سافٹ ویئر میں بڑی خرابی‘ دنیا بھر میں سیکڑوں پروازیں منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) دنیا بھر کی ائر لائنز نے بڑے پیمانے پر اپنی پروازیں منسوخ کردیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ امریکی طیارے جیٹ بلیو کی دورانِ پرواز رفتار میں کمی واقع ہوگئی تھی جس کے باعث وہ نیچے کی جانب آتا چلا گیا۔ اس کی وجہ وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والے مسافر طیارے کے سافٹ ویئر کا مسئلہ ہوسکتی ہے۔ اس حوالے سے یورپ کی ایوی ایشن کمپنی ایئربس نے بتایا کہ شدید شمسی تابکاری اے 320 فیملی طیاروں کے فلائٹ کنٹرول سسٹم کا اہم ڈیٹا متاثر کر سکتی ہے۔ یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ای اے ایس اے) نے اے 320 چلانے والی ائر لائنز کے لیے ایک ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے مسئلے کے حل کو لازمی قراردیا ہے۔ ایجنسی نے خبردار کیا کہ اس کے باعث پروازوں کے شیڈول میں عارضی خلل پڑ سکتا ہے۔ ادارے کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ طیارے کے آن بورڈ کمپیوٹرز کے حالیہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کے ذریعے سامنے آیا تھا۔ یہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹ اس وقت سامنے آیاجب امریکا میں تھینکس گیونگ کی چھٹیوں کے بعد مسافر واپس گھروں کو لوٹ رہے ہیں جو ملک کا سب سے مصروف سفری دورانیہ کہلاتا ہے۔ جاپان میں ایل نپون ائرویز جو اے 320 سیریز کے 30سے زائد طیارے چلاتی ہے، نے ہفتے کے روز 65 ملکی پروازیں منسوخ کیں۔ امریکن ائر لائنز کے پاس اے 320 فیملی کے تقریباً 480 طیارے ہیں جن میں سے 209 متاثر ہیں۔ائر لائن کا کہنا ہے کہ زیادہ تر طیاروں میں خرابی کا حل تقریباً دو گھنٹے میں مکمل ہو جائے گا۔ کمپنی نے تاخیر کے خدشے کا اظہار کیا تاہم یہ بھی کہا کہ پروازوں کی منسوخی کم سے کم رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس نے واضح کیا کہ مسافروں کی حفاظت اس کی اولین ترجیح ہے۔ ڈیلٹا ایئرلائن نے کہا کہ یہ مسئلہ اس کے 50 سے کم اے 321 نیو طیاروں کو متاثر کرے گا۔ یونائیٹڈ ائر لائنز کے مطابق اس کے بیڑے کے 6طیارے متاثر ہیں اور صرف معمولی نوعیت کی تاخیر متوقع ہے جبکہ ہوائیئن ایئرلائنز نے بتایا کہ اس کی پروازیں متاثر نہیں ہوں گی۔ جرمن ایئر لائن کا کہنا ہے کہ اس کے بیڑے میں شامل کچھ طیاروں پر مرمت کے لیے کئی گھنٹے درکار ہوں گے، جس کے نتیجے میں چند پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوسکتی ہیں۔ دوسری جانب پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن (پی آئی اے) کے ترجمان نے اپنے بیان میں اطمینان دلایا ہے کہ قومی ائر لائن کے پاس موجود ائر بس کے طیاروں کو ایسا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے، کیوں کہ ان میں ابھی تک سافٹ ویئر کا پرانا ورژن ہی چل رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ائر بس نے ایک نیا سوفٹ ویئر ریلیز کیا تھا جس میں مسئلہ آ گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پروازیں منسوخ ائر لائنز سافٹ ویئر ائر لائن
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔