پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے پارلیمانی اجلاس میں قائم مقام اسپیکر کے رویّے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورم موجود ہونے کے باوجود بار بار اجلاس کو معطل کرنا پارلیمانی نظام کا مذاق بنانے کے مترادف ہے۔

آصفہ بھٹو نے الزام لگایا کہ اجلاس کو مؤخر کرنے کی ہدایات شاید اس لیے دی گئیں تاکہ وہ اپنا توجہ دلاؤ نوٹس پیش نہ کر سکیں۔ انہوں نے اس عمل کو نہایت چھوٹی اور گھٹیا سیاسی چال قرار دیا۔

توجہ دلاؤ نوٹس اور بینظیر بھٹو ائیر پورٹ

آصفہ بھٹو کا توجہ دلاؤ نوٹس وفاقی وزیر برائے دفاع کو پیش کیا گیا، جس میں نئے بین الاقوامی اسلام آباد ایئر پورٹ کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے نام سے منسوب نہ کرنے پر وفاقی حکومت کی ناکامی کو اجاگر کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ عوام میں گہری تشویش پیدا کر رہا ہے اور جمہوریت اور ملک کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کورم برقرار رکھنے کے باوجود اسپیکر کے رویے پر افسوس ہے، رہنما پیپلز پارٹی شازیہ مری

آصفہ بھٹو  کے نوٹس میں جن ارکان کا نام شامل تھا وہ سید نوید قمر، جناب عبدالقادر پٹیل، ڈاکٹر نفیسہ شاہ، اور سید رفیع اللہ ہیں۔

آصفہ بھٹو نے واضح کیا کہ پارلیمانی اصولوں کی خلاف ورزی کسی صورت قابل قبول نہیں اور اجلاس کو مؤخر کرنے جیسے چھوٹے سیاسی حربے عوام اور جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسلام اباد اسلام آباد ایئرپورٹ آصفہ بھٹو بینظیر بھٹو.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلام اباد اسلام ا باد ایئرپورٹ ا صفہ بھٹو بینظیر بھٹو بینظیر بھٹو آصفہ بھٹو

پڑھیں:

اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری

دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔  

اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔ 

 اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

 اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ 

صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے