Express News:
2026-07-24@09:04:14 GMT

مودی راج میں انسانی حقوق کی تباہی، بھارت اقلیتوں کے لیے زندان بن گیا

اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT

‍‍‍‍‍‍

بھارت میں انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر بھی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں۔

عالمی اداروں، انسانی حقوق تنظیموں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق مودی حکومت کے دور میں بھارت نسلی، مذہبی اور سیاسی جبر کا گڑھ بنتا جا رہا ہے جہاں مسلمانوں سمیت تمام اقلیتیں شدید خطرات اور ریاستی ظلم کا شکار ہیں۔

اقوام متحدہ نے متعدد بار اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر دنیا کے بدترین انسانی حقوق کے بحرانوں میں سے ایک ہے، جہاں کشمیری عوام نسل در نسل جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، تشدد اور بنیادی آزادیوں پر پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق بھارتی فورسز انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں میں مسلسل ملوث ہیں۔

او آئی سی کی انسانی حقوق کمیشن رپورٹ کے مطابق 94 ہزار سے زائد کشمیری بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں، جن میں 7 ہزار سے زائد افراد بھارتی حراست میں جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 1989 سے اب تک 10 ہزار سے زیادہ خواتین کو بھارتی فورسز کے ہاتھوں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

بھارت بھر میں مذہبی اور نسلی اقلیتوں پر ظلم و جبر بھی انتہائی سطح پر پہنچ چکا ہے۔ بی بی سی کے مطابق بھارتی مسلمان مودی دور حکومت میں اپنے مستقبل کے بارے میں شدید خوفزدہ ہیں جبکہ مودی کی ’’بلڈوزر پالیسی‘‘ کے تحت صرف گجرات میں سات ہزار سے زائد مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کیا جا چکا ہے۔ دوسری جانب عیسائی اقلیت بھی مذہبی عدم برداشت اور انتہاپسندی کا شکار ہے، جس کی تصدیق عالمی جریدے ’دی ڈپلومیٹ‘ نے کی ہے۔

منی پور سمیت شمال مشرقی بھارت میں نسلی تشدد انتہا کو پہنچ چکا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہو کر کیمپوں میں انتہائی کٹھن حالات گزارنے پر مجبور ہیں۔ اے پی نیوز کے مطابق یہ بحران بھارت کی بدترین داخلی صورتِ حال کی عکاسی کرتا ہے۔

آزادی اظہار اور صحافت پر پابندی بھی مودی راج کا نمایاں پہلو بن چکی ہے۔ انسانی حقوق کمیشن کے مطابق بھارت میں انسداد دہشت گردی کے قوانین کا غلط استعمال آزادی رائے کو سنگین خطرے میں ڈال رہا ہے جبکہ صحافیوں، کارکنوں اور ناقدین کے خلاف کارروائیاں معمول بن چکی ہیں۔

عالمی میڈیا اور انسانی حقوق تنظیموں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کے زیر اقتدار بھارت کا انسانی حقوق کا ریکارڈ شدید تنزلی کا شکار ہے۔ عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ بھارت میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیا جائے تاکہ پورے خطے کو مزید عدم استحکام سے بچایا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انسانی حقوق کی بھارت میں کے مطابق

پڑھیں:

خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور یمن کے حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر نئی پابندیوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت پہلی مرتبہ مئی کے آخر کے بعد 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کو برینٹ خام تیل کے سودے 6.58 ڈالر یعنی تقریباً 7 فیصد اضافے کے بعد 100.65 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی ایران پر مزید حملوں کی دھمکی، عالمی منڈی میں خام تیل 5 فیصد مہنگا ہو گیا

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں کا رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ حوثی بحیرہ احمر کے راستے باب المندب سے کن بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دیتے ہیں اور کنہیں نشانہ بناتے ہیں۔

حوثیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ سعودی عرب سے آنے والے تیل بردار جہازوں کی بحری ناکہ بندی کریں گے اور سعودی عرب، اسرائیل اور امریکا سے وابستہ آئل ٹینکروں کو باب المندب میں نشانہ بنائیں گے۔

The Houthi rebels of Yemen have resumed their attacks on Red Sea shipping, helping push oil prices above $100 a barrel for the first time in two months. Here's what to know https://t.co/z1WTQNtx7z

— Bloomberg (@business) July 24, 2026

یہ آبی گزرگاہ بحیرہ احمر کو بحرِ ہند سے ملاتی ہے اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

جمعرات کو حوثیوں نے 2 سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ کیا، جبکہ سعودی خبر رساں ایجنسی نے تصدیق کی کہ ان میں سے ایک جہاز میں آگ لگ گئی۔

تاہم دوسرے جہاز کی صورتحال فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی۔

مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں پھر کشیدگی، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

بحری تجزیاتی ادارے ونڈورڈ کی سینیئر میری ٹائم انٹیلیجنس تجزیہ کار مشیل بوکمین کے مطابق حوثیوں کی ناکہ بندی کی نوعیت ابھی پوری طرح واضح نہیں، اس لیے ماہرین خاص طور پر اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا چینی ملکیت کے آئل ٹینکر باب المندب سے بحفاظت گزر سکتے ہیں یا نہیں۔

ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق 20 جولائی کو سعودی خام تیل لے جانے والے 2 ایسے جہاز باب المندب سے گزرے جن کا عملہ اور منزل چین تھی اور انہیں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حوثیوں کی کارروائیاں تیل کے بجائے جہازوں کی وابستگی کو مدنظر رکھ کر کی جا رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق حوثیوں نے ماضی میں بھی چین کے ساتھ نسبتاً نرم رویہ اختیار کیا تھا، جبکہ 2023 سے 2025 کے دوران انہوں نے غزہ جنگ کے تناظر میں اسرائیل اور امریکا سے وابستہ تجارتی جہازوں کو متعدد بار نشانہ بنایا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی حکمت عملی غیر متوقع ہوتی ہے، تاہم وہ بخوبی جانتے ہیں کہ محدود کارروائیاں بھی عالمی تیل کی منڈی کو شدید متاثر کر سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا کے ایران پر نئے حملے، تیل کی عالمی قیمتیں 6 ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

سینٹر فار اے نیو امریکن سیکیورٹی سے وابستہ ماہر ریچل زیمبا کا کہنا ہے کہ باب المندب کا موجودہ بحران ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے بحران کے بعد عالمی خام تیل کے ذخائر مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکے۔

ان کے مطابق متعدد اہم بحری گزرگاہوں پر بیک وقت کشیدگی عالمی توانائی کی منڈی کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔

ڈیزل کی قیمتوں پر بھی اثرات

ماہرین کے مطابق خام تیل کے ساتھ ساتھ ڈیزل کی قیمتیں بھی تیزی سے متاثر ہو رہی ہیں۔ امریکا میں پیٹرول کی اوسط قیمت 4.09 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ڈیزل کی اوسط قیمت 5.34 ڈالر فی گیلن ریکارڈ کی گئی۔

گیس بڈی کے پیٹرولیم تجزیہ کار پیٹرک ڈی ہان کے مطابق موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ ایک سے 2 ہفتوں کے دوران امریکا میں پیٹرول کی قیمت میں مزید 10 سے 20 سینٹ فی گیلن اضافہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیزل کی سپلائی پر دباؤ زیادہ ہے کیونکہ یوکرین کے ڈرون حملوں کے باعث روس کی متعدد آئل ریفائنریاں متاثر ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں روس نے ڈیزل کی برآمدات محدود کر دی ہیں۔

چین کا کردار بھی اہم

تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی تیل مارکیٹ میں چین کا کردار بھی اہم ہوگا۔ حالیہ مہینوں میں چین نے خام تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی کی، جس سے عالمی طلب پر دباؤ کم ہوا اور قیمتوں میں اضافے کی رفتار محدود رہی۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چین دوبارہ بڑے پیمانے پر خام تیل درآمد کرنا شروع کرتا ہے یا اپنے اسٹریٹجک ذخائر کے بجائے بیرونی خریداری بڑھاتا ہے تو عالمی منڈی میں قیمتوں پر مزید دباؤ آ سکتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، باب المندب اور آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال، روسی ریفائنریوں کی مشکلات اور امریکا میں آنے والے سمندری طوفانوں کا موسم، یہ تمام عوامل آئندہ ہفتوں میں عالمی تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آبنائے ہرمز امریکا باب المندب بحری گزرگاہوں پیٹرول چین حوثی خام تیل ڈالر فی گیلن ڈرون ڈیزل روس مشرق وسطیٰ یمن یوکرین

متعلقہ مضامین

  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی