نیتن یاہو کی معافی اور عالمی انصاف کا بحران
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
اسرائیلی وزیر اعظم نے بدعنوانی کے مقدمات میں صدارتی معافی کی درخواست دے دی۔ اسرائیلی صدر کے دفتر نے اسے غیر معمولی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام قانونی رائے لینے کے بعد معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔ نیتن یاہو کی درخواست ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اسرائیل پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ ان مقدمات میں انھیں معاف کر دیا جائے، جب کہ 2024 میں عالمی فوجداری عدالت (ICC) بھی ان کے خلاف جنگی جرائم کے وارنٹ جاری کر چکی ہے۔
دوسری جانب اگلے روز نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یہ واضح کر دیا تھا کہ پاکستان غزہ میں فوج بھیجنے پر آمادہ ہے مگر پاکستانی فورس کسی بھی صورت میں حماس کو غیر مسلح کرنے میں استعمال نہیں ہوگی، اس کا کام غزہ میں امن قائم رکھنا ہے نافذ کرنا نہیں ہے۔
دنیا اس وقت ایک انتہائی پیچیدہ اور نازک دوراہے پر کھڑی ہے جہاں طاقت، قانون، اخلاقیات اور عالمی سفارت کاری کا پورا ڈھانچہ لرزتی بنیادوں پرکھڑا محسوس ہوتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ، عالمی طاقتوں کی ترجیحات میں تیزی سے آنے والی تبدیلیاں اور قانون کی عمل داری کے بارے میں اٹھتے سوالات ایک نئے عالمی بحران کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
ایسے میں اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے اپنے خلاف جاری بدعنوانی کے مقدمات سے متعلق صدارتی معافی کی باضابطہ درخواست ایک نہایت سنگین سیاسی و قانونی پیش رفت ہے۔ یہ اقدام نہ صرف اسرائیلی سیاست کے بحران کی شدت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس حقیقت کی طرف بھی واضح اشارہ ہے کہ ریاستی اداروں کے اندر طاقت کا توازن کیسے بگڑ چکا ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے صدر اسحاق ہرزوگ کو ایک غیر معمولی تحریری درخواست جمع کرائی ہے جس میں انھوں نے اپنے خلاف جاری تین سنگین مقدمات رشوت، دھوکادہی اور اختیارات کے غلط استعمال سے معافی کی استدعا کی ہے۔ اسرائیلی صدر کے دفتر نے بھی اس امر کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلے سے قبل تمام قانونی آراء اور آئینی پہلوؤں کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے گا، لیکن یہ ’’سنجیدگی‘‘ بذاتِ خود کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
کیا قانون کی بالادستی کا دعویٰ کرنے والی اسرائیلی ریاست واقعی ایک ایسے وزیر اعظم کو معافی دینے پر غور کرے گی جس کے خلاف ثبوت مضبوط، مقدمات طویل المدتی اور عدالتی کارروائی مسلسل چل رہی ہے؟ یا یہ بھی وہی طاقت کا کھیل ہے جو دہائیوں سے خطے کو عدم استحکام کا شکار بنائے ہوئے ہے؟نیتن یاہو اپنے وڈیو بیان میں یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ یہ مقدمات قوم میں تقسیم کا باعث بن رہے ہیں اور معافی ’’ قومی اتحاد‘‘ کی بحالی میں مدد دے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالت میں باقاعدگی سے پیش ہونا ان کی قومی ذمے داریوں سے توجہ ہٹا رہا ہے، لیکن یہ بیانیہ نہ تو نیا ہے اور نہ ہی قائل کرنے والا۔ دنیا کی سیاسی تاریخ ایسے رہنماؤں کے بیانات سے بھری پڑی ہے جو جب قانون کی گرفت میں آتے ہیں تو انصاف کے بجائے قومی اتحاد، استحکام اور ریاستی مفاد جیسے مبہم نعروں کو اپنے دفاع کا حصہ بنا لیتے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک عوامی منتخب وزیراعظم قانون سے بالاتر ہو سکتا ہے؟ کیا ایک ایسے شخص کو، جس کے خلاف بدعنوانی کے سنگین الزامات عدالتی کارروائی کے آخری مراحل میں ہوں، محض سیاسی مجبوریوں یا عالمی سفارتی دباؤ کی بنیاد پر معافی دی جا سکتی ہے؟یہاں ایک اور بڑا پہلو امریکی سیاست کا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اسرائیل پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ نیتن یاہو کو معاف کردیا جائے۔
ٹرمپ کے اپنے سیاسی پس منظر اور عدالتی معاملات کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات خود اس تضاد کی نشاندہی کرتی ہے جس نے عالمی سیاست کو انتہائی بے سمتی کا شکار کر رکھا ہے۔ اس تناظر میں 2024میں عالمی فوجداری عدالت (ICC) کی جانب سے نیتن یاہو کے خلاف جنگی جرائم کے وارنٹ کا اجرا بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے رہنما کے لیے بدعنوانی جیسے مقدمات سے قومی مفاد کے نام پر جان چھڑانا دراصل انصاف کے عالمی نظام پرکاری ضرب کے مترادف ہوگا۔
اسرائیلی سیاست کے اس بحران کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ دنیا بھر میں قانون کی بالادستی کا درس دینے والی قوتیں خود اس مقام پر کھڑی ہیں جہاں انصاف اور طاقت کے درمیان کشمکش واضح نظر آتی ہے، اگر ایک طاقتور ریاست کا سربراہ بدعنوانی کے مقدمات سے بچنے کے لیے سیاسی استثنیٰ کا سہارا لے سکتا ہے تو دنیا کو یہ یقین دلانا مشکل ہو جائے گا کہ انصاف کا نظام سب کے لیے برابر ہے۔ اسرائیل میں موجود داخلی سیاسی تقسیم، فلسطین کے خلاف جاری جنگ اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنقید پہلے ہی نیتن یاہو کی حکومت کو کمزور کر چکی ہے۔ ایسے میں معافی کی درخواست کو کسی بھی اعتبار سے قومی مفاد کے نام پر درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اس تمام منظر نامے میں پاکستان کا کردار اور بیانات بھی بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دفترِ خارجہ میں ایک اہم بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان غزہ میں امن قائم رکھنے کے لیے عالمی استحکام فورس میں اپنی شمولیت پر اصولی آمادگی رکھتا ہے، لیکن حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی بھی کوشش کی حمایت نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا کردار امن قائم رکھنا ہو گا، نہ کہ غزہ میں کوئی ایسا عمل نافذ کرنا جو فلسطینی مزاحمت کو کمزور کرنے کا سبب بنے۔ یہ مؤقف نہ صرف اصولی ہے بلکہ موجودہ حالات میں خطے کے حساس سیاسی ماحول کی درست ترجمانی بھی کرتا ہے۔
غزہ اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین انسانی بحران سے دوچار ہے۔ ہزاروں شہادتیں، لاکھوں بے گھر افراد، تباہ شدہ اسپتال اور انسانی حقوق کی کھلی پامالی نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایسے میں کوئی بھی غیر جانبدار امن فورس تبھی مؤثر ہوگی جب اس کا مقصد حقیقی امن، انسانی جانوں کا تحفظ اور جنگ بندی کو یقینی بنانا ہو۔ اس کے برعکس اگر ایسی فورس کو فلسطینی مزاحمت کو کمزور کرنے یا اسرائیلی خواہشات کے نفاذ کا ذریعہ بنایا گیا، تو یہ فورس نہ صرف ناکام ہوگی بلکہ خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بھی بنے گی۔ اس سلسلے میں پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ امن قائم رکھنے کا عمل فلسطینی عوام کی مرضی اور ان کی فلاح کے مطابق ہونا چاہیے۔
نہ کہ کسی طاقتور ریاست کے دباؤ یا مفاد کے تحت۔پاکستان کی جانب سے غزہ میں فوج بھیجنے کی اصولی آمادگی ایک بڑی پیش رفت ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان کی کوئی بھی شمولیت عالمی اتفاقِ رائے، واضح مینڈیٹ، اور مکمل شفاف ضوابط کی پابند ہوگی۔ اسحاق ڈار نے درست طور پر واضح کیا کہ ’’ہم امن قائم رکھنے کے لیے ہیں، نافذ کرنے کے لیے نہیں۔‘‘ یہ جملہ ایک بنیادی فلسفے کا اظہار ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مرکز میں ہونا چاہیے، یعنی انصاف، عالمی اصول اور کمزور اقوام کے حقوق کا دفاع۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ دنیا آج دہری پالیسیوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔
ایک جانب طاقتور ریاستیں اپنے سربراہوں کو قانون کے چنگل سے بچانے کے لیے مؤقف بناتی ہیں، دوسری جانب کمزور اقوام پر انصاف کے نام پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کا متوازن اور اصولی مؤقف اہمیت رکھتا ہے۔ عالمی سیاست اس وقت ایک ایسے مرحلے پر ہے جہاں اخلاقیات اور قومی مفاد کے درمیان توازن قائم کرنا دشوار ہو چکا ہے، لیکن وہ اقوام جو اصولی مؤقف کے ساتھ کھڑی رہتی ہیں، تاریخ میں وہی احترام پاتی ہیں۔اسرائیلی وزیر اعظم کی معافی کی درخواست اور پاکستان کا غزہ سے متعلق حالیہ مؤقف دراصل اس بڑے عالمی تضاد کی علامت ہیں۔ ایک طرف وہ ریاست ہے جو اپنے قانون کو بھی سیاسی مصلحتوں کے آگے قربان کرنے کے لیے تیار ہے اور دوسری طرف وہ ملک جو عالمی امن کے لیے اصولی موقف اپنائے ہوئے ہے۔ یہ تضاد نہ صرف موجودہ عالمی سیاست کی حقیقت بیان کرتا ہے بلکہ آنے والے وقت کی سمت بھی واضح کرتا ہے، اگر طاقتور قانون سے بالاتر رہیں گے اور کمزوروں پر قانون نافذ ہوگا، تو دنیا میں امن ایک سراب بن جائے گا۔اسی لیے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی ادارے اپنی ساکھ بچانے کے لیے واضح اور منصفانہ فیصلے کریں۔ اسرائیل ہو یا کوئی اور ملک، حکمرانوں کو قانون کے کٹہرے میں جواب دہ ہونا ہی چاہیے۔
نیتن یاہو کو بدعنوانی کے مقدمات سے بچانے کی کوئی بھی کوشش دراصل انصاف کے عالمی اصولوں کو پامال کرنے کے مترادف ہوگی۔ اس کے برعکس فلسطین، خصوصاً غزہ کے عوام کے لیے کوئی بھی امن فورس تبھی قابلِ قبول ہوگی جب وہ غیر جانبدار ہو، انسانی حقوق کی علمبردار ہو اور سیاسی ایجنڈے سے پاک ہو۔دنیا کو اس دوراہے سے نکلنے کے لیے انصاف، شفافیت اور اصولوں کی سیاست کو دوبارہ اپنا دھارا بنانا ہوگا۔ ہر وہ کوشش جو طاقتور کو بچائے اور کمزور کو قربانی کا بکرا بنائے، دنیا کو مزید انتشار کی طرف دھکیلتی رہے گی۔ وقت گزرنے کے ساتھ تاریخ فیصلہ کرے گی کہ کون سا ملک اصول پر قائم رہا اور کون سا رہنما قانون سے بھاگ کر سیاسی نعروں کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتا رہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بدعنوانی کے مقدمات نیتن یاہو کی کہ پاکستان پاکستان کا کی درخواست مقدمات سے انصاف کے کوئی بھی معافی کی قانون کی کے خلاف کرتا ہے مفاد کے رہے ہیں جائے گا کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔