پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کی مسلح افواج کیخلاف پروپیگنڈا مہم کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کی مسلح افواج کیخلاف پروپیگنڈا مہم کی شدید مذمت WhatsAppFacebookTwitter 0 7 December, 2025 سب نیوز
راولپنڈی(آئی پی ایس )پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی (پیس)نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف بڑھتی ہوئی منظم پروپیگنڈا مہم کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی سلامتی اور قومی یکجہتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے یہ موقف صدر پیس، سابق سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم نے راولپنڈی پریس کلب میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اختیار کیا ،اس موقع پر وائس ایڈمرل عبدالعلیم، کموڈور ارشد محمود خان، بریگیڈیئر طارق محمود، بریگیڈیئر آصف ہارون، چیف آرگنائزر پیس عزیز احمد اعوان اور آفس سیکرٹری خالد محمود قاضی بھی موجود تھے
لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم نے کہا کہ پاکستان اس وقت ہائبرڈ وار کا سامنا کر رہا ہے، جس کے تحت دشمن عناصر افغان سرزمین کو استعمال کر کے دہشت گرد حملے کروا رہے ہیں ان کے بقول یہ غیر اعلانیہ جنگ بھارت کی اس حکمتِ عملی کا تسلسل ہے جو وہ 1965 کی جنگ کے بعد آپریشن سندور کی شکل میں جاری رکھنے کا اعلان کر چکا تھا انہوں نے کہا کہ بھارتی ایجنسیاں گمنام دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کر رہی ہیں جبکہ انہیں افغان طالبان کی سرپرستی بھی حاصل ہے پیس نے پاک فوج کے افسران و جوانوں کی بہادری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور لازوال قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کے ہر حملے کاموثر جواب دیا جا رہا ہی لیفٹیننٹ جنرل عبدالقئوم نے پروپیگنڈا وار کو دشمن کا دوسرا بڑا ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر مسلح افواج اور بالخصوص چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کو نشانہ بنانے کی منظم کوشش جاری ہے انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ملک کے اندر بعض سیاسی عناصر اس بیانیے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیںانہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے بعض رہنما اور ان کے اندر و باہر موجود روگ عناصر بھارتی پروپیگنڈا کو تقویت دیتے ہوئے قومی سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں پیس نے مطالبہ کیا کہ ایسے تمام عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے صدر پیس نے کہا کہ قومی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قائداعظم محمد علی جناح کے اصولاتحاد، تنظیم اور یقینِ محکم پر عمل ضروری ہے
انہوں نے سیاسی قیادت، میڈیا، ریاستی اداروں اور عوام پر زور دیا کہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی سلامتی کو اولین ترجیح دی جائے ،علاقائی معاشی روابط پر بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل عبدالقئوم نے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے کرغیز صدر ساڈیر ژاپروف کو پاکستانی بندرگاہیں استعمال کرنے کی پیشکش کو سراہا اور کہا کہ پاکستان وسط ایشیائی ممالک کے لیے بڑے تجارتی راستے فراہم کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، تاہم اس کے لیے افغان طالبان کو دہشت گرد گروہوں کو غیر مسلح اور غیر متحرک کرنے میں مکمل تعاون کرنا ہوگا انہوں نے روس اور بھارت کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون پر بھی تشویش کا اظہار کیا، خاص طور پر ایس یو 57طیاروں اور اضافی ایس 400نظام کی ممکنہ فراہمی کو خطے میں اسلحے کی دوڑ اور بھارت کی بالادستی کے عزائم کے لیے خطرناک قرار دیاپیس نے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے مجوزہ جائزے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا دفاعی ضروریات، قرضوں کی ادائیگی، ترقیاتی حکمتِ عملی اور موسمیاتی مسائل جیسے قومی بوجھ میں تمام صوبوں کو منصفانہ طور پر شریک ہونا چاہیے پریس کانفرنس کے اختتام پر پیس کی قیادت نے ترقی، سلامتی اور قومی یکجہتی کے لیے مشترکہ قومی بیانیہ تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹرمپ کی بڑی درخواست مسترد، اسرائیلی صدر نے کرپشن کیسز میں نیتن یاہو کو معافی دینے سے انکار کر دیا ٹرمپ کی بڑی درخواست مسترد، اسرائیلی صدر نے کرپشن کیسز میں نیتن یاہو کو معافی دینے سے انکار کر دیا سکیورٹی فورسز کا قلات میں آپریشن، بھارتی حمایت یافتہ 12 دہشتگرد ہلاک پی ٹی آئی کے خلاف شکنجہ مزید سخت، کل سے ایسی کی تیسی ہوگی: فیصل واوڈا کا دعویٰ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان دشمن اسرائیل کی جاسوسی سازش کا پردہ فاش کر دیا مظفرآباد اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 4.2 ریکارڈ پاکستان میں امریکی سرمایہ کاروں کے لئے زبردست کاروباری مواقع ہیں: رضوان سعید
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مسلح افواج
پڑھیں:
بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین کی جمعیت الوفاق الوطني الاسلامی نے خبردار کیا ہے کہ حکومت نے ایک ایسے اقدام کے ذریعے، جسے اس جماعت نے خطرناک اور جبری قرار دیا ہے، جعفری اوقاف ادارے کو تحلیل کرکے اسے ایک ایسے کونسل میں ضم کر دیا ہے جو سیاسی اقتدار کے زیرِ اثر کام کرتی ہے۔ جمعیت الوفاق کے مطابق یہ اقدام شرعی احکام میں مداخلت، آئین کی خلاف ورزی اور ملک میں مذہبی آزادیوں سے متعلق رائج اصولوں اور روایات پر حملہ ہے۔ الوفاق نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ کئی صدیوں کے دوران بحرین یا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اس نوعیت کی مداخلت کی مثال نہیں ملتی۔ جماعت کے مطابق حکومت نے علاقائی حالات، کشیدگیوں اور جنگی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جعفری مکتبِ فکر کی مذہبی شخصیات، اداروں اور اوقافی املاک پر قبضے اور مداخلت کی راہ اختیار کی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ جمعیت الوفاق نے مزید کہا کہ یہ اقدامات شرعی ضوابط کی کھلی اور ناقابلِ قبول خلاف ورزی ہیں، اور انہیں ایسے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے جن کا مقصد شہریوں کو احتجاج اور مخالفت سے روکنا ہے۔ جمعیت کے مطابق حکومت نے ان غیر قانونی اقدامات کے لیے پہلے ہی ملک میں ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جو غیر اعلانیہ ہنگامی حالت سے مشابہ تھا اور جس میں سکیورٹی دباؤ کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا گیا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ سلسلہ سید محمد الموسوی کی مبینہ طور پر دورانِ حراست شہادت اور ان کے جسدِ خاکی کی حوالگی سے شروع ہوا، جس پر تشدد کے آثار نمایاں تھے۔ اس کے بعد بعض خاندانوں کی شہریت منسوخ کرنے، انہیں جبری ہجرت پر مجبور کرنے، مختلف علاقوں سے درجنوں علماء کی گرفتاری اور ان کی تصاویر کی تشہیر جیسے اقدامات سامنے آئے، جنہیں جمعیت نے انتقامی کارروائیاں قرار دیا۔ اسی طرح متعدد مساجد کو ائمہ جماعت سے محروم کرنے، دینی مدارس، حوزاتِ علمیہ اور مذہبی منبروں کی سرگرمیوں کو محدود یا معطل کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔
جمعیت الوفاق کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ پالیسی دراصل ملک کی دینی اور سماجی ساخت پر حملے، اداروں کی بندش، املاک کی ضبطی اور ان کے انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کرکے ایک "سکیورٹی اور جابرانہ نظم" نافذ کرنے کی تمہید ہے، جو فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم ہے اور شرعی، سماجی، قانونی و انسانی اصولوں کی کوئی پاسداری نہیں کرتا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فرمان نمبر (31) برائے سال 2026 ایک سیاسی نوعیت کا جبری فیصلہ ہے جو عوامی رضامندی کے بغیر مسلط کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف بحرین کے ایک تاریخی اور اصیل ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ ایک ایسا زبردستی کا تغیر نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو صدیوں پر محیط بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
جمعیت کے مطابق تاریخ اس اقدام کو بحرینی حکومت کی سب سے بڑی غلطیوں میں شمار کرے گی، کیونکہ یہ فطرت، دین، آزادی اور قانون کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ الوفاق نے زور دیا کہ یہ جبری فرمان ہزاروں اوقاف کی خیانت اور غصب کے مترادف ہے، جو مخصوص شرعی عناوین اور شرائط کے تحت وقف کیے گئے تھے اور جن میں سیاسی مداخلت یا ردوبدل کی کوئی گنجائش نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ وقف کا شرعی اور قانونی تشخص کسی حکومتی حکم یا فرمان سے تبدیل نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس سلسلے میں کیے گئے تمام اقدامات باطل اور شرعی و قانونی جواز سے محروم ہیں۔
جمعیت الوفاق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فرمان کو فوری طور پر واپس لے اور آمریت، ہٹ دھرمی اور ایسے منصوبے پر اصرار ترک کرے جو صرف طاقت، خوف اور شرعی احکام کی مخالفت کے سہارے ہی جاری رکھا جا سکتا ہے۔ جمعیت کا مزید کہنا تھا کہ شیعہ اور سنی اوقاف کو ایسے انتظامی ڈھانچے کے تحت لانے کی کوشش، جسے مذہبی حلقے قبول نہیں کرتے، اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے سیاسی نظام کو ازسرِ نو متعین کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ نظام شراکت داری، جوازِ حکمرانی اور قومی ہم آہنگی کی بنیادی خصوصیات سے محروم ہو چکا ہے۔ بیان کے اختتام پر جمعیت الوفاق نے ایک "نئے سماجی معاہدے" کی تشکیل کا مطالبہ کیا، جو عوامی اور قانونی بنیادوں پر استوار ہو، تمام شہریوں اور سماجی طبقات کے حقوق کی ضمانت دے اور ان کے مستقبل، شناخت اور آزادیوں کے حوالے سے اعتماد اور اطمینان کو مضبوط بنائے۔