آپ کا دماغ اغوا ہو رہا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
ایک ماں اپنے بچے سے جو پہلی کلاس کا طالب علم ہے، کہتی ہے کہ ’’ بیٹا میں پڑوس میں جا رہی ہوں جب تم اپنے اسکول کا ہوم ورک کر لو تو فریج سے چاکلیٹ نکال کر کھا لینا۔‘‘ بچہ یہ سن کر کاپی پنسل پھینک دیتا ہے اور رونا شروع کردیتا ہے۔ ’’ مما ! پہلے مجھے چاکلیٹ دو، میں پہلے چاکلیٹ کھاؤں گا، ہوم ورک بعد میں کروں گا۔‘‘
جب بچہ کچھ بڑا اور سمجھدار ہوجاتا ہے اور اچھے برے میں تمیز کرنے لگتا ہے اور ماں یہی بات اس سے کہتی ہے کہ ’’ بیٹا! میں پڑوس میں جا رہی ہوں تم ہم ورک کر لو تو فریج سے چاکلیٹ نکال کر کھا لینا۔‘‘ بچہ ماں کو جواب دیتا ہے ’’ ٹھیک ہے اماں ! آپ جائیں بے فکر ہو جائیں‘‘ لیکن جب ماں گھر سے باہر جاتی ہے تو بچہ پہلے فرج سے چاکلیٹ نکال کے کھاتا ہے بعد میں ہوم ورک کرتا ہے۔
یہی بچہ جب اور بڑا اور زیادہ سمجھدار ہو جاتا ہے اور ماں اس سے یہی بات کہتی ہے کہ ’’ بیٹا میں پڑوس میں جا رہی ہوں تم اپنا ہوم ورک مکمل کر لو تو فریج سے چاکلیٹ نکال کر کھا لینا۔‘‘ بیٹا جواب دیتا ہے ’’ ٹھیک ہے اماں، آپ جائیں میں ایسا ہی کروں گا۔‘‘ اور بچہ ایسا ہی کرتا ہے ہوم ورک کرنے کے بعد چاکلیٹ کھاتا ہے۔
ایک ماہر نفسیات نے انسان کی ذہنی پختگی کے حوالے سے تین مرحلے بیان کیے ہیں۔ ماں اور بچے کی اس کہانی میں تینوں مرحلے واضح طور پر سمجھے جا سکتے ہیں یعنی پہلے مرحلے میں انسان جب بچہ ہوتا ہے تو بالکل ہی نا سمجھ ہوتا ہے اور ہر چمکتی چیز کو اچھا سمجھتا ہے اور جب وہ دوسرے مرحلے پر پہنچتا ہے تو کافی سمجھدار ہو جاتا ہے اور ہوشیاری دکھانے لگتا ہے لیکن جب تیسرے مرحلے پر پہنچتا ہے تو ذہنی لحاظ سے مکمل طور پر سمجھدار یعنی میچیور ہو جاتا ہے۔
گویا تیسرے مرحلے میں ایک انسان اپنے فیصلے بہت سوچ سمجھ کر کرتا ہے اور کسی چمکتی چیز کے پیچھے نہیں بھاگتا۔ لیکن اگر ایسا ہوکہ تیسرے مرحلے کے انسان کو یعنی جو مکمل سمجھدار انسان ہو، اس کو ذہنی طور پر پہلے مرحلے پہ لا کر کھڑا کردیا جائے تو یقینا اس کے فیصلے پھر اس بچے کی طرح سے ہوں گے جو اپنی ماں کے کہنے پر بجائے بعد میں چاکلیٹ کھانے کے، ہوم ورک سے پہلے ہی چاکلیٹ کھانا چاہتا ہے اور کاپی پنسل پھینک دیتا ہے۔
ہم اپنی زندگی میں بھی بڑے ہونے کے بعد اس طرح کے فیصلے نہیں کرتے جو کبھی ہم اپنے بچپن میں کرتے تھے۔ بچوں اور بڑوں کے فیصلے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔
تھوڑی دیر کے لیے سوچیں، اگر آپ کا ذہن بھی کچھ دیر کے لیے بچوں کی سطح پر آجائے تو آپ کیسے فیصلے کریں گے؟ آپ کہیں گے یقیناً یہ تو خام خیالی ہی ہے، ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ لیکن نہیں جناب ایسا ہوتا ہے اور ہمارے ساتھ ہو بھی رہا ہے۔
ماہرین نفسیات کی بہت ساری ایسی ریسرچ سامنے آچکی ہیں کہ جس کے تحت ایک بڑے شخص کے ذہن کو قابو کیا جا سکتا ہے اور بچے کی ذہن کی سطح پر لایا جا سکتا ہے۔ اس قسم کی مختلف تحقیق سے میڈیا اور مارکیٹنگ والوں نے خوب فائدہ اٹھایا ہے۔ ایک بالغ شخص کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ اس سے کسی بچے کی طرح سے فیصلے کروا لیے جاتے ہیں اور اسے احساس بھی نہیں ہوتا۔ یہ کھیل مشرق اور مغرب ہر جگہ یکساں ہو رہا ہے۔
مارکیٹنگ اور پبلک ریلیشن سے وابستہ لوگ ہر قسم کے نفسیاتی حربے استعمال کر کے انسانی ذہن کو اپنے قابو میں کر لیتے ہیں اور انھیں وہی فیصلہ کرنے پہ مجبور کرتے ہیں جو وہ خود چاہتے ہیں اور اس کی ایک دو نہیں بے شمار مثالیں مثلاً امریکا میں مارکیٹنگ کے ایک بڑے ماہر ایڈورڈ برنے، نے کمپین چلائی کہ سگریٹ نوشی کرتے ہوئے سگریٹ میں جو سرخ رنگ کا تمباکو جل رہا ہوتا ہے وہ دراصل ’’ ٹارچ آف فریڈم‘‘ ہے اور جو خواتین اور مرد فریڈم کو پسند کرتے ہیں وہ سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔
پبلک ریلیشن کے اس ماہر نے اپنی کمپین سے پہلے اچھی طرح تحقیق کر لی تھی کہ مغرب میں فریڈم کے تصور کا انقلاب آرہا ہے اور خواتین و مرد سب ہی فریڈم کو پسند کررہے ہیں اور مذہبی تعلیمات سے فرار حاصل کر رہے ہیں، لٰہذا فریڈم کے نعرے کو استعمال کر کے سگریٹ کی فروخت کو بڑھایا جا سکتا ہے، چنانچہ اس نے ایسے ہی کیا اور اس کی اس حکمت عملی کے نتیجے میں خواتین کی بھی ایک بہت بڑی تعداد سگریٹ نوشی کرنے لگی اور سگریٹ کی کمپنیاں جو اپنے کاروبار سے مایوس ہو کر کچھ اور کاروبار کرنے کا سوچ رہی تھی، وہ ایک دفعہ پھر منافع بخش کاروبار کرنے لگیں۔
اگر ہم پاکستان کی مثال لیں تو اس کی ایک بہت اچھی مثال ٹھنڈیمشروبات کی ہے ہم میں سے اکثر لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ ٹھنڈے مشروبات گردوں کو سخت نقصان پہنچاتے ہیں اور ڈاکٹروں کے مطابق اگر خالی پیٹ ٹھنڈے مشروبات پی لیں تو اس سے اچانک موت بھی ہو سکتی ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے ہاں سب سے زیادہ ٹھنڈے مشروبات رمضان کے مہینے میں فروخت ہوتے ہیں اور لوگ سحر و افطار میں اس کا استعمال کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ ظاہری سی بات ہے کسی نے تو ہم سب کے ذہن کو کنٹرول کیا ہے اور اس حد تک کنٹرول کیا ہے کہ ہم اپنی صحت کے خلاف سخت ترین فیصلہ کرتے ہوئے ٹھنڈے مشروبات سحر اورافطار میں بھی استعمال کرتے ہیں۔
بات یہ ہے کہ جب ہم اشتہار دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ مارکیٹنگ والوں نے اور اشتہار بنانے والوں نے جو پیغام ہم تک پہنچایا ہے، اس میں بہت سارے نفسیاتی حربے استعمال کیے ہیں جو ہمارے ذہن کو کنٹرول کر لیتے ہیں۔
آئیے! چند ایک تیکنک کو جانتے ہیں جو اس ضمن میں استعمال کی جاتی ہیں مثلاً ایک خریدیں ایک فری، یا اتنا فیصد زیادہ، یا 50 فیصد رعایت حاصل کریں۔ اس قسم کی تیکنک میں لالچ دیا جاتا ہے اور بہت سے لوگ جو کسی چیزکی ضرورت نہیں رکھتے نہ ہی خریدنے کی خواہش رکھتے ہیں مگر لالچ کی اس تکنیک میں آکر وہ کوئی بھی چیز اس لیے خرید لیتے ہیں کہ قیمت کے لحاظ سے انھیں فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔
اسی طرح یہ نفسیاتی حربے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ مثلاً یہ تاثر دینا کہ اگر آپ نے یہ چیز استعمال کی تو آپ کا شمار بھی اچھی لائف ( لیونگ اسٹینڈرڈ) گزارنے والوں میں ہوگا یا یہ چیز تو مالدار اور اونچے گھرانوں کے لوگ استعمال کرتے ہیں، چنانچہ اس تاثر سے بھی بہت سے لوگ یہ دکھانے کے لیے کہ ان کا شمار بھی ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے، اشیاء کو خرید لیتے ہیں اور استعمال کرتے ہیں۔
مثلاً بہت سے لوگوں کے پاس موبائل فون ہوتا ہے، جس سے ان کی ضرورت پوری ہو رہی ہوتی ہے مگر مارکیٹ میں نئے آنے والے موبائل کو بلاضرورت خرید لیتے ہیں۔ یہ سب مارکیٹنگ کے حربوں کا کمال ہوتا ہے کہ وہ اچھے خاصے بالغ افراد کے ذہن کو کسی بچے کے ذہن کی سطح کے برابر لاکھڑا کرتا ہے کہ بس اب تو یہی چاہیے۔ یہ تو چند سیدھی سادی مثالیں یہاں بیان کی گئی ہیں، حقیقت میں تو پبلک ریلشن اور مارکیٹنگ کا پورا ایک وسیع علم ہے جس پر سیکڑوں کتابیں بھری پڑی ہیں جن میں انسانی ذہنوں کو متاثر اور قابو کر کے اسے اپنی مرضی سے استعمال کرنا ہے، گویا جیسے کسی کا دماغ اغوا کر لیا جائے اور پھر وہ دماغ اغواء کار کی مرضی سے چلے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: استعمال کرتے ہیں جاتا ہے اور استعمال کر استعمال کی لیتے ہیں ہیں اور ہوتا ہے دیتا ہے سکتا ہے ہوم ورک کرتا ہے بچے کی کے ذہن ذہن کو رہا ہے اور اس
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔