وزیر اعظم کی گوادر اور گلگت بلتستان میں بجلی کے منصوبوں کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
ویب ڈیسک:وزیر اعظم شہباز شریف نے گوادر اور گلگت بلتستان میں بجلی کے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاور سیکٹر میں جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں گوادر پورٹ سٹی میں بجلی کی فراہمی میں درپیش مسائل کو ختم کرنے کے لیے جامع منصوبہ پر فوری عملدرآمد کی منظوری دی گئی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ گوادر پورٹ سٹی کو بلاتعطل، مناسب قیمت اور قابل بھروسہ بجلی فراہمی کے منصوبوں پر تمام متعلقہ ادارے ہم آہنگی سے کام کریں۔
ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کا معاملہ، اربن اور انٹر سٹی روٹس پر ٹرانسپورٹ فعال
انہوں نے کہا کہ 100 میگاواٹ سولر پروجیکٹ سے گلگت بلتستان میں بجلی کی بلاتعطل اور مستحکم فراہمی کو یقینی بنایا جائے، گلگت بلتستان میں سو میگاواٹ کے سولر پروجیکٹ پر فوری عملدرآمد شروع کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام کی فلاح و بہبود اور معاشی ترقی وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
گلگت بلتستان میں صنعتی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے مستقل جج سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا
وزیر اعظم نے کہا کہ بجلی مسائل کو حل کرنے کے لیے احسن اقبال کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی اور وزارت توانائی کی سفارشات اور اقدامات قابل تحسین ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تیار کردہ جامع حکمت عملی میں شامل فوری، قلیل و طویل مدتی پروجیکٹس پر وزارت توانائی مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان میں میں بجلی کہا کہ
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔