پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت مزید بڑھانے کے تیاریاں
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
پیٹرول اورڈیزل پرمارجن میں اوسط فی لیٹرایک روپے20 پیسے اضافے کا امکان
پیٹرول پراوایم سیز،ڈیلرز مارجن کاشہریوں پرفی لیٹربوجھ 16۔51روپے برقرار
معلوم ہوا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے شہریوں پرایک اور اضافی بوجھ ڈالنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ذرائع بتا رہے ہیں کہ پیٹرول،ڈیزل کیفی لیٹرپراوایم سیز،ڈیلرزمارجن1۔10سے 1۔28روپے تک بڑھانے کی تجویز پر عمل کرنے کے لئے غور کیا جا رہا ہے۔پیٹرول اورڈیزل پرمارجن میں اوسط فی لیٹرایک روپے20 پیسے اضافے کا امکان ہے۔ او ایم سی اور ڈیلر کا منافع بڑھانے سے پٹرول اور ڈیزل کے کنزیومرز پر2روپے 40پیسے تک فی لیٹرکااضافی بوجھ پڑسکتاہے۔ذرائع کے مطابق پیٹرول اورڈیزل پر او ایم سی اور ڈیلر کا مارجن بڑھانے کی منظوری اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی سے لی جائے گی۔ اس ضمن میں ایک سمری ای سی سی کے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔ای سی سی سے منظوری مل گئی تو اس تجویز کی توثیق کے لئے ایک سمری وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش ہو گی۔ اس وقت پیٹرول پراوایم سیز،ڈیلرز مارجن کاشہریوں پرفی لیٹربوجھ 16۔51روپے ہے۔ ڈیزل پربھی او ایم سیز،ڈیلرز مارجن کا شہریوں پر فی لیٹربوجھ16۔51روپے ہے۔اس وقت ایک لیٹر پیٹرول،ڈیزل پرآئل مارکیٹنگ کمپنیوں کامنافع7روپے87 پیسے ہے۔ فی لیٹر پیٹرول اورڈیزل پراس وقت ڈیلرزکاکمیشن 8روپے 64پیسے لاگو ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پیٹرول اورڈیزل
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔