ذہنی مریض سے کسی کو بھی فیض حاصل نہیں ہوگا، طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نےکہا ہےکہ ذہنی مریض سے کسی کو بھی فیض حاصل نہیں ہوگا، کندھے نہ ہوتے تو آپ وزیراعظم بھی نہیں بن سکتے تھے۔
وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نےکہاجو ہری پورکاالیکشن نہیں جیت سکتے وہ لاہور اورفیصل آباد میں کیا مقابلہ کریں گے،شعبدہ بازوں کو بتایا جائےگا کہ قانون کی عملداری کیسے ہوتی ہے،یہ لوگ اڈیالہ جیل میں قیددوسرے قیدیوں کیلئےبھی خطرہ بن رہےہیں،یہ دہشت گردوں پرتنقیدکیو نہیں کرتے،عوام نے پشاور میں پی ٹی آئی جلسےمیں انکا حال دیکھ لیا ہے،پشاورجلسہ سوائے گالم گلوچ اور تنقید کےکچھ نہیں تھا۔
مزیدکہا معرکہ حق میں دشمن کوشکست دینے والے پاک فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا،کب تک کوئی خاموش اختیارکرسکتا ہے،ہرروزبانی پی ٹی آئی ایکس ہینڈل سےملکی اداروں کیخلاف بےجاتنقید کی جاتی ہے،بانی پی ٹی آئی نے کبھی بھی اسرائیل کو برا نہیں کہا،بانی پی ٹی آئی نےکبھی بھارت کےخلاف کوئی بات نہیں کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔