data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251208-11-17
بدین (نمائندہ جسارت )یومِ ثقافتِ سندھ کے موقع پر نکالی گئی ثقافتی ریلی میں صحافی سیاسی سماجی علمی ادبی کاروباری شخصیات کارکنوں اور شہریوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی . سندھ بھر کی طرح بدین میں بھیی یوم ثقافت سندھ کے موقع پر صحافتی اداروں کی اپیل پر اللہ والا چوک حیدرآباد روڈ سے بدین پریس کلب اور ایوان صحافت بدین تک ایک عظیم الشان ثقافتی ریلی نکالی گئی .

سندھی ثقافت کے رنگوں میں رنگی ریلی کے شرکاء اجرک، ٹوپی پہنے ڈھول کی دھمال اور قومی نغموں پر روایتی جوش و جذبے کے ساتھ ڈانس اور بھنگڑے ڈالتے ہوئے چھوٹی بڑی گاڑیوں اور پیدل ہزاروں شرکاء نے سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے مرکزی نائب صدر اور سیکرٹری بدین بار کونسل ایڈوکیٹ امیر آزاد پھنور ، جماعت لواری شریف نشات اور ناجیہ تنظیم کے مرکزی صدر فتح اللہ جونیجو ، پیپلزپارٹی کے رہنما سیٹھ انور ملاح ، سردار عاشق گوپانگ ،پروفیسر عبداللہ ملاح سندھ ترقی پسند پارٹی کے ضلعی صدر شاہ نواز سیال ، بدین پریس کلب اور ایوان صحافت کے سنئیر صحافیوں لالہ ہارون گوپانگ ، تنویر احمد آرائیں ، شفیع محمد جونیجو ، عطا محمد چانڈیو ، مصطفیٰ جمالی ، ساون خاصخیلی ، علی محمد شاہانی ، عمران خواجہ ، دیدار ملاح ،یونس بکاری ، فرحان میمن ، اختر کھوسو ،انیس میمن ، منور جمالی ، اسحاق شیخ ، دانش بکاری ، عطا سندیار جسقم کے رہنما جاوید چانگ ، صابر راہموں فشر فوک فورم کے ضلعی سیکرٹری عمر ملاح ، قاسم بچو قومی عوامی تحریک کے عبداللہ چانڈیو سچوا بدین کے صدر علی مراد چانڈیو، زین شاہ ، کیمرہ مین ایسوسیئیشن کے علی میمن ، رجب راہموں ، باغ جونیجو اور دیگر کی قیادت میں بدین پریس کلب اور ایوانِ صحافت بدین تک مارچ کیا ، شہر کے تاجر رہنماؤں ندیم مغل ، محمد حسن اپی میمن ، شاہ نواز جونیجو اور دیگر کی جانب صحافی اور سیاسی رہنماؤں کو اجرک اور پھولوں کے پہنا کر اور پھول نچھاور کر کے جگہ جگہ استقبال کیا ،یوم ثقافت سندھ کی مرکزی ریلی میں ضلع انتظامیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے مختیارکار بدین سلیم جمالی نے وفد کی شکل میں ثقافتی پروگرام میں شرکت کی ، اس موقع بدین پریس کلب اور ایوان صحافت بدین کے سامنے ثقافتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی صدیوں پرانی ثقافت تہذیب، عظمت، محبت، امن اور خوبصورتی کا وہ روشن چراغ ہے جس کی روشنی آج صدیوں بعد بھی دلوں کو منور کرتی ہے۔اس روز بچہ ہو یا بزرگ، مرد ہوں یا خواتین، سیاسی، سماجی، ادبی، علمی شخصیات، وکلاء ، تاجر، طلبہ و طالبات، اساتذہ، ڈاکٹرز، مزدور، محنت کش، ہاری اور ماہی گیر ہر طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ سندھی اجرک اور ٹوپی پہن کر اپنی عظیم دھرتی کی ثقافتی شان کو رنگوں کی بارش میں نہلاتے ہیں۔ مقررین نے اس موقع پر کہا سندھ کی عوام کا آج سندھ عوام اور جمہوریت دشمن طاقتور کو واضع پیغام ہے کہ اگر کسی نے سندھ کے دریا پانی وسائل معدنیات اور زمینوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو سندھ کا بچہ بچہ مذاحمت کرے گا اور اپنے حقوق کی جنگ متحد ہو کر لڑے گا ۔

سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بدین پریس کلب اور ایوان

پڑھیں:

سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے

سکھر:

سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔

مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔

دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔

سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔

سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔

صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔

سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔

انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔

سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود