خان صاحب حل صرف غیر مشروط مفاہمت میں ہے
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
عمران خان کی سیاست اس وقت پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں سب سے زیادہ شور، شدت اور ٹکراؤ کا مرکز بنی ہوئی ہے، اور یہ ٹکراؤ اب اس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں نہ صرف ادارے، سیاست دان اور ریاستی طبقات ان سے فاصلہ اختیار کرچکے ہیں بلکہ ان کی اپنی سیاسی جماعت بھی شدید دباؤ، انتشار اور مایوسی کا شکار دکھائی دیتی ہے۔
عمران خان نے پچھلے چند برسوں میں جس انداز سے ریاستی اداروں، بالخصوص فوج اور عدلیہ، کو براہِ راست نشانہ بنایا ہے، وہ پاکستان کی چار دہائیوں کی سیاسی تاریخ میں کہیں نظر نہیں آتا۔ ان کی سیاست کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے مفاہمت، مکالمہ اور سیاسی حکمت عملی جیسے بنیادی جمہوری اصولوں کو پس پشت ڈال کر ٹکراؤ کو ہی سیاست کا اصل جوہر سمجھ لیا ہے۔
عمران خان اس غلط فہمی کا شکار رہے کہ اگر وہ مسلسل سخت بیانیہ اختیار کریں گے، الزام تراشی کریں گے اور ریاستی اداروں کی خلاف میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے فضا بنائیں گے تو عوامی حمایت انہیں ہر قسم کی سیاسی اور قانونی مشکلات سے بچا لے گی۔ لیکن تاریخ، سیاسی حقیقت اور ریاستی ڈھانچے کی ساخت اس مفروضے کی اجازت نہیں دیتی۔ پاکستان میں کبھی بھی کوئی سیاسی رہنما اداروں سے مسلسل لڑائی کر کے کامیاب نہیں ہوا۔ نہ ذوالفقار علی بھٹو ریاستی طاقت کے سامنے کھڑے رہ سکے، نہ نواز شریف اداروں سے ٹکر لے کر حکومت چلا سکے، اور نہ ہی عمران خان کے لیے یہ راستہ کوئی سیاسی فتح لانے والا ثابت ہو سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں طاقت کے کئی مراکز موجود ہیں، وہاں ایک سیاست دان کا اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنی سیاست کو ٹکراؤ سے نکال کر مکالمے، مفاہمت اور تدبر کی طرف لے جائے۔
عمران خان کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ وہ اداروں پر تنقید کرتے ہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے تنقید کو ذاتی جنگ بنادیا ہے۔ ان کے بیانات میں وہ سنجیدگی، دلیل یا سیاسی بلوغت نہیں پائی جاتی جو ایک قومی رہنما کے اندر ہونا ضروری ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے سخت زبان، ذاتی حملے، طنزیہ تبصرے اور جذباتی بیانیہ سیاسی حقیقت کو تبدیل نہیں کرتے بلکہ سیاست دان کو مزید تنہا کر دیتے ہیں، اور یہی ہوا۔
پی ٹی آئی کے اندرونی حلقوں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ خان صاحب کے مسلسل حملوں نے نہ صرف ریاستی اداروں میں شدید ردعمل پیدا کیا بلکہ پارٹی کی اپنی پوزیشن بھی کمزور کردی۔ سوشل میڈیا کی تالیاں وقتی ہوتی ہیں، مگر ریاست ہمیشہ دیرپا ہوتی ہے، اور اس حقیقت کو نہ سمجھنا عمران خان کی سب سے بڑی سیاسی خامی تھی۔ انہوں نے اپنی حکمت عملی خیالی تصورات پر رکھی، عملی سیاست کی حقیقتوں پر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اردگرد وہی لوگ جمع ہو گئے جو انہیں وہی مشورے دیتے رہے جو وہ سننا چاہتے تھے، نہ کہ وہ جو سیاسی بقا کا تقاضا تھے۔ ایسا ہر سیاسی رہنما کے ساتھ ہوا ہے جو اپنی مقبولیت کو حقیقت سمجھ بیٹھتا ہے اور اپنی ٹیم کو دلیل کے بجائے خوشامد پر کھڑا کر دیتا ہے۔
ریاست سے ٹکراؤ کی یہ روش عمران خان کے لیے بھی مہلک ثابت ہوئی کیونکہ انہوں نے کبھی یہ حقیقت تسلیم نہیں کی کہ پاکستان میں سیاست کا راستہ صرف مفاہمت، تدبر، آئینی دائرہ کار اور پارلیمانی عمل سے ہو کر گزرتا ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو کبھی وہ اہمیت نہیں دی جو ایک جمہوری رہنما دیتا ہے۔ انہوں نے اپنی حکومت کے دوران اپوزیشن سے مکمل دوری اختیار کی، اصلاحات کا عمل تعطل کا شکار کیا، پارلیمانی نظام کو مضبوط کرنے کے بجائے اس کو کمزور کیا، اور نتیجہ یہ ہوا کہ جب وہ خود مشکل میں پڑے تو ان کے پاس کوئی سیاسی راستہ، کوئی پل، کوئی رابطہ باقی نہ بچا۔ سیاست دان وہ ہوتا ہے جو اپنے مخالف کے لیے بھی دروازہ کھلا رکھے، مگر عمران خان نے ہر دروازہ اپنے ہاتھوں سے بند کیا۔ سیاست میں سخت بیانیہ وقتی فائدہ دیتا ہے، مگر طویل المیعاد تباہی ثابت ہوتا ہے۔
اس پورے منظر میں ایک بنیادی غلط فہمی بھی پائی جاتی ہے، عمران خان خود کو انقلابی سمجھتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ریاستی ڈھانچوں کے خلاف انقلابی جنگیں اس ملک میں ممکن ہی نہیں۔ پاکستان کا انتظامی، عسکری اور عدالتی ڈھانچہ کسی انقلابی عمل کو اپنی جڑیں ہلانے نہیں دیتا۔ لہٰذا عمران خان کا یہ خیال کہ وہ بیانیے کے زور پر اس پوری ساخت کو بدل دیں گے، سیاسی ناپختگی اور طاقت کی حقیقی ڈائنامکس کو نہ سمجھنے کا نتیجہ تھا۔ اگر وہ واقعی تبدیلی کے خواہاں تھے تو انہیں پارلیمنٹ، قانونی عمل اور ادارہ جاتی اصلاحات کے راستے پر چلنا چاہیے تھا، مگر انہوں نے ہر بار شارٹ کٹ لیا۔ احتجاج، لانگ مارچ، دھرنے، جلسے یہ سب سیاسی دباؤ پیدا تو کرتے ہیں مگر ریاستی پالیسیوں کو تبدیل نہیں کرتے۔ اب جبکہ وہ شدید سیاسی، قانونی اور سماجی دباؤ کا شکار ہیں، انہیں خود بھی یہ احساس ہو رہا ہے کہ وہ راستے جو وہ نے اکھاڑے تھے، وہی اب ان کے آگے دیوار بن کر کھڑے ہیں۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست میں بقا کا واحد راستہ مفاہمت ہے، اور مفاہمت کمزوری نہیں بلکہ حکمت ہوتی ہے۔ اگر عمران خان واقعی ایک بڑے لیڈر کے طور پر اپنا کردار برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں انا، غصے، ضد، الزام تراشی اور اداروں سے جنگ جیسے بیانیے کو ترک کرنا ہوگا۔ ایک ایسا رہنما جو ریاستی اداروں سے دشمنی مول لے، وہ کبھی بھی قومی سطح پر مضبوط کردار ادا نہیں کر سکتا۔ سیاست ملک کو جوڑنے کا نام ہے، ریاستی دائروں کو توڑنے کا نام نہیں۔
عمران خان کو اب اپنی سیاست کو انتقام، جذباتیت اور ذاتی رنجشوں سے نکال کر ویژن، سیاست، مکالمے اور نیشنل انٹرسٹ کی بنیاد پر کھڑا کرنا ہوگا۔ انہیں سمجھنا ہوگا کہ اداروں سے محاذ آرائی، بیانیوں کے ذریعے ریاست کو چیلنج کرنا اور سیاسی مخالفین کو مکمل طور پر ختم کرنے کی خواہش صرف انتشار پیدا کرتی ہے، مسائل حل نہیں کرتی۔ پاکستان میں نہ کوئی سیاست دان اکیلے تبدیلی لا سکتا ہے، نہ کوئی ادارہ اکیلے نظام چلا سکتا ہے۔ یہاں ہر سیاسی قوت کو کسی نہ کسی مقام پر دوسروں کے ساتھ بیٹھ کر چلنا پڑتا ہے۔ اسی حقیقت کو قبول کرنا عمران خان کی سیاسی بقا کی پہلی شرط ہے۔
اگر وہ اپنی انا سے اوپر اٹھ جائیں، مفاہمت کو اپنائیں، اداروں کے ساتھ کشیدگی کم کریں، سیاسی قوتوں سے مکالمہ بحال کریں اور قومی سطح پر ایک ذمے دار رہنما کے طور پر ابھریں تو وہ اب بھی پاکستان کے سیاسی مستقبل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ اسی ٹکراؤ، اسی لڑائی، اسی سخت بیانیے پر قائم رہے تو وہ اپنی مقبولیت کھونے کے ساتھ ساتھ اپنی سیاسی جگہ بھی محدود کر بیٹھیں گے۔ پاکستان کو اس وقت ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو تقسیم نہیں کرے بلکہ جوڑنے والا ہو، جو محاذ آرائی نہیں بلکہ حل دے، جو جذباتی نہیں بلکہ بالغ سیاسی فیصلہ سازی کرے۔ عمران خان کو بھی یہی سمجھنا ہوگا کہ سیاست جنگ نہیں، حکمت ہے اور مفاہمت ہی وہ واحد راستہ ہے جو ریاست، سیاست اور عوام تینوں کو آگے لے کر چل سکتا ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ریاستی اداروں سیاست دان ہیں بلکہ انہوں نے یہ ہے کہ سکتا ہے کے ساتھ نہیں کر کا شکار اگر وہ
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔