قائم مقام چیئرمین سینٹ سیدال خان سے ارکانِ پارلیمنٹ، وکلاء کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار) قائم مقام چیئرمین سینٹ سیدال خان سے مختلف اراکینِ پارلیمنٹ، وکلا، سماجی تنظیموں، طلبہ اور سول سوسائٹی کے نمائندوں پر مشتمل مختلف وفود نے ملاقات کی۔ ملاقاتوں میں ملکی ترقی، عوامی ریلیف، ایوان بالا میں موثر قانون سازی، ملکی معیشت کی بہتری، قومی یکجہتی اور سماجی بہبود کے متعدد اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ قائم مقام چیئرمین سینٹ نے وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایوانِ بالا عوامی مسائل کے حل اور ملک کی مجموعی ترقی و خوشحالی کے لیے جامع اور بامقصد قانون سازی پر بھرپور توجہ دے رہا ہے۔ موجودہ حکومت کی بہتر حکمتِ عملی، بروقت پالیسی فیصلوں اور معاشی اصلاحات کے باعث ملک میں معاشی استحکام آ رہا ہے۔ مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ عوام کا معیارِ زندگی بھی بہتر ہو رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔