Express News:
2026-06-02@23:02:40 GMT

نیتن یاہو کی معافی اور عالمی انصاف کا بحران

اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT

اسرائیلی وزیر اعظم نے بدعنوانی کے مقدمات میں صدارتی معافی کی درخواست دے دی۔ اسرائیلی صدر کے دفتر نے اسے غیر معمولی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام قانونی رائے لینے کے بعد معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔ نیتن یاہو کی درخواست ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اسرائیل پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ ان مقدمات میں انھیں معاف کر دیا جائے، جب کہ 2024 میں عالمی فوجداری عدالت (ICC) بھی ان کے خلاف جنگی جرائم کے وارنٹ جاری کر چکی ہے۔

 دوسری جانب اگلے روز نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یہ واضح کر دیا تھا کہ پاکستان غزہ میں فوج بھیجنے پر آمادہ ہے مگر پاکستانی فورس کسی بھی صورت میں حماس کو غیر مسلح کرنے میں استعمال نہیں ہوگی، اس کا کام غزہ میں امن قائم رکھنا ہے نافذ کرنا نہیں ہے۔

دنیا اس وقت ایک انتہائی پیچیدہ اور نازک دوراہے پر کھڑی ہے جہاں طاقت، قانون، اخلاقیات اور عالمی سفارت کاری کا پورا ڈھانچہ لرزتی بنیادوں پرکھڑا محسوس ہوتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ، عالمی طاقتوں کی ترجیحات میں تیزی سے آنے والی تبدیلیاں اور قانون کی عمل داری کے بارے میں اٹھتے سوالات ایک نئے عالمی بحران کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

ایسے میں اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے اپنے خلاف جاری بدعنوانی کے مقدمات سے متعلق صدارتی معافی کی باضابطہ درخواست ایک نہایت سنگین سیاسی و قانونی پیش رفت ہے۔ یہ اقدام نہ صرف اسرائیلی سیاست کے بحران کی شدت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس حقیقت کی طرف بھی واضح اشارہ ہے کہ ریاستی اداروں کے اندر طاقت کا توازن کیسے بگڑ چکا ہے۔

عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے صدر اسحاق ہرزوگ کو ایک غیر معمولی تحریری درخواست جمع کرائی ہے جس میں انھوں نے اپنے خلاف جاری تین سنگین مقدمات رشوت، دھوکادہی اور اختیارات کے غلط استعمال سے معافی کی استدعا کی ہے۔ اسرائیلی صدر کے دفتر نے بھی اس امر کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلے سے قبل تمام قانونی آراء اور آئینی پہلوؤں کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے گا، لیکن یہ ’’سنجیدگی‘‘ بذاتِ خود کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔

کیا قانون کی بالادستی کا دعویٰ کرنے والی اسرائیلی ریاست واقعی ایک ایسے وزیر اعظم کو معافی دینے پر غور کرے گی جس کے خلاف ثبوت مضبوط، مقدمات طویل المدتی اور عدالتی کارروائی مسلسل چل رہی ہے؟ یا یہ بھی وہی طاقت کا کھیل ہے جو دہائیوں سے خطے کو عدم استحکام کا شکار بنائے ہوئے ہے؟نیتن یاہو اپنے وڈیو بیان میں یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ یہ مقدمات قوم میں تقسیم کا باعث بن رہے ہیں اور معافی ’’ قومی اتحاد‘‘ کی بحالی میں مدد دے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالت میں باقاعدگی سے پیش ہونا ان کی قومی ذمے داریوں سے توجہ ہٹا رہا ہے، لیکن یہ بیانیہ نہ تو نیا ہے اور نہ ہی قائل کرنے والا۔ دنیا کی سیاسی تاریخ ایسے رہنماؤں کے بیانات سے بھری پڑی ہے جو جب قانون کی گرفت میں آتے ہیں تو انصاف کے بجائے قومی اتحاد، استحکام اور ریاستی مفاد جیسے مبہم نعروں کو اپنے دفاع کا حصہ بنا لیتے ہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک عوامی منتخب وزیراعظم قانون سے بالاتر ہو سکتا ہے؟ کیا ایک ایسے شخص کو، جس کے خلاف بدعنوانی کے سنگین الزامات عدالتی کارروائی کے آخری مراحل میں ہوں، محض سیاسی مجبوریوں یا عالمی سفارتی دباؤ کی بنیاد پر معافی دی جا سکتی ہے؟یہاں ایک اور بڑا پہلو امریکی سیاست کا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اسرائیل پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ نیتن یاہو کو معاف کردیا جائے۔

ٹرمپ کے اپنے سیاسی پس منظر اور عدالتی معاملات کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات خود اس تضاد کی نشاندہی کرتی ہے جس نے عالمی سیاست کو انتہائی بے سمتی کا شکار کر رکھا ہے۔ اس تناظر میں 2024میں عالمی فوجداری عدالت (ICC) کی جانب سے نیتن یاہو کے خلاف جنگی جرائم کے وارنٹ کا اجرا بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے رہنما کے لیے بدعنوانی جیسے مقدمات سے قومی مفاد کے نام پر جان چھڑانا دراصل انصاف کے عالمی نظام پرکاری ضرب کے مترادف ہوگا۔

اسرائیلی سیاست کے اس بحران کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ دنیا بھر میں قانون کی بالادستی کا درس دینے والی قوتیں خود اس مقام پر کھڑی ہیں جہاں انصاف اور طاقت کے درمیان کشمکش واضح نظر آتی ہے، اگر ایک طاقتور ریاست کا سربراہ بدعنوانی کے مقدمات سے بچنے کے لیے سیاسی استثنیٰ کا سہارا لے سکتا ہے تو دنیا کو یہ یقین دلانا مشکل ہو جائے گا کہ انصاف کا نظام سب کے لیے برابر ہے۔ اسرائیل میں موجود داخلی سیاسی تقسیم، فلسطین کے خلاف جاری جنگ اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنقید پہلے ہی نیتن یاہو کی حکومت کو کمزور کر چکی ہے۔ ایسے میں معافی کی درخواست کو کسی بھی اعتبار سے قومی مفاد کے نام پر درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اس تمام منظر نامے میں پاکستان کا کردار اور بیانات بھی بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دفترِ خارجہ میں ایک اہم بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان غزہ میں امن قائم رکھنے کے لیے عالمی استحکام فورس میں اپنی شمولیت پر اصولی آمادگی رکھتا ہے، لیکن حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی بھی کوشش کی حمایت نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا کردار امن قائم رکھنا ہو گا، نہ کہ غزہ میں کوئی ایسا عمل نافذ کرنا جو فلسطینی مزاحمت کو کمزور کرنے کا سبب بنے۔ یہ مؤقف نہ صرف اصولی ہے بلکہ موجودہ حالات میں خطے کے حساس سیاسی ماحول کی درست ترجمانی بھی کرتا ہے۔

غزہ اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین انسانی بحران سے دوچار ہے۔ ہزاروں شہادتیں، لاکھوں بے گھر افراد، تباہ شدہ اسپتال اور انسانی حقوق کی کھلی پامالی نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایسے میں کوئی بھی غیر جانبدار امن فورس تبھی مؤثر ہوگی جب اس کا مقصد حقیقی امن، انسانی جانوں کا تحفظ اور جنگ بندی کو یقینی بنانا ہو۔ اس کے برعکس اگر ایسی فورس کو فلسطینی مزاحمت کو کمزور کرنے یا اسرائیلی خواہشات کے نفاذ کا ذریعہ بنایا گیا، تو یہ فورس نہ صرف ناکام ہوگی بلکہ خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بھی بنے گی۔ اس سلسلے میں پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ امن قائم رکھنے کا عمل فلسطینی عوام کی مرضی اور ان کی فلاح کے مطابق ہونا چاہیے۔

 نہ کہ کسی طاقتور ریاست کے دباؤ یا مفاد کے تحت۔پاکستان کی جانب سے غزہ میں فوج بھیجنے کی اصولی آمادگی ایک بڑی پیش رفت ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان کی کوئی بھی شمولیت عالمی اتفاقِ رائے، واضح مینڈیٹ، اور مکمل شفاف ضوابط کی پابند ہوگی۔ اسحاق ڈار نے درست طور پر واضح کیا کہ ’’ہم امن قائم رکھنے کے لیے ہیں، نافذ کرنے کے لیے نہیں۔‘‘ یہ جملہ ایک بنیادی فلسفے کا اظہار ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مرکز میں ہونا چاہیے، یعنی انصاف، عالمی اصول اور کمزور اقوام کے حقوق کا دفاع۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ دنیا آج دہری پالیسیوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔

ایک جانب طاقتور ریاستیں اپنے سربراہوں کو قانون کے چنگل سے بچانے کے لیے مؤقف بناتی ہیں، دوسری جانب کمزور اقوام پر انصاف کے نام پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کا متوازن اور اصولی مؤقف اہمیت رکھتا ہے۔ عالمی سیاست اس وقت ایک ایسے مرحلے پر ہے جہاں اخلاقیات اور قومی مفاد کے درمیان توازن قائم کرنا دشوار ہو چکا ہے، لیکن وہ اقوام جو اصولی مؤقف کے ساتھ کھڑی رہتی ہیں، تاریخ میں وہی احترام پاتی ہیں۔اسرائیلی وزیر اعظم کی معافی کی درخواست اور پاکستان کا غزہ سے متعلق حالیہ مؤقف دراصل اس بڑے عالمی تضاد کی علامت ہیں۔ ایک طرف وہ ریاست ہے جو اپنے قانون کو بھی سیاسی مصلحتوں کے آگے قربان کرنے کے لیے تیار ہے اور دوسری طرف وہ ملک جو عالمی امن کے لیے اصولی موقف اپنائے ہوئے ہے۔ یہ تضاد نہ صرف موجودہ عالمی سیاست کی حقیقت بیان کرتا ہے بلکہ آنے والے وقت کی سمت بھی واضح کرتا ہے، اگر طاقتور قانون سے بالاتر رہیں گے اور کمزوروں پر قانون نافذ ہوگا، تو دنیا میں امن ایک سراب بن جائے گا۔اسی لیے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی ادارے اپنی ساکھ بچانے کے لیے واضح اور منصفانہ فیصلے کریں۔ اسرائیل ہو یا کوئی اور ملک، حکمرانوں کو قانون کے کٹہرے میں جواب دہ ہونا ہی چاہیے۔

نیتن یاہو کو بدعنوانی کے مقدمات سے بچانے کی کوئی بھی کوشش دراصل انصاف کے عالمی اصولوں کو پامال کرنے کے مترادف ہوگی۔ اس کے برعکس فلسطین، خصوصاً غزہ کے عوام کے لیے کوئی بھی امن فورس تبھی قابلِ قبول ہوگی جب وہ غیر جانبدار ہو، انسانی حقوق کی علمبردار ہو اور سیاسی ایجنڈے سے پاک ہو۔دنیا کو اس دوراہے سے نکلنے کے لیے انصاف، شفافیت اور اصولوں کی سیاست کو دوبارہ اپنا دھارا بنانا ہوگا۔ ہر وہ کوشش جو طاقتور کو بچائے اور کمزور کو قربانی کا بکرا بنائے، دنیا کو مزید انتشار کی طرف دھکیلتی رہے گی۔ وقت گزرنے کے ساتھ تاریخ فیصلہ کرے گی کہ کون سا ملک اصول پر قائم رہا اور کون سا رہنما قانون سے بھاگ کر سیاسی نعروں کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتا رہا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بدعنوانی کے مقدمات نیتن یاہو کی کہ پاکستان پاکستان کا کی درخواست مقدمات سے انصاف کے کوئی بھی معافی کی قانون کی کے خلاف کرتا ہے مفاد کے رہے ہیں جائے گا کے لیے

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان