’میں نے غلطی کی‘رنبیر کپور سے تعلق ختم ہونے پر کترینہ کیف کا ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
معروف صحافی پوجا سمنت نے انکشاف کیا ہے کہ کترینہ کیف بالی ووڈ اداکار رنبیر کپور سے تعلق کے خاتمے کے بعد شدید ذہنی اور جذباتی دباؤ کا شکار تھیں۔
پوجا نے کہا کہ ایک انٹرویو کے دوران کترینہ کیف انتہائی پریشان دکھائی دے رہی تھیں اور بہت رو رہی تھیں۔ وہ کہہ رہی تھیں کہ ’میں نے غلطی کی ہے، اور میں اپنے کام کی کمی کی ذمہ دار ہوں‘۔
یہ بھی پڑھیں: وِکی کوشل اپنی عمر سے زیادہ سمجھ دار ہیں، کترینہ کیف
انہوں نے مزید بتایا کہ کترینہ نے اپنے دل ٹوٹنے کے جذبات کھل کر شیئر کیے اور کہا کہ ’وہ اس سے محبت کر بیٹھی تھیں اور پھر چیزیں ٹھیک نہیں ہوئیں، اور اب ہم ساتھ نہیں ہیں۔ لیکن اس کی وجہ سے، میں نے اپنا کیریئر برباد کر دیا‘۔
پوجا کے مطابق کترینہ دیوانہ وار محبت میں تھیں اور اس رشتے کے دوران کئی فلم کے مواقع چھوڑ دیے تھے کیونکہ وہ شادی کے لیے اور کام سے کچھ دوری کے لیے تیار ہو رہی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: کترینہ کیف اور وکی کوشل کے ہاں بیٹے کی پیدائش
انہوں نے کہا کہ شاید وہ یہ سوچ رہی تھیں کہ رنبیر سے شادی کے بعد وہ کپور خاندان کی رکن بن جائیں گی اور شاید وہ سمجھتی تھیں کہ ان کے خاندان میں بیٹیوں کو فلموں میں کام کرنے کی اجازت نہیں تھی کم از کم اس وقت یہ رویہ تھا اب حالات بدل گئے ہیں۔ انہوں نے بہت سی فلمیں چھوڑ دی تھیں وہ بہت مایوس تھیں۔
تاہم کترینہ نے بعد میں اداکار وکی کوشل سے شادی کر لی اور نومبر میں ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ بالی ووڈ اداکار رنبیر کپور کترینہ کیف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بالی ووڈ بالی ووڈ اداکار رنبیر کپور کترینہ کیف کترینہ کیف رہی تھیں
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔