بنگلہ دیش کے مشیرِ داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد جہانگیر عالم چوہدری نے کہا ہے کہ آئندہ عام انتخابات کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔

ان کے مطابق ان انتظامات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خصوصی تربیت، باڈی کیمروں کی خریداری، اور ہر پولنگ سینٹر میں بلا تعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانا شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں عام انتخابات کا شیڈول کب جاری ہوگا؟ الیکشن کمیشن نے اعلان کردیا

سیکریٹریٹ میں قانون و امن عامہ سے متعلق مشاورتی کونسل کے 17ویں اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزاد، منصفانہ، محفوظ اور شفاف انتخابات کے لیے سیکیورٹی اہلکاروں کی مناسب تربیت ناگزیر ہے۔

Today, @UNinBangladesh briefed registered political parties on its technical assistance to the Bangladesh Election Commission for the upcoming national parliamentary election.

Learn more about the briefing session and UN's BALLOT project from here: https://t.co/T591QRwbxM pic.twitter.com/NCREvhsJSe

— UN in Bangladesh (@UNinBangladesh) December 4, 2025

’ان کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی تربیت جنوری تک جاری رہے گی۔‘

مشیر داخلہ نے تصدیق کی کہ پولنگ کے اوقات میں ایک گھنٹے کا اضافہ کر دیا گیا ہے، اب ووٹنگ صبح 7:30 بجے سے شام 4:30 بجے تک ہو گی۔

’چونکہ ووٹوں کی گنتی سورج غروب ہونے کے بعد بھی جاری رہے گی، اس لیے حکومت تمام مراکز میں بجلی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے پر کام کر رہی ہے۔‘

مزید پڑھیں:بنگلہ دیش انتخابات سے قبل سی آئی ڈی اور ٹک ٹاک کا تعاون بڑھانے پر اتفاق

جہانگیر عالم چوہدری نے کہا کہ نئے ’جولائی میوزیم‘ کے عوامی افتتاح سے قبل سیکیورٹی کے جامع انتظامات کے لیے مشاورت کی گئی تاکہ شہری محفوظ ماحول میں میوزیم کا دورہ کر سکیں۔

رنگپور میں ایک پولیس اہلکار کے والدین کے قتل کے واقعے پر انہوں نے کہا کہ مجرموں کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کی آئندہ عام انتخابات کے شفاف انعقاد کے لیے کامن ویلتھ سے تعاون کی درخواست

لوٹے گئے ہتھیاروں کی بازیابی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ یہ عمل جاری ہے۔

سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع فراہم کرنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت واقعی آزاد اور منصفانہ انتخابات کرانے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جاتیہ پارٹی کو انتخابی مہم سے روکا جا رہا ہے، ان کے مطابق پارٹی کے مسائل اس کے اپنے داخلی اختلافات اور دفتر کے تنازعے سے جڑے ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بجلی بنگلہ دیش پولنگ جولائی میوزیم عام انتخابات منصفانہ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بجلی بنگلہ دیش پولنگ جولائی میوزیم عام انتخابات منصفانہ عام انتخابات بنگلہ دیش نے کہا کہ انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن