وزیراعظم کی یو اے ای کے قومی دن ’عیدالاتحاد‘ کی تقریب میں شرکت، کیک کاٹا
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی، مصنوعی ذہانت، زراعت اور دوسرے شعبوں میں یو اے ای کی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کریں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں متحدہ عرب امارات کے قومی دن ’عید الاتحاد‘ کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا، جہاں انہوں نے کیک بھی کاٹا۔
مزید پڑھیں: پاکستان یو اے ای سفارتی تعلقات میں پیشرفت، سفارتی و سرکاری پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سہولت فعال
اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزرا، ارکان پارلیمان اور غیرملکی سفارتکاروں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔
وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کے یوم اتحاد پر اماراتی قیادت اور عوام کو دلی مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ یو اے ای کے قومی دن کی تقریب میں شرکت ان کیلئے باعث اعزاز ہے۔
وزیراعظم نے یو اے ای کی موجودہ قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں یو اے ای نے ترقی کی نئی منازل طے کیں اور ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔
وزیراعظم نے شیخ زید بن سلطان النہیان کو امارات کی ترقی کا بانی اور پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات کا معمار قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو یو اے ای کے ساتھ اسٹرٹیجک شراکت داری پر فخر ہے۔ متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہاکہ قابل تجدید توانائی، مصنوعی ذہانت زراعت اور دوسرے شعبوں میں یو اے ای کی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کریں گے۔ 1.
انہوں نے اس توقع کا اظہار کیاکہ آنے والے وقت میں دونوں ممالک کی تزویراتی شراکت داری مزید مستحکم ہوگی۔
انہوں نے یو اے ای کی ترقی و خوشحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔ قبل ازیں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے سفیر سالم محمد الزاعابی نے تقریب میں وزیراعظم کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے 5 دہائیوں سے دیرینہ اور گہرے و تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں، وقت کے ساتھ دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان مارٹ: برآمدات کے فروغ کے لیے یو اے ای میں وزارت تجارت کا انقلابی اقدام
انہوں نے پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کو پرکشش قرار دیتے ہوئے کہاکہ یو اے ای پاکستان میں قابل تجدید توانائی ، مصنوعی ذہانت، آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔
انہوں نے پاکستان اور یو اے ای کے مابین ہم آہنگی، ترقی و خوشحالی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ بعد ازاں وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کے قومی دن کی مناسبت سے کیک بھی کاٹا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews شہباز شریف عیدالاتحاد قومی دن وزیراعظم پاکستان وی نیوز یو اے ای
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شہباز شریف عیدالاتحاد وزیراعظم پاکستان وی نیوز یو اے ای متحدہ عرب امارات دیتے ہوئے کہا سرمایہ کاری یو اے ای کی یو اے ای کے نے پاکستان کے قومی دن کا اظہار انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔