اقوامِ متحدہ خاموش کیوں؟ کشمیریوں کا عالمی انسانی حقوق کے دن پر سوال
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
دنیا بھر میں ہر سال 10 دسمبر کو انسانی حقوق کا دن منایا جاتا ہے، مگر مقبوضہ جموں و کشمیر میں یہ دن ایک کڑی حقیقت کی تلخ یاد دہانی کے طور پر سامنے آتا ہے۔
کشمیری عوام اس دن کو احتجاج کے طور پر مناتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق گزشتہ 4 دہائیوں سے جاری سنگین صورتِ حال نے زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کر رکھا ہے۔
طویل محاصرے، تشدد، جبری گمشدگیاں، گرفتاریوں کا نہ رکنے والا سلسلہ اور بنیادی آزادیوں پر پابندیاں وہاں کے لوگوں کی روزمرہ حقیقت بن چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر کے شہر میر پور میں بھارت کے جارحانہ طرز عمل کے خلاف احتجاج
فوجی کارروائیوں نے ہزاروں خاندانوں کا مستقبل تاریک کر دیا ہے۔ بیسیوں گھر اپنے پیاروں سے محروم ہو چکے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں لوگ تاحال لاپتہ ہیں۔
گھروں پر چھاپے اور املاک کی تباہی اتنی عام ہو چکی ہے کہ اب اسے معمول کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
خواتین کی ایک بڑی تعداد بیوگی یا نیم بیوگی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے جبکہ بے شمار بچے یتیمی کا بوجھ اٹھائے بڑے ہو رہے ہیں۔
نوجوان اس صورتِ حال کا سب سے بڑا نشانہ بنے ہوئے ہیں، بے بنیاد گرفتاریاں، حراستی مراکز میں تشدد اور ماورائے عدالت قتل انہیں شدید ذہنی و جسمانی اذیت سے دوچار کر رہے ہیں۔
پیلٹ گنز کے بے دریغ استعمال نے سینکڑوں نوجوانوں کی بینائی چھین لی، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی واضح مثال ہے۔
اس کے علاوہ مواصلاتی بندشیں، انٹرنیٹ کی معطلی، مسلسل کرفیو اور نقل و حرکت پر پابندیوں نے کشمیریوں کو دنیا سے تقریباً الگ تھلگ کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت کے یوم جمہوریہ پر فرینکفرٹ میں کشمیری اور سکھ کمیونٹی کا احتجاجی مظاہرہ
تعلیمی اداروں کی بار بار بندش، روزگار کے مواقع میں کمی اور کاروباری سرگرمیوں کی کمزوری نے سماجی ڈھانچے کو مزید غیر مستحکم کر دیا ہے۔
5 اگست 2019 کے بعد کی صورتحال نے مقامی آبادی کے خدشات میں مزید اضافہ کیا ہے۔
نئے قوانین، ڈومیسائل پالیسی، زمینوں کی تحویل اور سیاسی تبدیلیوں نے لوگوں کو اپنی شناخت، زمین اور مستقبل کے حوالے سے شدید عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارتی فوج کے زیرِحراست 4 کشمیریوں کی ہلاکت، پونچھ کمیونٹی کی برہنہ احتجاجی پریس کانفرنس
پاسبانِ حریت کے چیئرمین عزیر احمد غزالی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے طے شدہ انسانی وقار، بنیادی آزادیوں اور مساوات کے اصول کشمیر میں بری طرح پامال ہو رہے ہیں۔
ان کے مطابق زندگی کے حق، مذہبی آزادی، اظہارِ رائے، غیر قانونی گرفتاریوں سے تحفظ، تعلیم، صحت، روزگار اور فلاحی سہولیات جیسے بنیادی حقوق کشمیری عوام کو میسر نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بچوں، خواتین، معذور افراد اور اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق عالمی معاہدوں کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، اس لیے اقوامِ متحدہ کو فوری اقدام کرنا چاہیے تاکہ بھارت کو اپنی پالیسیاں تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
انہی حالات کے باعث کشمیری ہر سال عالمی انسانی حقوق کے دن کے موقع پر سڑکوں پر نکل کر دنیا کو یاد دلاتے ہیں کہ ان کی جدوجہد ابھی جاری ہے۔
وہ عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان پر ہونے والے جبر، تشدد، جبری گمشدگیوں اور آزادی پر پابندیوں کا نوٹس لیا جائے، انہیں انصاف فراہم کیا جائے، بنیادی انسانی حقوق بحال کیے جائیں اور اپنے مستقبل کے فیصلے کا حق واپس دیا جائے، وہ حق جس کے لیے وہ دہائیوں سے قربانیاں دے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ انٹرنیٹ انسانی حقوق پاسبانِ حریت تشدد جبر جبری گمشدگیوں عدم تحفظ عزیر احمد غزالی کشمیر مذہبی آزادی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ انٹرنیٹ پاسبان حریت جبری گمشدگیوں عزیر احمد غزالی کر دیا ہے رہے ہیں
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔