اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے گوادر اور گلگت بلتستان میں بجلی کے منصوبوں کی منظوری دے دی۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پاور سیکٹر میں جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس ہوا۔

اجلاس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گوادر پورٹ سٹی میں بجلی کی فراہمی میں درپیش مسائل کو ختم کرنے کیلئے جامع منصوبہ پر فوری عملدرآمد کی منظوری دے دی، انہوں نے ہدایت کی کہ گوادر پورٹ سٹی کو بلا تعطل، مناسب قیمت اور قابل بھروسہ بجلی کی فراہمی کے منصوبوں پر تمام متعلقہ ادارے ہم آہنگی سے کام کریں۔

انہوں نے کہا کہ 100 میگا واٹ سولر پراجیکٹ سے گلگت بلتستان میں ماحولیاتی اعتبار سے صاف بجلی کی بلا تعطل اور مستحکم فراہمی کو یقینی بنایا جائے، انہوں نے خصوصی ہدایت کی کہ سولر پراجیکٹ پر فوری عمل درامد شروع کیا جائے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام کی فلاح و بہبود اور معاشی ترقی، وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، گلگت میں صنعتی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کے مسائل کو حل کرنے کیلئے احسن اقبال کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی اور وزرات توانائی کی سفارشات اور اقدامات قابل تحسین ہیں، تیار کردہ جامع حکمت عملی میں شامل فوری، قلیل مدتی اور طویل مدتی پراجیکٹس پر وزارت توانائی مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گوادر میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی، ملکی معاشی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری میں ترقی کو یقینی طور پر بڑھانے کا سبب بنے گی، صنعتوں اور سرمایہ کاروں کیلئے پاکستان میں قائم کردہ صنعتوں کیلئے بجلی کی فراہمی کو علاقائی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق کیا جائے، بجلی کی بلا تعطل فراہمی اور دیگر سہولیات سے گوادر کی بندرگاہ دنیا کی بہترین بندرگاہ اور مستقبل میں معاشی سرگرمیوں کا مرکز بن جائے گی۔

وفاقی وزیر برائے توانائی نے دوران بریفنگ بتایا کہ گوادر میں وزارت توانائی کی طرف سے فوری اقدامات کی وجہ سے بجلی کی فراہمی میں تعطل کو 42 فیصد پہلے ہی کم کیا جا چکا ہے، بجلی کی فراہمی میں تعطل ختم کرنے کے بعد، آئندہ چھ ماہ میں گوادر میں فراہم کردہ بجلی کی وولٹیج کو مستحکم کرنے کیلئے بھی جامع پلان ترتیب دیا جا چکا ہے۔

بریفنگ میں کہا گیا کہ گوادر میں گھریلو اور کاروباری صارفین کو بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کیئیے موثر اور مفید اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، قلیل مدتی پراجیکٹس میں آئندہ آٹھ سے 12 ماہ میں بڑے سرکاری اداروں میں 9.

7 میگا واٹ کی سولر کپیسٹی نصب کی جائے گی۔

دوران بریفنگ مزید کہا گیا کہ گوادرکے طویل مدتی پراجیکٹس میں 40 میگا واٹ کا منصوبہ مستحکم بجلی کی سپلائی کو یقینی بنانے کیلئے نصب کیا جائے گا، گوادر میں جاری صنعتی اور معاشی ترقی، گوادر کی بندرگاہ اور شہری علاقوں میں توسیع کے باعث ائندہ سالوں میں بجلی کی طلب میں 30 فیصد اضافے کا امکان ہے۔

وفاقی وزیر برائے توانائی نے بتایا کہ گلگت بلتستان میں سو میگا واٹ کا سولر پراجیکٹ دو حصوں پر مشتمل ہے جس میں 18 میگا واٹ چھتوں پر سولر پروگرام اور 82 میگا واٹ یوٹیلٹی سکیل سولر پر مشتمل ہے،گلگت بلتستان میں چھتوں اور یوٹیلٹی سطح پر سولر پراجیکٹ کو 2027 تک مکمل کیا جائے گا۔

بریفنگ میں مزید کہا گیا کہ گلگت بلتستان کی حکومت اور وزارت توانائی کے مشترکہ پراجیکٹس سے حکومت کو سالانہ ایک ارب روپے کی بچت ہوگی، حکومت گلگت بلتستان بجلی کے منصوبوں کیلئے زمین، مواصلات، انفراسٹرکچر اور دیگر سہولیات کی فراہمی مقررہ وقت میں یقینی بنائے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: گلگت بلتستان میں بجلی کی فراہمی سولر پراجیکٹ کے منصوبوں شہباز شریف گوادر میں کو یقینی کیا جائے میں بجلی میگا واٹ بلا تعطل کہ گوادر سولر پر بجلی کے کیا جا

پڑھیں:

وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

مزید :

متعلقہ مضامین

  • توانائی بچت مہم، وزیراعظم نے کاروباری اوقات کار کی منظوری دیدی
  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا