اسلام آباد ایئرپورٹ ’بینظیر بھٹو‘ سے منسوب کروانے کی خواہشمند آصفہ قائم مقام اسپیکر سے نالاں
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے پارلیمانی اجلاس میں قائم مقام اسپیکر کے رویّے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورم موجود ہونے کے باوجود بار بار اجلاس کو معطل کرنا پارلیمانی نظام کا مذاق بنانے کے مترادف ہے۔
آصفہ بھٹو نے الزام لگایا کہ اجلاس کو مؤخر کرنے کی ہدایات شاید اس لیے دی گئیں تاکہ وہ اپنا توجہ دلاؤ نوٹس پیش نہ کر سکیں۔ انہوں نے اس عمل کو نہایت چھوٹی اور گھٹیا سیاسی چال قرار دیا۔
توجہ دلاؤ نوٹس اور بینظیر بھٹو ائیر پورٹآصفہ بھٹو کا توجہ دلاؤ نوٹس وفاقی وزیر برائے دفاع کو پیش کیا گیا، جس میں نئے بین الاقوامی اسلام آباد ایئر پورٹ کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے نام سے منسوب نہ کرنے پر وفاقی حکومت کی ناکامی کو اجاگر کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ عوام میں گہری تشویش پیدا کر رہا ہے اور جمہوریت اور ملک کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کورم برقرار رکھنے کے باوجود اسپیکر کے رویے پر افسوس ہے، رہنما پیپلز پارٹی شازیہ مری
آصفہ بھٹو کے نوٹس میں جن ارکان کا نام شامل تھا وہ سید نوید قمر، جناب عبدالقادر پٹیل، ڈاکٹر نفیسہ شاہ، اور سید رفیع اللہ ہیں۔
آصفہ بھٹو نے واضح کیا کہ پارلیمانی اصولوں کی خلاف ورزی کسی صورت قابل قبول نہیں اور اجلاس کو مؤخر کرنے جیسے چھوٹے سیاسی حربے عوام اور جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام اباد اسلام آباد ایئرپورٹ آصفہ بھٹو بینظیر بھٹو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد اسلام ا باد ایئرپورٹ ا صفہ بھٹو بینظیر بھٹو بینظیر بھٹو آصفہ بھٹو
پڑھیں:
رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ وزیراعظم پاکستان ہی آزاد کشمیر کا وزیراعظم منتخب کرے۔آزاد کشمیر کے علاقے میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے ایک بار پھر حق حکمرانی، مالکیت اور حق روزگار کا انتخابی ایجنڈا دہراتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیریوں نے انتخابات میں ووٹ دے کر اکثریت دلوائی تو یہ تینوں مسائل حل کردیں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر میں گزشتہ چھ ماہ سے ہماری حکومت ہے اور یہاں پر جو کام کیے اُن پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی بات کرنے والوں کو پنجاب کی سڑکیں ہی ٹھیک لگتی ہیں اور کہتے ہیں کہ صوبے سے نکلتے ہی سڑکیں خراب ہیں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ رائیونڈ کو پنجاب سمجھتے ہیں کیونکہ اندرون صوبے کی حالت بہت بری ہے اور انہیں اس کی کوئی پرواہ بھی نہیں ہے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ اب یہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کا فیصلہ اسلام آباد سے ہو اور رائیونڈ کا ایک شہر اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننے کا خواہش مند ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :