیر محفوظ طریقے سے سرجری کرواتی ہے تو یہ انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔”
اداکارہ نے اس بات پر زور دیا کہ خوبصورتی بڑھانے کے متعلق لوگوں میں صحیح آگاہی ہونی چاہیے تاکہ وہ سوشل میڈیا پر گمراہ کن دعووں سے بچ سکیں اور ایسی سرجریوں سے گریز کریں جو کسی اداکارہ کے نام سے جڑ کر پھیلائی جاتی ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق